جب ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف لڑی جانے والی 4 ماہ کی جنگ کے بعد امن کا پیغام لے کر اسلام آباد کی سرزمین پر قدم رکھا تو پاکستان کے صدر مملکت، وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے پرتپاک استقبال کیا۔
یہ دورہ محض ایک سرکاری ملاقات نہیں، یہ ایک تاریخی اعتراف ہے۔ اعتراف اس بات کا کہ جب امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری 2026 کو ایران پر حملے شروع کیے اور خطے پر جنگ کے بادل چھا گئے، تو پاکستان نے سفارت کاری کی طاقت کو بطور ہتھیار استعمال کیا اور ایک ایسی راہ نکالی جس نے لاکھوں جانوں کو مزید تباہی سے بچایا۔
جب دنیا تماشائی تھی، پاکستان ثالث بنا، اور یہی فرق آج اسلام آباد کو خطے کی سفارتی راجدھانی میں منفرد بنا رہا ہے۔
صدر پزشکیان کا یہ دورہ ان کا بطور صدر پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔ ان کے ہمراہ وزراء اور اعلیٰ حکام پر مشتمل وفد ہے۔ انہوں نے روانگی سے قبل واضح الفاظ میں کہا کہ اس دورے کا مقصد پاکستان کی ثالثی کے لیے شکرگزاری کا اظہار اور اسلام آباد یادداشت پر عملدرآمد کو آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی خدمات کو خاص طور پر سراہا۔
امریکا نے اسلام آباد یادداشت کے بعد ایران کو 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے واپس کرنے اور 60 روز کے لیے تیل و پیٹرو کیمیکل کی فروخت کی عارضی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایران کے لیے معاشی سانس لینے کا موقع ہے۔ ساتھ ہی IAEA معائنہ کاروں کو رسائی اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔
پاک ایران تعلقات اب صرف دو ہمسایہ ممالک کی دوستی نہیں رہے، یہ خطے کے امن کی ضمانت بن چکے ہیں۔
امید ظاہر کی جارہی ہے کہ دوطرفہ تعاون کے نئے افق کھلیں گے۔ تجارت و توانائی کے شعبے میں تعاون گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی ہوگی۔
سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ عوامی روابط اور ثقافتی تبادلے کو فروغ ملے گا۔ اس دورے کا ایک اور مقصد یہ بھی ہوسکتا کہ علاقائی روابط کو بڑھایا جائے۔
سی پیک کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں کی ایران تک توسیع، چاہ بہار پر مشترکہ تجارت پر بات چیت کا امکان ہے، وہ چاہ بہار جس پر کبھی انڈیا تھانیدار بن کر بیٹھا تھا۔
پاکستان اور ایران لبنان تنازعے کے حل میں مشترکہ سفارتی کردار نبھا سکتے ہیں۔
پاکستان اور ایران دو ہزار کلومیٹر سے زائد مشترک سرحد رکھتے ہیں، ایک جیسی ثقافت اور زبان کا رشتہ ہے، اور اسلام کا مشترک بندھن ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر آج دونوں ملک خطے کے امن کے لیے مشترک وژن رکھتے ہیں۔ پاکستان نے ثابت کر دیا کہ طاقت صرف فوج میں نہیں، سفارت کاری بھی ایک بے مثال ہتھیار ہے۔
جب دنیا یہ دیکھ رہی تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان کی خلیج کیسے ختم کی جائے، تو اسلام آباد نے خاموشی سے وہ کام کیا جو بڑی بڑی طاقتیں نہ کر سکیں۔ آج صدرپزشکیان کا یہ دورہ اس کوشش کا اعتراف ہے۔ اور پاک ایران تعلقات کے ایک روشن، پرامن اور خوشحال باب کا آغاز بھی۔
تحریر: اظہر تھراج
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







