یہ اتفاق اسلام آباد میں پاک ایران مشترکہ تجارتی کمیٹی کے دسویں اجلاس میں ہوا، جس کی مشترکہ صدارت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ایران کے وزیر صنعت، کان کنی و تجارت نے کی۔
وزارتِ تجارت کے مطابق تین روزہ اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ متفقہ فیصلوں پر جلد عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تکنیکی کمیٹیوں کو اپنا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی حجم کو مرحلہ وار 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کے قواعد، ٹیرف میں کمی کے طریقۂ کار اور باہمی تجارتی سہولتوں کے فروغ پر بھی اہم پیش رفت ہوئی۔
وزارتِ تجارت کے مطابق پاکستان اور ایران نے بزنس ٹو بزنس (B2B) روابط مزید مضبوط بنانے، بارٹر ٹریڈ کے نظام کو وسعت دینے اور اسے زیادہ مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے چیدگی۔کوہک سرحدی مارکیٹ کے افتتاح کے عمل کو تیز کرنے اور مشترکہ سرحدی منڈیوں کے مؤثر انتظام و انصرام کے لیے مشترکہ کمیٹیاں قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔







