مگر اس جنگ بندی کو ابھی چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کر دیا، جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ اس ایک جملے نے صرف ایک معاہدے کو نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی، عالمی توانائی کی منڈی اور آنے والے دنوں کی سیاست کو بھی دوبارہ غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔
نیٹو سربراہی اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صرف ایک جملہ کہا، "جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔" اور یوں وہ معاہدہ، جسے چند ہفتے پہلے سفارتی کامیابی کہا جا رہا تھا، اچانک اپنی سیاسی اور عملی اہمیت کھوتا دکھائی دینے لگا۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا؟ واقعات کی ترتیب دیکھی جائے تو کہانی صرف ایک حملے یا ایک بیان سے شروع نہیں ہوتی۔ پہلے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔ عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر پر حملہ ہوا، پھر مزید دو جہاز متاثر ہوئے۔
قطر نے براہِ راست ایران پر الزام عائد کیا، جب کہ ایران نے ہمیشہ کی طرح الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ متعلقہ جہاز اس کی ہدایات نظر انداز کر رہے تھے۔
لیکن شاید اصل موڑ سمندر میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں آیا۔ امریکا نے خاموشی سے ایرانی تیل پر دی گئی تمام پابندیوں کی چھوٹ ختم کر دی۔ بظاہر یہ ایک معاشی فیصلہ تھا، مگر سفارت کاری میں معاشی فیصلے اکثر عسکری پیغام بھی ہوتے ہیں۔
چند ہی گھنٹوں بعد امریکی جنگی طیاروں نے ایران کے اندر 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کے مطابق حملوں کا ہدف ایران کا دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک اور پاسدارانِ انقلاب کی بحری صلاحیتیں تھیں۔
اس کے بعد ایران کا جواب بھی ویسا ہی آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ، کویت میں امریکی فوجی اڈہ، میزائل، ڈرون اور پھر ایم کیو-9 ریپر ڈرون کو مار گرانے کا دعویٰ۔
یوں چند ہفتے پہلے جس جنگ بندی کو کامیاب سفارت کاری کہا جا رہا تھا، وہ عملی طور پر میدانِ جنگ میں دفن ہوتی نظر آئی۔
دلچسپ بات صرف یہ نہیں کہ جنگ بندی ختم ہوئی، بلکہ یہ ہے کہ دونوں فریق آج بھی خود کو معاہدے کا محافظ اور دوسرے کو اس کا مجرم قرار دے رہے ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ جنگ بندی ایران کے "اچھے رویے" سے مشروط تھی، جب کہ تہران امریکا پر معاہدہ توڑنے کا الزام لگا رہا ہے۔
یہ وہی عالمی سفارت کاری ہے جہاں ہر فریق خود کو مظلوم اور دوسرے کو جارح ثابت کرنے میں مصروف رہتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات بھی اسی حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ ان کا مقصد ایران میں رجیم چینج نہیں، صرف ڈی نیوکلیئرائزیشن ہے، دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ہم بغیر معاہدے کے بھی اپنا مقصد حاصل کر لیں گے۔
یہ جملہ صرف ایران کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہے کہ واشنگٹن اب سفارت کاری کو طاقت کے سائے میں آگے بڑھانا چاہتا ہے، نہ کہ طاقت کو سفارت کاری کے تابع رکھنا۔
لیکن اس پوری کشمکش میں ایک کردار ایسا بھی ہے جو براہِ راست جنگ کا حصہ نہیں، مگر ہر بحران میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور وہ ہے پاکستان۔
پاکستان نہ صرف ایران کا ہمسایہ ہے بلکہ خلیجی ممالک کے ساتھ بھی اس کے گہرے تعلقات ہیں۔ توانائی، ترسیلاتِ زر، برآمدات اور علاقائی سلامتی، چاروں کا تعلق اسی خطے سے جڑا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ہر نئی کشیدگی اسلام آباد کے لیے صرف ایک بین الاقوامی خبر نہیں بلکہ معاشی خطرے کی گھنٹی بھی ہوتی ہے۔
اگر تیل مزید مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر سب سے پہلے پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ممالک پر پڑتا ہے۔ مہنگا ایندھن، مہنگی بجلی، مہنگی ٹرانسپورٹ اور پھر مہنگائی کی ایک نئی لہر۔
اسی لیے پاکستان کی خارجہ پالیسی برسوں سے ایک مشکل توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہی ہے؛ ایک طرف تہران، دوسری طرف ریاض اور دونوں کے ساتھ تعلقات کو بیک وقت قائم رکھنا۔
اس بحران کا ایک اور پہلو بھی ہے جس پر کم بات ہوتی ہے۔ آج دنیا میں جنگیں صرف میدان میں نہیں لڑیں جاتیں، بلکہ پابندیوں، تیل، بحری راستوں، مالیاتی دباؤ اور سفارتی بیانیوں کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہیں۔ کبھی میزائل ہدف بنتے ہیں، کبھی معیشت۔
اسی لیے آبنائے ہرمز کی لڑائی صرف چند جنگی جہازوں کی لڑائی نہیں، بلکہ عالمی توانائی، عالمی تجارت اور عالمی طاقت کے توازن کی جنگ بھی ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں تیزی اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں بارود کی بو بڑھتی ہے تو اس کی قیمت صرف وہاں کے لوگ نہیں، بلکہ دنیا بھر کے صارفین ادا کرتے ہیں۔
اب سوال صرف یہ نہیں کہ امریکا آج رات ایران پر مزید حملہ کرے گا یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ محدود رہے گی، یا آہستہ آہستہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی؟
کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر ایک بڑے اعلان سے نہیں، بلکہ ایسے ہی ٹوٹتے ہوئے معاہدوں، ختم ہوتی جنگ بندیوں اور بڑھتے ہوئے عدم اعتماد سے شروع ہوتی ہیں۔







