گزشتہ تین ماہ کے دوران پنجاب میں تعلیمی اداروں کی عمارتیں تین مرتبہ گری ہیں اور اب تک 19 معصوم بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان اموات کا ذمہ دار کون ہے؟

مئی میں ڈیرہ غازی خان کے ایک نجی اسکول کی چھت گری اور چار بچے جاں بحق ہوئے۔ اس کے بعد بڑے بڑے دعوے کیے گئے، فوٹو سیشن ہوئے اور اعلان کیا گیا کہ اب پنجاب بھر میں بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر کوئی اسکول یا اکیڈمی نہیں چلے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ تمام اعلانات صرف فائلوں تک محدود رہے اور نظام حسبِ معمول چلتا رہا۔

پھر جون میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گر گئی اور 14 معصوم بچے جان کی بازی ہار گئے۔ مالک مکان اور ٹھیکیدار کو گرفتار کر لیا گیا، مگر کیا صرف یہی لوگ ذمہ دار تھے؟ کیا ان اداروں کی نگرانی کرنے والے سرکاری محکمے بے قصور ہیں؟

اب جولائی میں لاہور کے ہی علاقے باغبانپورہ میں ایک نجی اسکول کی عمارت کی چھت گرنے سے ایک اور معصوم بچہ جاں بحق اور کئی افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

تین مہینے، تین حادثات اور 19 اموات۔ اگر اس کے بعد بھی کوئی وزیر، کوئی افسر اور کوئی متعلقہ ادارہ خود کو ذمہ دار نہیں سمجھتا تو پھر ذمہ داری کا تصور ہی ختم ہو چکا ہے۔

دنیا کے دوسرے ممالک میں اگر ایک تعلیمی ادارے میں بھی اس نوعیت کا سانحہ پیش آ جائے تو وزیرِ تعلیم سے استعفیٰ طلب کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں تین بڑے سانحات گزر گئے، لیکن کسی نے اخلاقی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس کے برعکس، چند دن شور مچتا ہے، تحقیقات کے اعلانات ہوتے ہیں، کچھ گرفتاریاں دکھائی جاتی ہیں اور پھر سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔

افسوس کی بات صرف حکمرانوں کی بے حسی نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی خاموشی بھی ہے۔ ہم ان اموات کو تقدیر، آزمائش اور حادثہ کہہ کر بھول جاتے ہیں۔ ہم یہ سوال نہیں کرتے کہ آخر یہ حادثات صرف عام لوگوں کے بچوں کے ساتھ ہی کیوں ہوتے ہیں؟ طاقتوروں کے بچے خستہ حال عمارتوں میں کیوں نہیں پڑھتے؟

اگر 19 بچوں کی موت کے بعد بھی کوئی سیاسی یا انتظامی ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی، تو پھر یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ وزیرِ تعلیم استعفیٰ دیں۔ کیونکہ جب نظام اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی بچوں کی جانوں کا تحفظ، پورا کرنے میں ناکام ہو جائے تو کم از کم اخلاقی ذمہ داری تو قبول کی جانی چاہیے۔

یہ صرف گرتی ہوئی چھتوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کا مسئلہ ہے جس میں ہر سانحے کے بعد ملبے تلے صرف بچے نہیں، بلکہ انصاف، ذمہ داری اور انسانیت بھی دفن ہو جاتی ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر