اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کے باعث ٹرانسپورٹ کا کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے اور موجودہ حالات میں کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ٹول ٹیکس 250 روپے سے بڑھا کر 750 روپے کر دیا گیا ہے جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کو 7 فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کیا جائے اور ٹول ٹیکس کو 2024 کی سطح پر واپس لایا جائے۔
عہدیداران نے مزید کہا کہ اگر کسی گاڑی میں ایک بھی غیر کسٹم شدہ کارٹن موجود ہو تو پوری گاڑی ضبط کر لی جاتی ہے، جبکہ ماضی میں صرف جرمانہ عائد کیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اوورلوڈنگ کی روک تھام فیکٹریوں میں لوڈنگ کے وقت کی جائے، موجودہ پالیسی کے تحت حکومت چالانوں کی مد میں آمدن حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایچ ٹی وی لائسنس کے حصول کے لیے ڈرائیورز کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو 8 اگست کو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔
دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے وفد کے ہمراہ ایڈیشنل آئی جی موٹروے جاوید اکبر ریاض سے ملاقات کی۔ وفد میں ملک شبر خان، چوہدری قمر زمان گل، بختاور خان، محمد پناہ اور محمد رؤف بھی شامل تھے۔
ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ آئی جی موٹروے کی ہدایت پر ہونے والی ملاقات میں ناجائز جرمانوں، ایکسل لوڈ قوانین اور اوورلوڈنگ کے معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایکسل لوڈ قوانین پر یکساں اور منصفانہ عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 10 ویلر گاڑیوں کے مجاز وزن اور دسمبر میں ہونے والی ملک گیر ہڑتال کے دوران کیے گئے وعدوں پر بھی بات ہوئی، تاہم مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 8 اگست کو ملک گیر پرامن ہڑتال ہر صورت ہوگی۔







