ابھی میں آپ کی آنکھوں پر ایک عینک لگانے لگا ہوں جس سے ہم ان ادبی محافل کا معائنہ کریں گے اور جاننے کی کوشش کریں گے کہ ان محافل کا اہتمام کرتا  کون ہے؟ کون لوگ آتے ہیں؟ اور ان تقریبات میں سامعین کون لوگ ہوتے ہیں؟
باہر کے ملک رہنے والے ادیبوں، یونیورسٹی کے پروفیسروں، لنڈے کے مارکسیوں، ایلیٹ کلاس کے لونڈے لونڈیاں اور مخملیں جوڑے، جو عام دنوں میں الحمرہ ہال کے کونوں کھدروں میں چھپے رہتے ہیں لیکن ان خاص دنوں میں ایسا جلوہ دکھاتے ہیں کہ ہر آنکھ ان پر ٹھہر جاتی ہے۔
میں پچھلے کئی برس سے ادبی میلوں میں جاتا رہا ہوں۔ کبھی لاہور لٹریچر فیسٹیول کے نام سے، کبھی کسی اور بینر کے نیچے، کبھی کتاب میلے کی صورت میں، کبھی کسی شاعر کے نام پر سجی تقریب میں۔ نام بدلتے رہتے ہیں جگہیں بدلتی رہیں مگر منظر تقریباً ایک سا رہتا ہے۔
ہر بار داخلے پر وہی کیفیت ہوتی ہے۔ گیٹ، سیکیورٹی، سیکیورٹی کے پیچھے ایک اور سیکیورٹی۔ کبھی لگتا ہے ادب واقعی کوئی حساس چیز ہے، ذرا سی بے احتیاطی سے پھٹ سکتا ہے۔ شناختی کارڈ، دعوت نامہ، کبھی صرف  آپ کہاں سے آئے ہیں؟  اور کبھی  آپ کی فیملی کہاں ہے؟  کیونکہ یہاں صرف فیملی کے ساتھ اندر جانے کی اجازت ہے۔
آگے کچھ یوں کہ کچھ لوگ سوال کے بغیر اندر چلے جاتے ہیں، کچھ سوال کے ساتھ باہر ہی رک جاتے ہیں۔ اندر قدم رکھتے ہی لاہور پیچھے رہ جاتا ہے۔
باہر دھواں، شور، ٹریفک؛ اندر قالین، لائٹس اور ایک خاص قسم کی خاموشی جس میں لوگ آہستہ بولتے ہیں۔ آوازیں دھیمی ہوتی ہیں، قہقہے ناپ تول کر نکلتے ہیں، اور موبائل فون ہمیشہ ہاتھ میں رہتے ہیں تصویر کے لیے، ویڈیو کے لیے، ثبوت کے لیے۔
ہال کے اندر بیٹھے لوگوں کو دیکھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ سب پہلی بار نہیں آئے۔ نشستیں جلدی ڈھونڈ لی جاتی ہیں، پروگرام کے آغاز سے پہلے ہی اندازہ لگا لیا جاتا ہے کہ کون سا سیشن  اچھا  ہوگا اور کون سا صرف رسمی۔ کچھ لوگ پورا سیشن سنتے ہیں، کچھ صرف آ کر بیٹھتے ہیں، تصویر لیتے ہیں اور اگلے ہال کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
کپڑوں میں ایک عجیب سی قدر مشترک نظر آتی ہے۔ ہر کوئی الگ لگنا چاہتا ہے، مگر سب ایک جیسے لگتے ہیں۔ کہیں اسکارف ہے، کہیں کوٹ، کہیں ہاتھ میں کتاب جس کے دوسرے صفحے تک شاید ہی کوئی پہنچا ہو۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہر سال نظر آتے ہیں، وہی چہرے، وہی انداز، بس بالوں میں تھوڑا فرق۔
ہال سے باہر نکلیں تو ایک اور دنیا ہوتی ہے۔ کافی کے سٹال، چھوٹے چھوٹے گروپ، آدھی باتیں، پورے جملے انگریزی میں، آدھے اردو میں۔ کوئی کسی سے نظریہ شیئر کر رہا ہے، کوئی کسی کو اپنا تعارف یاد دلا رہا ہے۔  ہم پچھلے سال بھی ملے تھے   ہاں، ہاں، بالکل 
کبھی کسی کونے میں موسیقی شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ آہستہ آہستہ جمع ہو جاتے ہیں۔ کچھ تالیاں بجاتے ہیں، کچھ ویڈیو بناتے ہیں۔ کسی کو دھن سمجھ آتی ہے، کسی کو صرف موقع۔ موسیقی ختم ہوتی ہے، لوگ بکھر جاتے ہیں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
کتابوں کے سٹال ہر سال لگتے ہیں۔ کتابیں بدل جاتی ہیں، چہرے وہی رہتے ہیں۔ کوئی کتاب اٹھا کر پلٹتا ہے، کوئی صرف سرورق دیکھ کر رکھ دیتا ہے۔ خرید کم ہوتی ہے، بات زیادہ۔
 یہ بہت اہم کتاب ہے 
 ہاں، میں نے اس پر ایک سیشن بھی اٹینڈ کیا تھا 
کبھی کسی ادیب کے گرد ہجوم ہوتا ہے۔ کوئی آٹوگراف لے رہا ہے، کوئی تصویر۔ ادیب مسکرا رہا ہوتا ہے، جیسے یہ سب اس کے لیے نیا نہ ہو۔ کچھ فاصلے پر کوئی اور ادیب خاموش کھڑا ہوتا ہے، شاید اگلے سیشن کا انتظار کر رہا ہو، یا شاید اس تمنائی انتظار میں کہ کوئی تو اسے پہچان لے۔
وقت کے ساتھ یہ سب دہرایا جاتا ہے۔ ہر سال۔ ہر میلہ۔
کچھ لوگ پہلی بار آتے ہیں، آنکھوں میں تجسس ہوتا ہے۔ کچھ لوگ پرانے ہوتے ہیں، مجبوراً دستوں کے ساتھ میلہ دیکھنے آئے ہیں ۔
کوئی کہتا ہے  اس بار کچھ نیا نہیں تھا ،  کوئی کہتا ہے  پھر بھی اچھا تھا ۔
مجھے یہ سب دیکھتے ہوئے اکثر لگتا ہے کہ یہ میلے ٹھیلے چلتے نہیں ہیں، چلائے جاتے ہیں۔ لوگ آتے ہیں، اپنی اپنی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں، اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ باہر وہی شہر ہوتا ہے، اندر وہی فضا۔
میں زیادہ ان میلوں میں اکیلا جانے کی کوشش کرتا ہوں اور ہر بار آخر میں گیٹ کے قریب آ کر رک جاتا ہوں۔ پیچھے روشنی، موسیقی،’ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ گفتگو؛ سامنے سڑک، شور، عام لوگ۔ دونوں کے درمیان بس چند قدم کا فرق ہوتا ہے، مگر ماحول بدل جاتا ہے۔
میں کئی سالوں سے یہ منظر دیکھ رہا ہوں۔ بینر بدلتے ہیں، موسم بدلتے ہیں، مگر ادبی میلے تقریباً ویسے ہی رہتے ہیں۔ شاید اسی لیے میں ہر بار دوبارہ چلا جاتا ہوں، دیکھنے کے لیے، سمجھنے کے لیے نہیں۔
جب میں پہلی بار لاہور آیا تو فیض میلہ دیکھنے کا شوق اٹھا۔ الحمرا پہنچا، دل چاہا کہ کسی سیشن میں جا بیٹھوں اور علمی مواد کے خزانوں کو لوٹ لوں۔ جیسے ہی علامہ اقبال کے لگے مجسمے کی پشت کی جانب بڑھا، جو ہال نمبر تین بنتا ہے، تو سامنے کھڑے دو والنٹیئرز نے میرا حلیہ دیکھ کر روک لیا۔
’ ارے ارے، رکیں، انٹری پاس پلیز؟‘
میں نے گورنمنٹ گریجویٹ کالج آف سائنس کی یونیفارم پہن رکھی تھی۔ شاید پورے میلے میں میں ہی واحد لونڈا تھا جو کسی ایسے گورنمنٹ کالج سے میلہ دیکھنے آن پہنچا ہو، ورنہ اردگرد نظر آنے والے زیادہ تر طلبہ این سی اے، لمز، گورنمنٹ کالج، بی این یو وغیرہ کے ہی لگ رہے تھے۔ میں نے وضاحت میں بس اتنا کہا،
‘وہ تو نہیں ہے۔‘
میرے پیچھے کھڑی دو ابھری ابھری دوشیزائیں، جو  اندر جانے کے انتظار میں میری پشت پیچھے چڑھی تھیں کہ میں ذرا سا ہٹوں تو ان کا راستہ صاف ہو، ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرائیں۔ پھر ان میں سے ایک نے شوخی سے، جیسے ماحول میں ذرا سی شرارت گھولنا مقصود ہو، کہا،
‘پلے نئیں دھیلا تے کردا میلہ میلہ‘
یہ سنتے ہی وہاں کھڑے سب لوگوں نے ایک ساتھ قہقہہ بلند کیا۔ بات صاف مزاح میں کہی گئی تھی، اور میں نے بھی اسے دل پر لینے کے بجائے ہنسی ہی میں اڑا دیا۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر