"ہم کب تک زنجیروں میں جئیں گے؟"

وہ بلیک پینتھر پارٹی میں شامل ہو گئی۔ پہلے جوش تھا، پھر یقین، پھر وہ یقین ایک آگ بن گئی۔ اس نے اپنا نام بدلا — جوائن مر گئی، آساٹا شکور پیدا ہوئی۔

فری کلینکس کھولے۔ بچوں کو ناشتہ دیا۔ اسکول بنائے۔ نعرہ لگایا:

 "We have nothing to lose but our chains"

لوگ سنتے تھے۔ لوگ مانتے تھے۔

مگر آہستہ آہستہ وہ ایک اور دروازے سے گزر گئی — بلیک لبریشن آرمی۔ جہاں نعرے کم تھے، بندوقیں زیادہ۔

 مئی 1973میں نیو جرسی کی ایک سڑک پر معمول کی چیکنگ جاری تھی پولیس نے گاڑی روکی اور پھر چند سیکنڈوں میں سب کچھ بدل گیا۔ فائرنگ ہوئی، پولیس افسر فوسٹر زمین پر گرا اور اٹھا نہیں۔ آساٹا خود بھی زخمی ہوئی، مگر زندہ رہی۔

1977 میں عدالت نے عمر قید کا فیصلہ سنایا، دو نومبر 1979 کو جیل کی دیواریں ٹوٹیں۔۔۔۔بلیک لبریشن آرمی کے مسلح کارکنوں نے چھڑا لیا۔ کئی سال چھپتی رہی، بھاگتی رہی، اور پھر 1984 میں کیوبا پہنچ گئی۔

فیڈل کاسترو نے دروازہ کھولا اور آساٹا اندر چلی گئی۔

آج وہ ایف بی آئی کی "Most Wanted Terrorists" فہرست میں اکیلی خاتون ہے۔ اور اسی امریکہ کے لاکھوں سیاہ فام اسے اپنا ہیرو مانتے ہیں۔

یہی اس کہانی کا المیہ ہے۔۔۔۔ انقلاب اور دہ شت کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے؟

ہزاروں میل دور، پاکستان کے اس کونے میں جہاں پہاڑ خاموش اور سڑکیں سنسان ہیں، ایک اور کہانی لکھی جا رہی تھی۔

ڈاکٹر ماہ رنگ لانگو بلوچ۔ ریاستی وظیفے پر تعلیم حاصل کی، ڈاکٹر بنی، اور پھر اس راستے پر چل پڑی جو اس کے والد عبدالغفار لانگو نے چھوڑا تھا….. وہ والد جو ایک کالعدم تنظیم کے سرگرم رکن تھے۔

وہ مارچ نکالتی، تقریریں کرتی، کیمروں کے سامنے کھڑی ہوتی۔ نعرہ تھا…. لاپتہ افراد کی بازیابی۔ مظلوموں کی آواز۔

لوگ سنتے تھے، سڑکوں پر آتے تھے۔

مگر ایک سوال ہوا میں معلق رہا، کبھی جواب نہ آیا

"جب کالعدم تنظیم نے پنجابی مزدوروں کو گولیاں ماریں، تم کہاں تھیں؟ جب فوجی جوان شہید ہوئے، تمہاری زبان کیوں بند رہی؟"

فروری 2024، گوادر۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا اجتماع، جھڑپیں ہوئیں، ایف سی جوان شبیر بلوچ کو پتھروں سے مار کر لاش کی بے حرمتی کی گئی۔

پھر وہ لمحہ آیا جب پردہ اٹھا۔

جب پاکستان نے ایران میں دہ شت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا تو ماہ رنگ بے ساختہ چیخ اٹھی:

"جو وہاں مارے گئے، ان کے گھر والے یہاں میرے دھرنے میں بیٹھے ہیں!"

خود اپنے منہ سے راز کھول دیا۔

یہ بھی پڑھیں:وہ لمحہ جب پاکستان نے دنیا کو حیران کر دیا

اور پھر جعفر ایکسپریس کا حملہ ہوا۔ مارے جانے والے دہ شت گردوں کی لاشیں کوئٹہ ہسپتال آئیں اور ماہ رنگ وہاں پہنچ گئی، احتجاج کے نام پر، لاشیں نکلوانے کی کوشش میں۔

سیکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا اور گرفتار کر لیا۔ اب اے ٹی سی نے عمر قید کا فیصلہ سنایا ہے۔

آساٹا شکور اور ماہ رنگ بلوچ۔ دونوں نے مظلوموں کا نام لیا۔ دونوں نے حقوق کا نعرہ لگایا۔ دونوں عدالت سے عمر قید پا کر نکلیں۔

مگر ہر کہانی میں ایک موڑ آتا ہے جہاں سوال پوچھا جاتا ہے، تم نے جس راستے پر چلنے والوں کا ساتھ دیا، وہ راستہ کہاں جاتا تھا؟

انقلاب اور دہ شت میں فرق صرف نعروں کا نہیں ہوتا، اس فرق کا اصل امتحان یہ ہے کہ جب بے گناہ خون بہتا ہے تو تمہاری زبان کہاں ہوتی ہے۔ بولتی ہے یا چپ رہتی ہے۔

اور تاریخ یہ خاموشیاں کبھی نہیں بھولتی۔

غیر ریاستی طاقتیں ریاست سے کبھی نہیں جیتیں، یہ صرف ایک سیاسی حقیقت نہیں، یہ تاریخ کا وہ سبق ہے جو ہر دور میں دہرایا گیا۔

اور ہر بار قیمت وہ لوگ چکاتے ہیں جو نعروں کے پیچھے چلتے ہیں، نعرہ لگانے والے نہیں۔

تحریر: اظہر تھراج 

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر