حصص بازار میں کاروبار کے دوران سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کا دباؤ غالب رہا، جس کے باعث مارکیٹ شدید مندی کا شکار رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب کیے۔
جولائی کے آغاز میں کے ایس ای 100 انڈیکس ایک لاکھ 84 ہزار 50 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی، جنگ بندی کے خاتمے اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار رہی۔
رواں ماہ 8 جولائی کو انڈیکس میں 4 ہزار 600 پوائنٹس، 14 جولائی کو 6 ہزار 400 پوائنٹس اور 16 جولائی کو تقریباً 2 ہزار 900 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جمعرات کو مزید 2 ہزار 690 پوائنٹس کی کمی کے بعد جولائی کے دوران مجموعی طور پر انڈیکس میں 12 ہزار 311 پوائنٹس کی گراوٹ آ چکی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کار جبران سرفراز نے کہا کہ جولائی کے دوران مشرق وسطیٰ میں جنگ کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر ہوا، جس سے حصص بازار مسلسل دباؤ کا شکار رہا۔
انہوں نے کہا کہ جمعرات کو مارکیٹ میں بڑی کمی کی بنیادی وجہ بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی سپلائی کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات تھے، جس کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 98 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ ان کے بقول تیل کی قیمتوں میں اضافے پر سرمایہ کاروں نے منفی ردعمل دیا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں فروخت کا رجحان بڑھ گیا







