عاطف اسلم نے کہا کہ "مجھے ہر شو میں جانا ضروری نہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ میں زیادہ فیس مانگتا ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ مجھے اپنے پروگرام میں ضرور چاہتا ہے۔ اللہ نے مجھے عزت دی ہے، اگر مصروفیت کی وجہ سے میں کہیں نہ جا سکوں تو میں اس پر شرمندہ نہیں ہوتا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ میزبان انٹرویو ختم ہونے کے بعد اپنا رویہ بدل لیتے ہیں۔ "میں انڈسٹری کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ ہر خود اعتمادی کو تکبر نہیں سمجھنا چاہیے۔ تکبر کسی پر اچھا نہیں لگتا۔"

عاطف اسلم نے اپنی کامیابی کے سفر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے بہت کم عمر میں وہ حاصل کیا جو لوگ پوری زندگی میں حاصل کرتے ہیں۔ 18 سال کی عمر تک شہرت، کنسرٹس اور گانوں کی کامیابی نے مجھے خوشی دی، لیکن وقت کے ساتھ میں نے سیکھا کہ کامیابی صرف دوڑنے کا نام نہیں، سفر کا لطف اٹھانا بھی ضروری ہے۔"

یاد رہے کہ اس سے پہلے تابش ہاشمی نے کہا تھا کہ کچھ لوگ انٹرویو کے لیے ایک کروڑ روپے تک مانگتے ہیں جبکہ نادیہ یاسر نے بھی عاطف اسلم سے درخواست کی تھی کہ وہ فیس کم کریں اور ان کے مارننگ شو میں شرکت پر غور کریں۔