وہ بچے جو 2010 کے بعد پیدا ہوئے ہیں، ٹیکنالوجی کا بے دریغ استعمال ان پہ بہت برے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ آئی پیڈز اور آئی فونز کا زیادہ استعمال بچوں میں معاشرتی مسائل، اخلاقیات کے خاتمے، اور جذباتی پیچیدگیوں کو جنم دیتا ہے۔

2010یا اس کے بعد پیدا ہونے والے بچوں کو آئی پیڈز کے بے دریغ مسلسل استعمال کی وجہ سے آئی پیڈز بچے بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں ایسا کہنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ آئی پیڈ بھی 2010 میں آیا تھا۔ ان سالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو ٹیکنالوجی تک کھلم کھلا رسائی حاصل ہے، جس کی وجہ سے ان بچوں کا قدرتی چیزوں سے تعلق منقطع ہو کر رہ گیا ہے۔ موبائل فونز کا زیادہ استعمال ان بچوں میں تنقیدی سوچ کو ختم کر رہا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں جذبات سمجھنے میں اور معاشرے میں تعلق بنانے میں مشکلات کا سامنا ہوا ہے۔

یہ تحقیق بتاتی ہے کہ جو بچے سکرینز پر حد سے زیادہ وقت گزارتے ہیں، انہیں اپنے ہاتھوں سے کام کرنے مثلاً پڑھنے اور لکھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے بچے سمارٹ فونز سے روایتی انداز میں صلاحیتیں سیکھنے میں مشغول رہتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے کوئی کام نہیں کرتے۔ 

تحقیق کے مطابق سکرینز پہ حد سے زیادہ وقت بچوں میں معاشرتی، جذباتی، اور اپنی اہمیت کے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ بچے انسانوں کے چہروں کے تاثرات کو سمجھنے میں اور نئی معاشرتی صلاحیتیں سیکھنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ جب والدین بچوں سے آئی پیڈز کو لینے کی کوشش کرتے ہیں تو بچے غصے اور مایوسی میں خطرناک حد تک ردعمل دیتے ہیں۔

تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ بچے جو ایک دن میں دو گھنٹے سے زیادہ وقت آئی پیڈز استعمال کرنے میں گزارتے ہیں وہ معاشرتی اور جذباتی مسائل کا سامنا زیادہ کرتے ہیں۔ آئی پیڈز استعمال کرنے کے دوران وہ اپنی اہمیت کے مسائل کا بھی سامنا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اگر ان کو یہ اہمیت نہیں ملتی تو وہ اس پر غصے سے ردعمل دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 2017 تک 80 فیصد بچوں کی رسائی آئی پیڈز یا اس سے ملتی جلتی مصنوعات تک ہو چکی تھی۔

ان بچوں کے ٹیچرز کے مطابق، یہ بچے تعلیمی میدان میں بھی بہت پیچھے رہنے ہیں۔  ان کے رویے کو برداشت کرنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ یہ بچے اپنے ٹیچرز کی عزت نہیں کرتے اور برا رویہ اپناتے ہیں۔ کچھ ٹیچرز صرف اس بات سے اپنی نوکری چھوڑ رہے ہیں کیونکہ وہ ان بچوں کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

کیونکہ سمارٹ فونز بچوں کو فوری تسکین دیتے ہیں اور اسی وجہ سے جب بچوں کو فونز میسر نہیں ہوتے تو وہ بور محسوس کرتے ہیں۔

تحقیق اس بات پہ زور دیتی ہے کہ یہ مسلہ صرف بچوں کی حد تک نہیں ہے بلکہ اس میں والدین کی کوتاہی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ والدین بچوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے انہیں آئی پیڈز دے دیتے ہیں تا کہ بچے انہیں تنگ نہ کریں۔ تحقیق اس بارے میں والدین کی حوصلہ شکنی کرتی ہے کہ انہیں ایسا کرنے کی بجائے بچوں سے بات کرنی چاہیے۔ انہیں گھر سے باہر لے کر جائیں تاکہ وہ معاشرے کے ساتھ ہمکلام ہوں۔

والدین کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آئیں۔ اگر بچے غصہ کر رہے ہیں تو انہیں پیار سے سمجھایا جائے۔ انہیں پارک وغیرہ لے جائیں تا کہ وہ قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوں اور اپنا بچپن خوبصورتی سے گزاریں۔