عاطف اسلم جنوبی ایشیا کے ان چند فنکاروں میں شمار ہوتے ہیں جن کی مقبولیت وقت کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی گئی۔ معروف آڈیو اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ان کے گیت اب تک تقریباً 8 ارب مرتبہ سنے جا چکے ہیں، جب کہ ان کے ماہانہ سامعین کی تعداد 3 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کی موسیقی دنیا کے 184 ممالک میں باقاعدگی سے سنی جاتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران عاطف اسلم کے گانوں کو 96 فیصد مرتبہ پاکستان سے باہر سنا گیا، جن میں مشرق وسطیٰ، شمالی امریکا، یورپ اور ایشیا پیسیفک کے ممالک نمایاں رہے۔

روایتی پاپ، فلمی موسیقی اور روحانی کلام سمیت مختلف اصناف میں اپنی منفرد پہچان رکھنے والے عاطف اسلم آج بھی نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی  میں بے حد مقبول ہیں۔ ان کے گیت سننے والوں میں 85 فیصد نوجوان شامل ہیں، جب کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 4 کروڑ 10 لاکھ سے زائد نئے اور پرانے سامعین نے ان کی موسیقی سنی۔ دنیا بھر میں ان کے گیت 3 کروڑ 75 لاکھ سے زائد ذاتی پلے لسٹس کا حصہ بن چکے ہیں۔

اپنی نئی البم کے بارے میں عاطف اسلم کا کہنا ہے کہ ’صبح آئے نا‘ ان کی زندگی کے اندرونی انتشار سے نکل کر اپنی حقیقی ذات تک پہنچنے کے سفر کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس البم کو مداحوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے بے حد پرجوش ہیں۔

31 جولائی کو ریلیز ہونے والی اس البم میں مجموعی طور پر 8 گیت شامل ہیں، جن میں صبح آئے نا، سفر میں ہوں، عشق، لیٹس ہیو سم فن، سن سجنا، ہوں عشق میں، چار یار اور سچے وعدے شامل ہیں۔

عاطف اسلم کی یہ البم ان کے مداحوں کے لیے طویل انتظار کے بعد ریلیز ہو رہی ہے۔ موسیقی کے شائقین کو امید ہے کہ ’صبح آئے نا‘ بھی ان کے سابقہ مقبول گیتوں کی طرح عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کرے گی اور اسپاٹیفائی سمیت دیگر میوزک پلیٹ فارمز پر نمایاں مقام بنائے گی۔