کیا قصور اس پولیس یا رینجرز کے جوان کا ہے، جو چند ہزار روپے کی تنخواہ کے عوض اپنے ہی لوگوں کے سامنے ڈیوٹی انجام دینے آیا اور پرتشدد تصادم کی نذر ہو گیا؟ یا پھر قصور اس کشمیری مظاہرین کا ہے، جو اپنے مطالبات اور حقوق کی امید لیے سڑک پر نکلا، مگر چند لمحوں بعد یا تو جان کی بازی ہار گیا یا ہمیشہ کے لیے معذوری اس کا مقدر بن گئی؟
یہ چار الگ الگ کہانیاں نہیں، بلکہ ایک ہی بحران کے چار چہرے ہیں۔ ایک ایسا بحران جس میں ہر فریق اپنے مؤقف کو درست سمجھتا ہے، مگر سب سے زیادہ قیمت وہ لوگ ادا کر رہے ہیں جن کا نہ فیصلوں میں کوئی کردار ہوتا ہے اور نہ مذاکرات کی میز پر کوئی مقام۔
آزاد جموں و کشمیر ایک بار پھر شدید سیاسی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ راولاکوٹ، سدھنوتی اور مظفرآباد ایک مرتبہ پھر خبروں کا مرکز بنے ہوئے ہیں
سکیورٹی فورسز اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں متعدد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ مظفرآباد کی جانب اعلان کیا گیا لانگ مارچ بھی مذاکرات کے باعث تاحال شروع نہیں ہو سکا۔
ایک طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ ریاست کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہی ہے اور اس پر لگائے گئے الزامات سے اتفاق نہیں کرتی۔ دونوں کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں، مگر ان دلائل کے شور میں ایک سوال مسلسل گونج رہا ہے۔
کشمیر کی وہ پہاڑیاں، جو کبھی سیاحوں کی رونق، جھرنوں کی آواز اور ٹھنڈی ہواؤں کی پہچان تھیں، آج نعروں، سائرن، آنسو گیس اور کشیدگی کی علامت بنتی جا رہی ہیں۔
راولاکوٹ، سدھنوتی اور دیگر علاقوں میں ہونے والے حالیہ واقعات کسی ایک جماعت، ادارے یا گروہ کا نقصان نہیں، بلکہ پوری ریاست کے لیے ایک اجتماعی المیہ بن چکے ہیں۔
اگر اس احتجاج کی تہہ میں جایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ صرف مہنگائی، آٹے یا بجلی کے نرخوں تک محدود نہیں رہا۔
اگرچہ تحریک کی ابتدا روزمرہ مسائل سے ہوئی تھی، لیکن وقت کے ساتھ اس کا مرکز آزاد کشمیر اسمبلی کی وہ 12 مخصوص نشستیں بن گئیں جو 1947 کے بعد پاکستان منتقل ہونے والے مہاجرینِ کشمیر کے لیے مختص ہیں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کے ذریعے پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں آزاد کشمیر کی مقامی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
کمیٹی کے مطابق اس کا اثر صرف حکومت سازی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ترقیاتی وسائل کی تقسیم پر بھی پڑتا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی خود کو محرومی کا شکار سمجھتی ہے۔
اسی لیے کمیٹی ان مخصوص نشستوں کے خاتمے سمیت 38 نکاتی مطالبات سامنے لا چکی ہے۔ ان میں وزرا اور مشیروں کی مراعات میں کمی، سرکاری اخراجات میں کفایت شعاری، احتجاجی کارکنوں کے خلاف مقدمات کی واپسی، مفت تعلیم و صحت، نوجوانوں کے لیے روزگار، بلاسود قرضے، منگلا ڈیم سے متعلق بقایا معاوضوں کی ادائیگی اور مقامی وسائل پر مقامی عوام کے اختیار جیسے مطالبات شامل ہیں۔
دوسری جانب حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، لیکن اگر احتجاج تشدد، شاہراہوں کی بندش یا ریاستی اداروں پر حملوں کی صورت اختیار کرے تو قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ حالیہ واقعات میں بعض مقامات پر سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے گئے، جب کہ عوامی ایکشن کمیٹی ان الزامات سے اختلاف کرتی ہے۔ انہی متضاد دعوؤں نے اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
فی الحال مظفرآباد سمیت کئی علاقوں میں معمولاتِ زندگی جزوی طور پر بحال ضرور دکھائی دیتے ہیں، لیکن حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے۔ حساس علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات ہے، جب کہ بعض مقامات پر انٹرنیٹ اور موبائل سروسز کی بندش نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
لیکن شاید اصل سوال یہ نہیں کہ اس کشیدگی میں کون جیتے گا اور کون ہارے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ سب سے زیادہ نقصان کس کا ہو رہا ہے؟
اس بچے کا، جس کا اسکول بند ہے۔ اس مزدور کا، جس کی دیہاڑی رک گئی۔ اس اہلکار کا، جو شام کو اپنے گھر واپس نہیں پہنچ سکا یا اس احتجاج کرنے والے کا، جو اپنے مطالبات کے ساتھ نکلا، مگر زندہ واپس نہ لوٹ سکا۔
تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی تنازعات کا پائیدار حل نہ کبھی لاٹھی سے نکلا ہے، نہ گولی سے اور نہ ہی پتھر سے۔ اختلاف جب مذاکرات کی میز تک پہنچتا ہے تو راستے نکلتے ہیں، لیکن جب وہ سڑکوں پر تصادم میں بدل جائے تو نقصان ہر فریق کا ہوتا ہے۔
آزاد کشمیر کو بھی آج شاید کسی ایک فریق کی فتح نہیں، بلکہ ایسے سنجیدہ، بامعنی اور نتیجہ خیز مکالمے کی ضرورت ہے جس میں اختلاف کو دشمنی نہیں، مسئلہ سمجھ کر حل تلاش کیا جائے۔ کیونکہ امن کی قیمت صرف حکومت یا احتجاج کرنے والے نہیں چکاتے، بلکہ وہ عام شہری ادا کرتا ہے جو ہر صبح صرف معمول کی زندگی جینا چاہتا ہے اور شاید اسی لیے یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے۔
شاید اس کا جواب کسی ایک فرد، ادارے یا جماعت کے پاس نہ ہو۔ لیکن اگر الزام تراشی نے مکالمے کی جگہ لے لی، تو ہار صرف ایک فریق کی نہیں ہوگی؛ ہار اس بچے کی ہوگی جس کا مستقبل رکا ہوا ہے، اس مزدور کی ہوگی جس کا چولہا ٹھنڈا پڑ گیا ہے، اس اہلکار کی ہوگی جو اپنے فرائض کی ادائیگی میں جان سے گیا، اس مظاہرین کی ہوگی جو اپنے مطالبات کے ساتھ سڑک پر نکلا اور سب سے بڑھ کر ہار اس خوبصورت دھرتی کی ہوگی، جو برسوں سے امن کی منتظر ہے۔







