علی کے کالج کی فیس، کتابیں، یونیفارم اور روزمرہ کے اخراجات اب اس کے والد کے بس سے باہر ہوتے جا رہے تھے۔ گھر میں اکثر ایک ہی سوال گونجتا تھا کہ آخر تعلیم اتنی مہنگی کیوں ہوگئی ہے؟
علی اکیلا نہیں۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً دو کروڑ ساٹھ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ ہزاروں نوجوان ایسے ہیں جو خواب تو رکھتے ہیں، مگر وسائل نہیں۔
سرکاری نظام کمزور ہے، سرکاری اسکولوں کی حالت خراب ہے اور کئی صوبوں میں نجکاری اور آؤٹ سورسنگ پر بحث جاری ہے۔ ایسے میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مایوسی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
مگر انہی حالات کے درمیان ایک نام مسلسل سامنے آ رہا ہے، حافظ نعیم الرحمان۔ کچھ لوگ انہیں نوجوانوں کا حافظ کہنے لگے ہیں۔ وجہ صرف تقاریر نہیں بلکہ وہ منصوبے ہیں جو براہِ راست نوجوانوں اور غریب طبقے تک پہنچ رہے ہیں۔
چند سال پہلے الخدمت فاؤنڈیشن نے بنو قابل پروگرام شروع کیا۔ ایک ایسا پروگرام جس کا مقصد صرف ڈگری دینا نہیں بلکہ نوجوانوں کو ہنر دینا تھا۔
کراچی سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ آج لاہور، پشاور، اسلام آباد، گوادر اور دیگر شہروں تک پہنچ چکا ہے۔ جہاں ہزاروں نوجوانوں کو فری لانسنگ، ویب ڈیویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ اور جدید آئی ٹی اسکلز مفت سکھائی جا رہی ہیں۔
بنو قابل نے ایسے نوجوانوں کو امید دی، جو ڈگریاں لینے کے باوجود بے روزگار بیٹھے تھے۔ رپورٹس کے مطابق تیس ہزار سے زائد نوجوان اس پروگرام سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ کئی نوجوان آج گھر بیٹھے آن لائن کمائی کر رہے ہیں، اپنے خاندانوں کا سہارا بن رہے ہیں۔
اب پھر ایک نیا اعلان سامنے آیا ہے، تعلیم کارڈ ۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ متعارف کروائے گئے اس پروگرام کے تحت پانچ ہزار طلبہ و طالبات کو ڈیجیٹل تعلیمی کارڈ دیے گئے۔
ہر طالب علم دس ہزار روپے تک کی کتابیں، کاپیاں، یونیفارم اور دیگر تعلیمی سامان خرید سکتا ہے۔ شاید کسی امیر گھرانے کے لیے دس ہزار روپے بڑی رقم نہ ہو مگر اُس باپ کے لیے، جو اپنے بچے کی کتابیں خریدنے سے قاصر ہو، یہ ایک امید ہے۔
حافظ نعیم الرحمان مسلسل یہی بات کرتے ہیں کہ تعلیم غریب کی دسترس سے دور ہو چکی ہے، مگر نوجوان مایوس نہ ہوں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ شہری نوجوان طبقے میں ان کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔ کیونکہ پاکستان کی سیاست میں جہاں اکثر صرف الزامات، جلسے اور اقتدار کی لڑائیاں دکھائی دیتی ہیں، وہیں حافظ نعیم خود کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو نوجوانوں کے مستقبل، تعلیم اور روزگار کی بات کرتا ہے۔
لیکن اس پوری کہانی میں سب سے بڑا سوال اب بھی وہی ہے۔ اگر ایک فلاحی و سیاسی جماعت ہزاروں نوجوانوں کو آئی ٹی اسکلز سکھا سکتی ہے، اگر وہ طلبہ کو تعلیم کارڈ فراہم کر سکتی ہے تو پھر ریاست اور حکومتیں یہ سب کیوں نہیں کر پا رہیں؟
اور شاید اسی سوال نے ہی حافظ نعیم الرحمان کو بہت سے نوجوانوں کے لیے صرف ایک سیاستدان نہیں، بلکہ نوجوانوں کا حافظ بنا دیا ہے۔







