امریکی خبر رساں ویب سائٹ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی خام تیل لے جانے والے دو ٹینکروں نے اپنی اگلی منزل پاکستان ظاہر کی ہے، جسے مبصرین ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس سے تاثر ملتا ہے کہ امریکی بحری ناکہ بندی نافذ ہونے کے بعد یہ جہاز کسی محفوظ مقام پر انتظار کرنا چاہتے ہیں۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق رانی اور امیل نامی ٹینکرز، جو مجموعی طور پر 10 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہے ہیں، منگل کے روز اچانک اپنا راستہ تبدیل کر کے کراچی کی جانب روانہ ہو گئے۔ دونوں جہاز امریکی بحریہ کی جانب سے ایرانی جہاز رانی پر نئی سمندری پابندیاں نافذ کیے جانے سے کچھ ہی دیر قبل خلیج سے روانہ ہوئے تھے۔
🚨🇮🇷🇵🇰 BREAKING : Two Iranian tankers Rani and Amil just switched destinations to Karachi, Pakistan, likely seeking safe harbor from the U.S. naval blockade. pic.twitter.com/riCrxIG9ON
— World Updates (@Updatesofwworld) July 15, 2026
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ یہ ٹینکرز اپنا تیل پاکستان میں اتاریں، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں پاکستان کو امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے کہ دونوں جہاز پاکستانی سمندری حدود کے قریب انتظار کریں یا اپنا خام تیل دوسرے جہازوں میں منتقل کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ایرانی تیل بردار جہاز کراچی کے ساحل کے قریب رکے ہوں۔
بلومبرگ کے مطابق ماضی میں بھی جب امریکا نے ایران پر بحری پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، ایران سے منسلک کئی خالی ٹینکر کراچی کے قریب سمندری علاقے میں لنگر انداز رہے تھے تاکہ خلیج کے نزدیک رہتے ہوئے مناسب وقت پر واپس جا کر نیا کارگو حاصل کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ یہ جہاز امریکی بحریہ کی نگرانی سے بچنے کے لیے پاکستان کے ساحل کے قریب سفر کر رہے ہوں اور کراچی کو صرف ایک عارضی یا درمیانی منزل کے طور پر ظاہر کیا گیا ہو۔






