تفصیلات کے مطابق مظاہرین نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صنعتی شعبے کے خلاف مبینہ کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر واہگہ کے کردار کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

صنعتکاروں کا کہنا تھا کہ حالیہ کارروائیوں، خصوصاً مسعود ٹیک انڈسٹریز میں پیش آنے والے واقعے، نے صنعتی برادری میں خوف و ہراس اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر تحقیقات میں اختیارات کے ناجائز استعمال یا قانونی طریقہ کار سے انحراف ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

احتجاجی دھرنے سے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ اور ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن رانا شعبان اختر نے خطاب کیا، جب کہ داروغہ والا انڈسٹریل ایسوسی ایشن اور مختلف صنعتی تنظیموں کے عہدیداران اور صنعتکاروں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوئی۔

شرکا نے کہا کہ داروغہ والا، سگیاں، محمود بوٹی اور ملحقہ علاقوں میں قائم صنعتیں کئی دہائیوں سے ملکی معیشت، برآمدات، ٹیکس آمدن اور لاکھوں افراد کے روزگار میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم حالیہ سرکاری کارروائیوں کے باعث سرمایہ کار شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ صنعتی علاقوں میں قائم یونٹس کو فوری طور پر ریگولرائز کیا جائے، سڑکوں، سیوریج، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، جب کہ صنعتکاروں کے خلاف بلاجواز کارروائیاں بند کی جائیں۔

صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (ایس ایم ایز) ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، لیکن انہیں سہولتیں دینے کے بجائے مختلف انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایم ای سیکٹر لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے، نئی سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس شعبے کو مشکلات میں دھکیلنا ملکی معیشت کے مفاد میں نہیں۔

فہیم الرحمن سہگل کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں حکومتیں صنعتوں کے فروغ اور سرمایہ کاروں کو سہولتیں فراہم کرنے کی پالیسیوں پر عمل کرتی ہیں، جب کہ پاکستان میں صنعتکار غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ معاشی ترقی، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا چاہتی ہے تو صنعتکاروں کے تحفظات دور کرتے ہوئے کاروبار دوست پالیسیاں اپنائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے اور یہ مقصد صرف مضبوط صنعتی شعبے کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں اور کاروباری برادری کے درمیان اعتماد کی فضا برقرار رکھنا سرمایہ کاری اور معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

صدر لاہور چیمبر نے حکومت پنجاب اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ صنعتوں کی منتقلی کے منصوبوں پر نظرثانی کی جائے، صنعتی علاقوں کی ریگولرائزیشن کو ترجیح دی جائے اور صنعتکاروں کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر اور مستقل نظام وضع کیا جائے۔

احتجاجی اجتماع سے خطاب کرنے والے دیگر صنعتکار رہنماؤں نے بھی کہا کہ داروغہ والا، سگیاں اور محمود بوٹی جیسے صنعتی علاقوں کو ختم یا منتقل کرنے کے بجائے انہیں جدید صنعتی زونز کی طرز پر سہولتیں فراہم کی جائیں اور کسی بھی فیصلے سے قبل تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رہے۔