جہیز میں کیا دینا، کیا لینا ہے، کھانا کیا پکے گا، قاضی کون ہوگا، بارات کیسے اور کتنے بجے آئے گی، نکاح کب ہو گا، مہر کتنا طے ہو گا، لڑکی کا سر پکڑ کر تین بار کون ہلائے گا اور ’قبول ہے، قبول ہے‘ کہتے ہوئے ہوا میں چھوارے کون اچھالے گا؟ یہ سب بھی طے ہوچکا ہے مگر۔۔۔۔۔۔؟

47 سال سے ایک دوسرے کے دشمنوں میں پاکستان ’شادی‘ یعنی امن معاہدہ کروانے کی کوشش کررہا ہے، منگنی تو کروادی مگر اب نکاح نہیں ہورہا، چاچے، مامے، تائے یعنی ’شریکا‘ رنگ میں بھنگ ڈالنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ بداعتمادی کی ایسی فضا قائم کی جارہی ہے کہ ’بارات‘ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی میں پھنس گئی ہے۔

اسلام آباد میں لگی کرسیوں پر دھول جم رہی ہے اور منڈیروں پر سجے پھول سوکھ رہے ہیں، طرح طرح کے بنے کھانے بدبو مار چکے ہیں۔

آخر مسئلہ کیا ہے کہ بنی بنائی بات بگڑ گئی۔ بات سادہ سی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور نئے مطالبات اس تعطل کی بنیادی وجہ ہیں۔

ایران کا موقف ہے کہ جب تک امریکا ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، وہ مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آئے گا جبکہ  صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کا مطالبہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمزکو عالمی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھولے، جو اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔

جے ڈی وینس کہتے ہیں کہ ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے حوالے سے ایسی کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی جو امریکا کے لیے قابلِ قبول ہو۔ امریکا چاہتا ہے کہ ایران نہ صرف ابھی بلکہ مستقبل میں بھی ایٹمی ہتھیاروں کی صلاحیت سے دستبردار ہونے کا تحریری عہد کرے۔

امریکی دعویٰ کررہے ہیں کہ ایرانی قیادت کے اندر اختلافات پائے جاتے ہیں، یہ اختلافات اتنے زیادہ ہیں کہ ایران کو ایک ’متحدہ تجویز‘ پیش کرنے سے روکا ہوا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے حال ہی میں جنگ بندی (Ceasefire) کی مدت میں مختصر توسیع کی ہے تاکہ ایران کو اپنی تجاویز تیار کرنے کا وقت مل سکے، لیکن وہ مسلسل یہ تنبیہ بھی کر رہے ہیں کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کی جا سکتی ہیں۔

علاقے کا نام نہاد ’چاچا‘ اسرائیل نہیں چاہتا کہ بات بن جائے اور اس کا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ جائے۔ ایران کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں رکوائی جائیں اور امریکا اپنے اثر و رسوخ استعمال کر کے وہاں جنگ بندی کرائے، جس پر تاحال کوئی اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔

معاشی پابندیاں، سمندری راستوں کا کنٹرول، اور جوہری عزائم وہ تین بڑی وجوہات ہیں جو اسلام آباد میں سجے پنڈال کے رنگ میں بھنگ ڈال رہی ہیں۔ جب تک ان پر اتفاق نہیں ہوتا ڈیل تو دور کی بات امریکی اور ایرانی پاکستان آنے کو تیار نہیں۔

آج کل پاکستانی ٹی وی پر ایک ڈرامہ چل رہا ہے جس میں دلہا تاخیر سے بارات لے کر پہنچتا ہے اور دلہے کا والد دلہن کے کمرے میں جاتا ہے تو وہاں کوئی اور لڑکا اسے اپنے سے کیے گئے وعدے یاد دلا رہا ہوتا ہے، دلہے کا والد جب یہ منظر دیکھتا ہے تو سچ جانے بغیر ہی باراتیوں کے سامنے اعلان کردیتا ہے کہ ’یہ شادی نہیں ہوسکتی‘۔ امریکا اور ایران کا معاملہ اتنا بگڑ چکا ہے کہ اسلام آباد میں سجے انتظامات ضائع جانے کا خطرہ ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر