یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جامعہ دارالعلوم کراچی نے گزشتہ ماہ ایک فتویٰ جاری کرتے ہوئے موجودہ صورتِ حال میں کرپٹو کرنسی کو شریعت کے مطابق "مال" قرار دینے سے انکار کیا تھا، جس کے نتیجے میں اسے ادائیگی کے جائز ذریعے کے طور پر بھی تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہ فتویٰ ایک سوال کے جواب میں جاری کیا گیا تھا جس میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے کتابیں اور آن لائن کورس خریدنے کے بارے میں رہنمائی طلب کی گئی تھی۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کے فتاویٰ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اس فتویٰ کے بعد حکومت پاکستان کی کرپٹو اثاثوں کو قانونی دائرے میں لانے کی کوششوں پر بھی سوالات اٹھے، کیونکہ حکومت ملک میں کرپٹو ایکسچینجز کو لائسنس جاری کرنے، ریاستی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے فروغ پر کام کر رہی ہے۔

بلال بن ثاقب نے کہا کہ ریگولیٹر دارالعلوم کراچی کے ساتھ اس بات پر مشاورت کر رہا ہے کہ تمام ڈیجیٹل اثاثوں کو ایک ہی زمرے میں رکھنے کے بجائے ہر قسم کا الگ الگ جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا، "اصل سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ڈیجیٹل اثاثہ شریعت کی نظر میں قابلِ تسلیم مال ہے یا نہیں۔ یہی درست سوال ہے، اسی لیے ہر ڈیجیٹل اثاثے کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لینا ضروری ہے۔"

ان کے مطابق بلاک چین پر ریکارڈ کیا گیا صکوک (اسلامی بانڈ) حقیقی اور آمدنی پیدا کرنے والے اثاثے میں ملکیت کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ سونے سے منسلک ڈیجیٹل ٹوکنز یا مکمل طور پر محفوظ  اسٹیبل کوائنز ایسے حقیقی اثاثوں پر قابلِ نفاذ حق رکھتے ہیں جنہیں ضرورت پڑنے پر واپس حاصل کیا جا سکتا ہے۔

بلال بن ثاقب نے واضح کیا کہ بلاک چین بذاتِ خود کوئی مالیاتی اثاثہ نہیں بلکہ ریکارڈ محفوظ رکھنے اور تصدیق کرنے کی ایک جدید ٹیکنالوجی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن ٹوکنز کے پیچھے کوئی حقیقی اثاثہ موجود نہیں اور جو صرف قیاس آرائی پر مبنی ہیں، ان کے بارے میں علمائے کرام کے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

چیئرمین پی وی اے آر اے کے مطابق اتھارٹی پاکستان کے لائسنسنگ فریم ورک، اسٹیبل کوائنز اور حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن سے متعلق پالیسی سازی کے دوران علمائے کرام سے مسلسل مشاورت جاری رکھے گی۔

مزید پڑھیں: ’انویسٹ پاک‘ پورٹل کا افتتاح: پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، وزیر خزانہ

انہوں نے کہا، "پاکستان کے پاس شریعت سے ہم آہنگ ڈیجیٹل مالیاتی نظام میں دنیا کی قیادت کرنے کا موقع موجود ہے، اور یہ قیادت علمائے کرام کے تعاون اور رہنمائی سے ہی ممکن ہوگی۔"

ادھر معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دارالعلوم کراچی کے فتویٰ سے بینکنگ شعبے میں کرپٹو اثاثوں کے استعمال کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، تاہم اب تک ملک میں کرپٹو ٹریڈنگ کے حجم پر اس کا کوئی نمایاں اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔