تفصیلات کے مطابق مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے انتقال کی خبر ان کے آفیشل فیس بک پیج کے ذریعے جاری کی گئی، جس کے مطابق ان کی نماز جنازہ اور تدفین نماز عصر کے بعد جامعہ سید احمد شہید، کٹولی، ملیح آباد میں ادا کی گئی۔

مولانا سید سلمان حسینی ندوی برصغیر کی معروف دینی درسگاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے طویل عرصے تک وابستہ رہے اور تدریس، تحقیق، تصنیف اور دعوت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ دینی، تعلیمی، فکری اور بین الاقوامی علمی حلقوں میں ان کی خدمات کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔

وہ عربی، اردو اور انگریزی زبانوں پر یکساں عبور رکھتے تھے اور سیرت النبی، حدیث، فقہ، اسلامی فکر، دعوت اور معاصر مسائل پر درجنوں کتابیں اور تحقیقی مقالات تصنیف کر چکے تھے۔ ان کی علمی و فکری خدمات نے برصغیر سمیت دنیا بھر کے علمی حلقوں کو متاثر کیا۔

مولانا سلمان حسینی ندوی بین المسالک ہم آہنگی، امت مسلمہ کے اتحاد اور عصری مسائل پر علمی رہنمائی کے حوالے سے بھی سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔ ان کا اندازِ خطابت علمی، مؤثر اور دل نشین تھا، جس کی وجہ سے پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں ان کے خطابات کو بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔

مولانا سید سلمان حسینی ندوی کے انتقال کی خبر پر پاکستان، انڈیا اور دیگر ممالک کے علماء، دینی اداروں، سیاسی و سماجی شخصیات اور ان کے عقیدت مندوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی، علمی اور فکری خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال علمی و دینی دنیا کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔