پیٹرولیم لیوی — یہ ایک ایسا چارج ہے جو حکومت ہر لیٹر پٹرول اور ڈیزل پر لگاتی ہے۔ یہ نہ سیلز ٹیکس ہے، نہ انکم ٹیکس — یہ ایک الگ کیٹیگری ہے جسے "نان ٹیکس ریونیو" کہتے ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کافی دنوں سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف بات کر رہے ہیں۔ لیکن پچھلے دنوں انہوں نے ایک بجٹ سیمینار میں جو اعداد و شمار دکھائے — شاید اس سے آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں۔
صرف اپریل 2024 سے مارچ 2026 تک — پاکستان حکومت نے پیٹرولیم لیوی سے تقریباً 2.7 ٹریلین روپے جمع کیے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے دو بڑے پروگرام ملتے ہیں — ایک 7 ارب ڈالر کا قرض، اور ایک 1.4 ارب ڈالر کا کلائمیٹ سپورٹ پروگرام۔ دونوں ملا کر تقریباً 2.3 ٹریلین روپے بنتے ہیں۔
یعنی آئی ایم ایف نے جتنا پیسہ دیا — اس سے زیادہ ریونیو حکومت نے صرف پیٹرولیم لیوی کے ذریعے عوام سے جمع کر لیا۔ آئی ایم ایف کے نمائندے جب بھی پاکستان آتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنا ریونیو بڑھائیں۔ اور حکومت کے پاس سب سے آسان آپشن ہوتا ہے پیٹرولیم لیوی۔
کیونکہ یہ تکنیکی طور پر "ٹیکس" نہیں ہے — اس لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے ساتھ شیئر بھی نہیں ہوتا۔ اور پوری رقم وفاقی حکومت کے پاس آتی ہے۔ 2016-17 کی بات کریں تو یہ لیوی 8 سے 10 روپے فی لیٹر تھی۔ آج بڑھ کر تقریباً 100 روپے سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔






