پاکستان کی سیاست میں مطالبے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ کبھی استعفے کا مطالبہ، کبھی احتساب کا، اور اب یہ ایک انوکھا مطالبہ سامنے آیا ہے۔
یہ مطالبہ سننے میں جتنا سادہ لگتا ہے، قانونی، آئینی، تاریخی اور اخلاقی لحاظ سے اتنا ہی پیچیدہ ہے۔
پاکستان میں کرنسی نوٹوں کا اجراء اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 کے تحت ہوتا ہے۔ نوٹوں کے ڈیزائن، تصاویر اور علامات کا تعین حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک مل کر کرتے ہیں۔
پاکستان میں کوئی واضح قانون نہیں ہے جو کسی زندہ شخصیت کی تصویر نوٹ پر لگانے سے صریحاً منع کرے، لیکن یہ روایت اور جمہوری اقدار کے سراسر خلاف ضرور ہے۔ دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک میں زندہ سیاستدانوں کی تصاویر کرنسی پر نہیں لگائی جاتیں کیونکہ اسے اقتدار کے ناجائز استعمال کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
جمہوری ممالک جیسے امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، اور آسٹریلیا میں صرف تاریخی شخصیات، قومی ہیرو یا آئینی بادشاہ کی تصاویر نوٹوں پر ہوتی ہیں۔ امریکی ڈالر پر جارج واشنگٹن، ابراہم لنکن اور بنجمن فرینکلن ہیں، یہ سب صدیوں پہلے وفات پا چکے ہیں۔
آمرانہ اور مطلق العنان ریاستوں میں البتہ زندہ حکمرانوں کی تصویریں نوٹوں پر لگانے کی مثالیں ملتی ہیں، صدام حسین کا عراق، معمر قذافی کا لیبیا، اور شمالی کوریا جیسی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پاکستان کس راستے پر چلنا چاہتا ہے؟ قائداعظم محمد علی جناح صرف ایک سیاستدان نہیں، بانیٔ پاکستان ہیں۔ 1947 سے لے کر آج تک ہر پاکستانی نوٹ پر ان کی تصویر ایک قومی علامت کے طور پر موجود ہے ، یہ کسی پارٹی کی نہیں بلکہ پوری قوم کی میراث ہے۔
کسی بھی زندہ سیاستدان کو، خواہ وہ کتنا ہی مقبول کیوں نہ ہو، قائداعظم کے برابر یا ان کے ساتھ کرنسی پر رکھنے کے مطالبے نے چند سوالات کھڑے کیے ہیں۔ مطالبات ایسے ہی نہیں ہوجاتے ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ اس کے پیچھے کون ہے؟ کیا وجہ ہوسکتی ہے جلد واضح ہوجائے گا مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس سے قائداعظم کے مقام کی توہین نہیں ہوگی؟ کیا یہ ریاستی وسائل کو ذاتی سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں؟ کل اگر کوئی اور حکومت آئے تو کیا وہ اس تصویر کو ہٹائے گی؟
پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بار نہیں کہ کسی رہنما کو غیر معمولی مقام دینے کی کوشش کی گئی ہو۔ ایوب خان کے دور میں ان کی تصویریں ہر سرکاری دفتر میں لگائی گئیں، ضیاء الحق کے دور میں ان کی شبیہ کو مذہب سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، اور ہر بڑے رہنما نے کسی نہ کسی طرح اپنی سیاسی برتری کو ریاستی علامتوں سے جوڑنے کی کوشش کی۔
مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ارشد ملک نے 5 ہزار کا نوٹ دکھاتے ہوئے قائد اعظم کے ساتھ نواز شریف کی تصویر ہونے کا مطالبہ کر دیا۔ pic.twitter.com/ZsjUAmyNEH
— Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif) (@rizwanghilzai) June 20, 2026
لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ریاست کا وقار کسی ایک شخص سے نہیں بلکہ اداروں سے جڑا ہوتا ہے۔
نوازشریف یا کسی بھی زندہ سیاستدان کی تصویر پاکستانی کرنسی نوٹ پر لگانا، قانونی طور پر ممکن تو ہے مگر آئینی روح کے خلاف ہے، تاریخی روایت کے بالکل منافی ہے، جمہوری اقدار سے متصادم ہے، قائداعظم کے مقام کی بے توقیری کے مترادف ہے۔
اور سب سے بڑھ کر قوم کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا کیونکہ نوازشریف صرف اپنے حامیوں کے لیے ہیرو ہیں، پوری قوم کے نہیں۔ کرنسی نوٹ کسی پارٹی کا منشور نہیں، یہ قومی شناخت کی علامت ہے۔ اسے سیاست کی بھینٹ چڑھانا نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی، کیونکہ آج جو روایت قائم ہوگی، کل وہی روایت کسی اور کے لیے بھی راستہ کھولے گی۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







