2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد جب آئین پاکستان میں آرٹیکل 25-اے شامل کیا گیا تو یہ اعلان ہوا کہ پانچ سے 16 برس تک کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہو گی۔ اُس دن ملک کے ہر اخبار نے یہ خبر چھاپی کہ اب تعلیم کسی خاص طبقے کی میراث نہیں رہی۔ لیکن 15 برس بیت گئے اور آج بھی ملک کے کچے اسکولوں، بند کلاس رومز اور ادھورے نصاب کے درمیان یہ وعدہ ایک ادھورا خواب لگتا ہے۔
پاکستان کا تعلیمی نظام بظاہر بہت بڑا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 260,903 تعلیمی ادارے ہیں جن میں 41,018,384 طلبہ پڑھ رہے ہیں اور 1,535,461 اساتذہ انہیں علم سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان اداروں میں سے 180,846 سرکاری ہیں اور 80,057 نجی شعبے کے زیرِ انتظام یعنی تقریباً 69 فیصد ادارے حکومت چلا رہی ہے اور 31 فیصد نجی ہاتھوں میں ہیں۔ لیکن اگر ان اعداد کو غور سے دیکھا جائے تو ایک افسوسناک حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اتنے بڑے نظام کے باوجود تعلیم کا معیار اور رسائی دونوں ہی زوال پذیر ہیں۔
ملک نے کئی عالمی وعدے کیے ایجوکیشن فار آل، ملینیم ڈیولپمنٹ گول، اور بعد میں ویژن 2030۔ ان سب کا مقصد ایک ہی تھا کہ ہر بچے کو بنیادی تعلیم دینا، خواندگی کی شرح بڑھانا، اور صنفی عدم مساوات کو ختم کرنا۔ مگر 2015 جو ان اہداف کے حصول کی آخری تاریخ تھی، پاکستان کے لیے ایک تلخ یاد بن گئی۔ ہم نے وعدہ تو پورا نہ کیا البتہ ایک بار پھر کمیٹیوں، رپورٹوں اور منصوبوں میں الجھ گئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ابتدائی تعلیم (Primary Education) میں اندراج کی شرح 85.9 فیصد ہے لیکن یہ محض سطحی کامیابی ہے۔ بہت سے بچے ابتدائی جماعتوں میں اسکول آتے ہیں مگر پانچویں تک پہنچنے سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ دیتے ہیں۔ پنجاب میں ابتدائی تعلیم میں اندراج 62 فیصد، سندھ میں 52 فیصد، خیبر پختونخوا میں 54 فیصد، اور بلوچستان میں صرف 45 فیصد ہے۔ یہ اعداد ہمیں بتاتے ہیں کہ ملک کے ایک بڑے حصے کے بچے ابھی تک اسکول کے دروازے تک نہیں پہنچ پاتے۔
اگر صنفی فرق کی بات کی جائے تو کہانی اور بھی تلخ ہو جاتی ہے۔ 2012-13 میں مردوں کی خواندگی کی شرح 71 فیصد جبکہ عورتوں کی صرف 48 فیصد تھی۔ پنجاب میں خواتین کی شرح 54 فیصد، سندھ میں 47 فیصد، خیبر پختونخوا میں 35 فیصد اور بلوچستان میں صرف 23 فیصد تھی۔ یعنی ہرایک سو مردوں کے مقابلے میں بمشکل پچاس عورتیں پڑھ لکھ پاتی ہیں۔ تعلیم کے دروازے اگرچہ کھلے ہیں مگر معاشرتی روایات اور معاشی مشکلات نے ان راستوں پر تالے لگا دیے ہیں۔
سرکاری اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں اساتذہ غیر حاضرہیں اور سہولیات ناپید ہیں۔ ملک کے بیشتر سرکاری اسکول بجلی، پانی، بیت الخلا، اور فرنیچر جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو تعلیمی وعدوں کو کمزور کرتی ہے۔ دوسری طرف نجی تعلیمی ادارے تیزی سے پھل پھول رہے ہیں۔ آج ملک کے 203,411 تعلیمی اداروں میں سے 60,904 صرف نجی شعبے کے ہیں۔ یعنی ملک میں ہر تیسرے اسکول کا تعلق نجی شعبے سے ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں نجی اسکولوں کی تعداد میں 4 فیصد اضافہ ہوا ہے اور ان میں داخل طلبہ کی تعداد میں 28 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ اس کے برعکس سرکاری اسکولوں کی تعداد میں اگرچہ 6 فیصد اضافہ ہوا مگر ان میں طلبہ کی تعداد 36 فیصد تک کم ہو گئی۔
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ عوامی نظام تعلیم کمزور ہو رہا ہے اور اسی خلا کو نجی ادارے پُر کر رہے ہیں۔ لیکن یہ کوئی مثالی حل نہیں ہے۔ کیونکہ نجی اسکول اگرچہ بہتر سہولیات فراہم کرتے ہیں ان کی فیسیں عام شہری کی دسترس سے باہر ہیں۔ ایک طرف معیار کی بات ہے دوسری طرف عدم مساوات کی، تعلیم امیر کی آسانی اور غریب کی مجبوری بن چکی ہے۔
ویژن 2030 کے مطابق پاکستان کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا تھا جہاں ایک نصاب، ایک قومی امتحانی نظام اور سب کے لیے یکساں معیار ہو۔ اس وژن کے مطابق تعلیم پر خرچ کو GDP کے 2.7 فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد 2010 تک اور سات فیصد 2015 تک کیا جانا تھا۔ مگر آج بھی ہم 2.4 فیصد GDP تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں سے 89 فیصد رقم صرف تنخواہوں اور روزمرہ اخراجات پر خرچ ہوتی ہے، جب کہ 11 فیصد سے کم حصہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے بچتا ہے۔
تعلیم کے سفر میں ایک اور رکاوٹ یہ ہےکہ ثقافتی اور سماجی رویے۔ دیہی علاقوں میں والدین اکثر اپنی بیٹیوں کو اسکول نہیں بھیجتے ہیں۔ غربت، نقل و حمل کی کمی، اور “عزت” کے نام پر خوف ہے ان بچیوں کو علم سے محروم رکھتا ہے۔ پڑھائی عورتوں کا کام نہیں جیسی سوچیں آج بھی زندہ ہیں۔ نتیجتاً دیہی علاقوں کی لڑکیاں شہری علاقوں کی لڑکیوں کے مقابلے میں 45 فیصد کم اسکول جاتی ہیں۔
پھر آتا ہے دہشت گردی کا اثر۔ وار آن ٹیرر نے پاکستان کے تعلیمی ڈھانچے کو بھی زخمی کیا۔ خیبر پختونخوا، فاٹا، اور بلوچستان میں درجنوں اسکول تباہ کیے گئے اساتذہ اور طلبہ کو نشانہ بنایا گیا۔ کئی والدین خوف کے باعث بچوں کو اسکول بھیجنا بند کر چکے۔
حکومت کی توجہ اگرچہ فنی تعلیم اور تکنیکی تربیت پر بھی گئی مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پاکستان میں فنی ادارے محدود ہیں ان کے پاس اساتذہ، آلات، اور تربیتی وسائل کی کمی ہے۔ نتیجہ یہ کہ لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیں اور یہ بے روزگاری ملکی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔
نجی شعبے کی ترقی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ شہری علاقوں میں تو اسکولوں کی بھرمار ہے مگر دیہی علاقوں میں اب بھی بچے اسکول تک پہنچنے کے لیے میلوں کا سفر طے کرتے ہیں۔ اعداد بتاتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں سرکاری اسکولوں کا تناسب 70 فیصد سے زائد ہے جب کہ شہروں میں یہ شرح 30 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔
تعلیمی نتائج پر نظر ڈالیں تو ایک دلچسپ تضاد سامنے آتا ہے۔ اگرچہ نجی اسکول مہنگے ہیں مگر صوبائی امتحانات میں نمایاں کامیابی زیادہ تر سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے حصے میں آتی ہے۔ صرف پنجاب وہ صوبہ ہے جہاں نجی اسکولوں کے طلبہ کچھ بہتر نتائج دکھا پاتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر تعلیمی معیار دونوں شعبوں میں تشویش ناک ہے۔
2023 کے عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر پا رہی اور یہی خلا نجی شعبے کو مضبوط بنا رہا ہے۔ مگر نجی اداروں کی تیز رفتار ترقی نے معیار پر منفی اثر ڈالا ہے۔ اردو، انگلش اور ریاضی کے بنیادی مضامین میں نجی اور سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے درمیان فرق محض 5 فیصد کا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں سرکاری اسکول کبھی کبھار بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔
تعلیم پر حکومتی اخراجات میں بھی مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ 2015 میں یہ شرح GDP کا 2.1 فیصد تھی، جو 2024 میں 1.4 فیصد تک گر گئی۔ 2025 میں حکومت نے ایک “تعلیمی ایمرجنسی” نافذ کی تاکہ اسکولوں میں اندراج کی شرح بڑھائی جا سکے، خاص طور پر ثانوی سطح تک۔ مگر بجٹ کی کمی، بدعنوانی، اور غیر مؤثر نظام نے یہ کوششیں بھی ادھوری چھوڑ دیں۔
یہ سب کہانی ایک نکتے پر آ کر ٹھہرتی ہے۔۔۔۔ وعدے تو خوبصورت تھے مگر نظام تھکا ہوا ہے۔ تعلیم کو اگر واقعی “سب کے لیے ایک معیار، ایک نظام” بنانا ہے، تو حکومت کو محض نعرے نہیں، عملی اصلاحات کرنی ہوں گی۔ نصاب کو یکساں بنانا، نجی اداروں کو سخت نگرانی میں لانا، اساتذہ کی تربیت کو لازمی بنانا، اور فنی تعلیم کو فروغ دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
پاکستان کے اسکول آج بھی اُن بچوں کا انتظار کر رہے ہیں جو کسی دن ان خالی بینچوں پر بیٹھ کر وہ خواب پورا کریں گے جس کا وعدہ آئین نے کیا تھا۔ ان کے چھوٹے چھوٹے قدموں کی چاپ اگر ہر گاؤں، ہر شہر، ہر کچی بستی میں گونجے — تو شاید وہ دن آئے جب ہم کہہ سکیں۔







