سابق وزیراعظم نواز شریف کو جیل سے اسپتال منتقل کیا جا چکا تھا کیونکہ ان کے پلیٹ لیٹس خطرناک حد تک کم ہو گئے تھے۔

اس وقت ملک بھر میں ایک ہی سوال زیر بحث تھا کہ کیا ایک قیدی کو صحت کی بنیاد پر خصوصی سہولیات دی جانی چاہئیں یا نہیں؟ لیکن ابھی یہ بحث جاری تھی کہ ڈاکٹروں کے مشورے کے بعد نواز شریف کو علاج کی غرض سے بیرون ملک منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا اور اس وقت حکومت   تحریک انصاف  کی تھی۔ 

وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے مشاورت کے بعد نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا، جب کسی بڑے سیاسی رہنما کی قید اور صحت توجہ کا مرکز بنی ہو۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو کی قید، بے نظیر بھٹو کی نظر بندیاں، آصف علی زرداری، شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنماؤں کی جیل میں صحت کے مسائل ایسے واقعات ہیں جو بار بار یہ سوال اٹھاتے رہے کہ کیا ریاست اپنے زیر حراست افراد کو بنیادی انسانی سہولیات فراہم کرنے میں یکساں معیار برقرار رکھتی ہے یا نہیں؟

اسی تاریخی پس منظر میں آج تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت اور جیل میں سہولیات کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ میں بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان کو جیل میں مختلف طبی مسائل کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف پندرہ فیصد رہ گئی ہے جب کہ انہیں خون جمنے کے مسائل، فوڈ پوائزننگ کی شکایات، نیند کی کمی اور جیل سیل میں مچھروں اور کیڑوں کی موجودگی جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ عمران خان کو طویل عرصے تک وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جو منصفانہ ٹرائل کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دی جا رہی ہے۔

اسی تناظر میں انہیں کتابیں، ٹی وی، فریج اور موسم کے مطابق کولنگ اور ہیٹنگ کی سہولیات فراہم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

دوسری جانب حکومتی نمائندوں نے عدالت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ عمران خان کا طبی معائنہ ماہر ڈاکٹروں سے کروایا جائے گا اور انہیں اپنے بچوں سے ٹیلی فون پر بات کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

تحریک انصاف مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ عمران خان کے علاج اور بنیادی حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ صرف قانونی نہیں بلکہ سیاسی تنازع کی شکل بھی اختیار کر چکا ہے۔

پاکستان کی سیاست میں یہ تضاد ہمیشہ موجود رہا ہے کہ ہر سیاسی جماعت اپنے قائد کی قید و بند کو سیاسی انتقام قرار دیتی ہے، جب کہ مخالفین کی قید کو قانونی عمل کا حصہ سمجھتی ہے۔

 یہی صورتحال آج بھی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں ایک طرف تحریک انصاف عمران خان کے لیے بہتر طبی سہولیات کا مطالبہ کر رہی ہے، جب کہ دوسری جانب حکومت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ انہیں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

یہ صورتحال ایک بڑا اور بنیادی سوال بھی اٹھاتی ہے کہ کیا پاکستان میں تمام قیدیوں کو یکساں طبی اور قانونی سہولیات حاصل ہیں؟ آئین پاکستان ہر قیدی کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے، جن میں مناسب طبی سہولیات اور قانونی مشاورت شامل ہیں۔

لیکن حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عام قیدیوں کو اکثر وہ سہولیات حاصل نہیں ہوتیں جو سیاسی شخصیات کو میسر آتی ہیں، جس سے انصاف کے نظام پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

ماضی میں جس طرح نواز شریف کو طبی سہولیات فراہم کی گئی تھیں، اسی طرح عمران خان کو بھی آئین اور قانون کے مطابق تمام طبی سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں کیونکہ یہ ہر قیدی کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

 ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی زیر حراست شخص کی صحت، تحفظ اور قانونی رسائی کو یقینی بنائے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔

اگر کسی قیدی کو صحت کے مسائل درپیش ہوں تو اس کا بروقت علاج نہ صرف انسانی ہمدردی بلکہ آئینی تقاضا بھی ہے۔ ایسے اقدامات انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ جیلیں، اکثر سیاسی بیانیے کو مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتی رہی ہیں۔ قید میں موجود رہنما اکثر عوامی ہمدردی حاصل کرتے ہیں، جب کہ حکومتی اقدامات کو سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عمران خان کا معاملہ بھی اسی تاریخی سلسلے کی ایک نئی کڑی بنتا دکھائی دیتا ہے، جہاں صحت، انسانی حقوق اور سیاست ایک دوسرے میں گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔

اب نظریں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مرکوز ہیں جو نہ صرف عمران خان کے کیس بلکہ مستقبل میں دیگر قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے بھی ایک نظیر قائم کر سکتا ہے۔

اگر عدالت بنیادی سہولیات کی فراہمی پر واضح احکامات جاری کرتی ہے تو یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی اور انسانی حقوق کے نظام میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

بالآخر یہ معاملہ اس بنیادی سوال کو سامنے لا رہا ہے کہ کیا پاکستان میں قانون اور انسانی حقوق سب کے لیے یکساں ہیں یا نہیں۔

عمران خان کا کیس محض ایک سیاسی رہنما کی صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ریاست، عدلیہ اور سیاست کے درمیان طاقت کے توازن اور انصاف کے عملی نفاذ کا امتحان بن چکا ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر