یہ حکم جسٹس جیوتی سنگھ نے سلمان خان کی درخواست پر جاری کیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ کسی بھی فرد کی ساکھ کو نقصان پہنچنے کے بعد اس کا ازالہ آسان نہیں ہوتا، اس لیے متنازع مواد کی تشہیر مزید جاری نہیں رہنی چاہیے۔
عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ فلم کے تشہیری مواد میں ایسے واضح اشارے موجود ہیں جو سلمان خان کو 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس اور گینگسٹر لارنس بشنوئی سے وابستہ تنازع سے جوڑتے ہیں۔ عدالت کے مطابق اس نوعیت کا تاثر نہ صرف اداکار کی شہرت بلکہ ان کی سلامتی کے لیے بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
The Delhi High Court on Monday directed the removal of multiple online links related to the teaser of the upcoming film Kala Hiran: The Battle for Legacy, which is reportedly inspired by Salman Khan s 1998 blackbuck poaching case. The direction came while hearing an application… pic.twitter.com/pIbLCrQlp5
— DNA (@dna) July 27, 2026
سلمان خان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ فلم میں اداکار کا نام براہِ راست استعمال نہیں کیا گیا، تاہم مرکزی کردار کو سلمان خان سے مشابہ دکھایا گیا ہے۔ وکلا کے مطابق اس کردار کے ہاتھ میں سلمان خان جیسا مخصوص نیلا بریسلٹ پہنایا گیا تاکہ ناظرین اسے حقیقی اداکار سے منسلک کریں۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیزر میں اس کردار کو بندوق کے ساتھ دکھایا گیا، جس سے عوام میں غلط تاثر پیدا ہو سکتا ہے، حالانکہ سلمان خان اسلحہ ایکٹ سے متعلق مقدمے میں پہلے ہی عدالت سے بری ہو چکے ہیں۔
درخواست گزار کے وکلا نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ فلم کے پروڈیوسر نے سلمان خان کے ماضی کے مقدمات اور لارنس بشنوئی کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کو فلم کی تشہیر اور تجارتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، جو ان کی ساکھ کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
عدالتی فیصلے کے بعد پروڈیوسر امیت جانی کو ہدایت کی گئی ہے کہ سلمان خان سے منسلک تمام تشہیری مواد، ویڈیوز اور میڈیا انٹرویوز سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور یوٹیوب سمیت دیگر آن لائن ذرائع سے بھی ہٹا دیے جائیں۔






