اداکارہ رمشا خان نےبی بی سی اردوکو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے ڈرامے بریانی اور شوبز انڈسٹری میں موجود رویوں پر کھل کر گفتگو کی ہے۔
رمشا خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شوبز انڈسٹری میں مرد اداکاروں کو خصوصی رعایتیں دی جاتی ہیں، جب کہ خواتین اداکاراؤں کو اکثر غیر منصفانہ رویوں اور سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کسی اداکارہ سے معمولی غلطی بھی ہو جائے تو اسے فوراً ذمے دار ٹھہرا دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کل تعلیمی اداروں میں ایسے تعلقات عام ہیں، ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ جب میں خود اسکول میں تھی تو یہ سب عام بات تھی۔
اداکارہ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہہماری عوام اداکاراؤں کو ایک مخصوص سانچے میں دیکھنا چاہتی ہے، لیکن مرد اداکاروں کے لیے کوئی حد مقرر نہیں۔
اگر کوئی مرد تمباکو نوشی کرے یا کسی کو دھوکہ دے تو کوئی بات نہیں، مگر ایک خاتون اداکارہ اگر بغیر آستین کے لباس میں نظر آئے تو فوراً تنقید شروع ہو جاتی ہے۔
رمشا خان نے بتایا کہ ناظرین اکثر ڈرامے میں اداکاراؤں کے کردار کو ان کی حقیقی شخصیت سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں وہ کردار سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔
ان کے مطابق، شوبز انڈسٹری میں عورت مخالف سوچ گہرائی سے رچی بسی ہے۔ سیٹ پر مرد اداکاروں کو خصوصی سہولتیں اور نرمی ملتی ہیں، جب کہ خواتین کو زیادہ دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو الزام ہمیشہ اداکارہ پر آتا ہے۔
رمشا خان نے اعتراف کیا کہ بدقسمتی سے ہمارے ڈراموں کی کہانیوں میں بھی عورت مخالف سوچ نمایاں ہے، جو دراصل معاشرتی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس انڈسٹری میں ان کا کوئی دوست نہیں اور نا ہی وہ کسی کے ساتھ ایسی دوستی رکھنا چاہتی ہیں، وہ گھر سے کام اور کام سے گھر آنے کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں۔
واضح رہے کہ رمشا خان ان دنوں اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈراما سیریل بریانی میں خوشحال خان کے ساتھ مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔
ڈرامے میں دونوں کو یونیورسٹی کے طلبہ کے طور پر دکھایا گیا ہے جن کی دوستی محبت میں بدل جاتی ہے۔ لیکن ناظرین کے ایک طبقے نے دونوں کے درمیان زیادہ قربت والے مناظر پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایسے مناظر ٹی وی پر نہیں دکھائے جانے چاہییں۔







