حال ہی میں ان کا نجی ٹی وی پروگرام روشن سویرا میں دیا گیا ایک انٹرویو وائرل ہو رہا ہے،جس میں وہ کم عمری کی شادیوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتی ہیں۔
غزالہ جاوید نے کہا کہ آج کی لڑکیاں سمجھتی ہیں کہ شادی کرنے سے ان کی زندگی کی آزادی اور تفریح ختم ہوجائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ میچور لڑکیوں کو شادی کے بعد ایڈجسٹ ہونے میں زیادہ مشکلات پیش آتی ہیں، جب کہ کم عمر لڑکیاں نسبتاً آسانی سے نئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھال لیتی ہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ ان کی اپنی شادی 16 سال کی عمر میں ہوئی تھی اور 18 سال کی عمر میں وہ ایک بیٹی کی ماں بن گئی تھیں۔ ان کے مطابق ماضی میں کم عمری کی شادیاں عام تھیں اور زیادہ تر کامیاب بھی ثابت ہوتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ شادی کسی بھی عمر میں ہو، اسے کامیاب بنانے کے لیے سب سے پہلے ساسوں کو اپنا رویہ بدلنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ساسوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ کسی کی بیٹی کو اپنے گھر لا رہی ہیں، جب تک وہ اسے اپنی بیٹی نہیں سمجھیں گی، تب تک وہ لڑکی بھی انہیں اپنا نہیں پائے گی۔
غزالہ جاوید نے مزید کہا کہ اب زمانہ بدل چکا ہے، اب لڑکے ایسی لڑکیاں چاہتے ہیں جو نہ بہت زیادہ پڑھی لکھی ہوں اور نہ بالکل کم تعلیم یافتہ، بلکہ درمیانی تعلیم یافتہ ہوں تاکہ وہ آنے والی نسل کی بہتر تربیت کر سکیں۔







