امریکی صدر ٹرمپ خصوصی طیارے پر سوار ہو کر انقرہ پہنچے تو استقبال کرنے والے میزبان صدر رجب طیب ایردوان، کے چہرے پر وہ اطمینان تھا جو کسی بھی میزبان کے چہرے پر اُس وقت آتا ہے جب مہمان کی موجودگی خود اس کی سیاسی ساکھ کا سرٹیفکیٹ بن جائے۔ ٹرمپ کا محض یہاں آنا ہی خبر تھا، کیونکہ ابھی کچھ عرصہ پہلے تک وہ نیٹو کو "پرانا فیشن" اور "بوجھ" قرار دیتے رہے ہیں۔ ایردوان نے یہ بازی جیت لی، امریکی صدر کی موجودگی کو ثابت کر دکھایا کہ ترکی محض نیٹو کا ایک اور رکن نہیں بلکہ اس کا "ناگزیر اتحادی" ہے۔
اجلاس کا مرکزی نکتہ وہی پرانا راگ ہے جو ٹرمپ گزشتہ کئی برسوں سے الاپ رہے ہیں کہ یورپ اپنی جیب سے دفاع پر خرچ کرے۔ گزشتہ برس ہیگ میں طے پایا تھا کہ رکن ممالک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا پانچ فیصد دفاع پر لگائیں گے۔ اب انقرہ میں سوال یہ ہے کہ زبانی وعدے عملی صورت اختیار کر پائے یا نہیں۔ سیکریٹری جنرل مارک روٹے جو اس وقت سفارتی زبان استعمال کرتے نظر آتے تھے اب "قابلِ ذکر پیش رفت" قرار دے رہے ہیں۔ ایک ایسا فقرہ جو ہر اس اجلاس میں دہرایا جاتا ہے جہاں مکمل پیش رفت ممکن نہ ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے نزدیک "دفاعی اخراجات" اور "وفاداری" ہم معنی الفاظ بن چکے ہیں۔ جو ملک زیادہ خرچ کرے وہ زیادہ وفادار، اور جو کم کرے وہ مشکوک۔ اسی پیمانے پر انہوں نے ترکی کو "دیگر اتحادیوں سے کہیں زیادہ وفادار" قرار دے دیا۔ ایک ایسا سرٹیفکیٹ جو براہِ راست ایف-35 لڑاکا طیاروں کی راہ ہموار کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
2019 کی بات ہے جب امریکا نے ترکی کو ایف-35 پروگرام سے باہر کردیا تھا، اب وہی ٹرمپ ہیں وہی امریکا۔
گویا تاریخ نے ثابت کر دیا کہ سفارت کاری میں مستقل مزاجی سے زیادہ اہم ذاتی تعلقات یا مفادات ہوتے ہیں۔ امریکی کانگریس میں اس فیصلے پر خاصی مزاحمت پائی جاتی ہے، اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کھلے عام خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ یعنی ایک طرف واشنگٹن کی محبت اور دوسری طرف تل ابیب کی تشویش اور بیچ میں کھڑا ہے وہ خطہ جو ہمیشہ سے بڑی طاقتوں کے حساب کتاب کا میدان رہا ہے۔
ادھر صدر زیلنسکی جن کو ٹرمپ نے پوری دنیا کے سامنے ’بے عزت‘ کیا تھا آج ’قابل عزت‘ بنا ہوا ہے اور نیٹو کا رکن نہ ہونے کے باوجود اجلاس کے مستقل مہمان بن چکے ہیں، ایک بار پھر بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ کیف پر حالیہ ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد ان کی ترجیح واضح ہے کہ مزید فضائی دفاعی نظام۔ مگر یہاں المیہ یہ ہے کہ جس شخص سے یہ امداد مانگی جا رہی ہے، وہی روسی صدر پیوٹن سے براہِ راست ٹیلیفونک رابطے میں بھی ہے اور "جنگ جلد ختم ہو جائے گی" کی نوید بھی سنا رہا ہے۔ سفارت کاری کی اس دوہری زبان میں جنگ زدہ یوکرین کے لیے سب سے مشکل کام یہی طے کرنا ہے کہ اسے کس بیان پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:ترکی امریکا کا بہترین اور مضبوط اتحادی، گرین لینڈ کو ڈنمارک کے بجائے امریکا کے کنٹرول میں ہونا چاہیے؛ ٹرمپ
اجلاس کے ایجنڈے پر آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی بھی موجود ہے، وہی آبنائے جسے صدر ٹرمپ کھلا رکھنے میں نیٹو اتحادیوں کے "عدم تعاون" پر پہلے بھی برہمی کا اظہار کر چکے ہیں۔ یہ نکتہ اس بات کی علامت ہے کہ اب نیٹو کا دائرہ کار محض یورپی سرحدوں تک محدود نہیں رہا؛ خلیج کی سلامتی اور عالمی تجارتی راستے بھی اسی میز پر زیرِ بحث آ رہے ہیں، چاہے اتحاد کا اصل چارٹر کچھ اور ہی کہتا ہو۔
نیٹو کا سب سے بڑا فراڈ آرٹیکل 5 بھی ہے۔ یہ تاریخ میں صرف نائن الیون کے واقعہ پر فعال کیا گیا تھا۔ اور افغانستان میں تمام نیٹو ممالک جنگ کیلئے آ گئے تھے۔ ورنہ اس کے بعد ترکیہ کی ملٹری پر شام سے حملے ہوئے کوئی رسپانس نہیں دیا گیا۔ شام سے باقاعدہ مارٹر گولے مارے گئے کئی ترک فوجی مارے گئے مگر یہ فعال نہیں ہوا۔ پولینڈ، رومانیہ ، ایسٹونیا اور لیٹویا کی سرزمین پر روس کے میزائل گرے۔ مگر نیٹو کا آرٹیکل 5 فعال نہیں ہوا۔۔ کیونکہ یہ نیٹو صرف جرمنی، برطانیہ، فرانس اور امریکہ کی حفاظت کیلئے ہے۔۔
بتیس رکن ممالک کے سربراہان، ایک یوکرینی مہمان، ایک جنوبی کوریائی مہمان، اور سب کی نظریں اس ایک شخص پر جو کبھی نیٹو کو فرسودہ کہتا تھا اور آج اسی کی میزبانی میں شریک ہے۔ شاید یہی عالمی سیاست کا سب سے بڑا سبق ہے کہ اتحاد وہی زندہ رہتے ہیں جو اپنے سب سے زیادہ ناراض رکن کو بھی میز پر بٹھانے کا ہنر جانتے ہوں۔ انقرہ کا یہ اجلاس اسی ہنر کی ایک اور آزمائش ہے۔ نتیجہ کیا نکلے گا، یہ اگلے دو دنوں میں واضح ہو جائے گا، مگر سوال وہیں کھڑا رہے گا جو ہر سربراہی اجلاس کے بعد کھڑا رہ جاتا ہے۔ کیا اعلانات، عمل میں بھی ڈھلیں گے؟







