جغرافیہ ایک بار پھر تقدیر بن گیا
یہ صورتحال دراصل ایک پرانے جیوپولیٹیکل اصول کی تازہ مثال ہے، خطے میں واقع چھوٹی مگر اسٹریٹجک اہمیت رکھنے والی ریاستیں اکثر بڑی طاقتوں کی چپقلش میں سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ہوتی ہیں، چاہے وہ خود براہِ راست تنازع کا حصہ نہ بھی ہوں۔ خلیجی ممالک کی جغرافیائی حیثیت امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی، توانائی کی عالمی رسد کا مرکز، اور آبنائے ہرمز جیسے حساس آبی راستے سے قربت انہیں اس تنازع کے مرکز میں لے آئی ہے، چاہے وہ اس میں شریک ہونا چاہتے ہوں یا نہ چاہتے ہوں۔
نقصان کا حساب: کون سب سے زیادہ ہارا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک کو براہِ راست میزائل حملوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا سامنا کرنا پڑا، مگر بیشتر ماہرین کی رائے میں اسرائیل نے اسٹریٹجک اعتبار سے کہیں زیادہ کھویا۔ اس نے واشنگٹن کے ساتھ اپنا سیاسی و سفارتی سرمایہ بڑی حد تک صرف کر دیا اور عالمی رائے عامہ میں اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
اس کے برعکس، خلیجی ممالک نے بتدریج خود کو امریکہ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا ہے، امریکی معیشت میں سرمایہ کاری، علاقائی ثالثی، اور توانائی کی فراہمی کے ذریعے وہ واشنگٹن کے لیے ایک ناگزیر شراکت دار بن چکے ہیں۔ یہ ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جو مختصر مدت کے نقصان کے باوجود طویل مدتی سفارتی فائدہ فراہم کر سکتی ہے۔
امن کی قیمت: ایک نیا بوجھ
شاید سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خلیجی ممالک کو اب "امن کی قیمت" بھی چکانا پڑ سکتی ہے۔ ایران کی تعمیرِ نو کے لیے تجویز کردہ 300 ارب ڈالر کے فنڈ میں بنیادی مالی حصہ خلیجی ریاستوں سے متوقع ہے، یعنی وہی ممالک جو خود ایران کے حملوں کا نشانہ بنے، اب انہی حملوں کے بعد تعمیرِ نو کی لاگت بھی برداشت کریں گے۔ یہ ایک عجیب مساوات ہے۔ پہلے جنگ کا نقصان، پھر امن کا بل۔
یہاں ایک اہم نکتہ سامنے آتا ہے، اگر خلیجی ممالک اس فنڈ میں شریک ہوتے ہیں تو یہ کوئی خیرات یا امداد نہیں بلکہ ایک حسابی سرمایہ کاری ہوگی، جس کا مقصد مشترکہ معاشی مفادات کے ذریعے ایران کے علاقائی عزائم کو کسی حد تک قابو میں رکھنا ہے۔ گویا رقم بھی خرچ ہو گی اور کنٹرول کی کوشش بھی جاری رہے گی۔
آبنائے ہرمز: ایک چھوٹی سی گزرگاہ، ایک بڑا مسئلہ
اگر اس پورے منظرنامے میں کوئی ایک جگہ سب سے زیادہ حساس ہے، تو وہ آبنائے ہرمز ہے۔ یہ تنگ آبی راستہ، جہاں سے خلیجی ممالک کی تیل و گیس کی بیشتر برآمدات گزرتی ہیں، ایران کے ہاتھ میں ایک طاقتور دباؤ کا ہتھیار بن چکا ہے۔
سعودی عرب کے پاس متبادل راستے (پائپ لائنز، بحیرہ احمر) موجود ہیں، متحدہ عرب امارات کے پاس فجیرہ کی صورت میں محدود متبادل ہے، مگر قطر اور کویت کے لیے یہ آبی گزرگاہ لگ بھگ ناگزیر ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان حالیہ مشترکہ کوششیں — جیسے عارضی جہاز رانی کوریڈور کا قیام، ایک عارضی حل ضرور ہے، مگر عمان کے قریب حالیہ حملہ اور اس کے بعد امریکی جوابی کارروائی یہ ثابت کرتی ہے کہ یہ مسئلہ ابھی حل سے بہت دور ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ خلیجی ممالک، عوامی سطح پر ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ فیس یا ٹول کی مخالفت کرتے دکھائی دیں گے، مگر عملی طور پر ایک محدود اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ نظام کے تحت کسی معمولی فیس کو قبول کر سکتے ہیں، بشرطیکہ اسے سمندری سلامتی اور مشترکہ خدمات کے فریم ورک میں لپیٹا جائے۔
ایک نئے علاقائی نظام کی تلاش
اس پیچیدہ صورتحال کا سب سے دلچسپ پہلو مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ خلیجی ممالک کے پاس اب موقع ہے کہ وہ اپنے حالیہ تجربات کی بنیاد پر ایک ایسا علاقائی سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دیں جس میں ایران کو شامل بھی رکھا جائے اور اس کے اثر و رسوخ کو متوازن بھی رکھا جا سکے۔ اس ضمن میں خلیجی ممالک، ترکی، پاکستان اور مصر کے درمیان مشترکہ سکیورٹی فریم ورک کا امکان زیرِ غور ہے۔
مگر یہ راستہ آسان نہیں۔ اسرائیل ایسے کسی منصوبے کی مزاحمت کر سکتا ہے، اور امریکہ بھی۔ جو خود اس خطے کی سکیورٹی حرکیات میں مرکزی کردار رکھتا ہے، کسی ایسے ڈھانچے کی حمایت میں ہچکچاہٹ دکھا سکتا ہے جس میں حتمی فیصلہ سازی واشنگٹن سے باہر منتقل ہو جائے۔
اس پوری صورتحال کا لبِ لباب ایک ماہر کے اس فقرے میں سمویا جا سکتا ہے: خلیجی ممالک کو جغرافیے کو اسی صورت میں قبول کرنا ہو گا جیسا وہ حقیقت میں ہے، نہ کہ جیسا وہ اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ جملہ دراصل پورے خطے کی مجبوری کی عکاسی کرتا ہے، طاقت، وسائل اور سفارتی صلاحیت رکھنے کے باوجود، محلِ وقوع کی مجبوریاں خلیجی ممالک کو ایک ایسے کھیل میں شریک رکھتی ہیں جس کے اصول وہ خود نہیں بناتے۔
یہ کہانی صرف امریکہ، ایران یا اسرائیل کی نہیں بلکہ اس سبق کی بھی ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان مفاہمت ہمیشہ ان کے قریبی ہمسایوں کے لیے راحت کی ضمانت نہیں ہوتی، بعض اوقات یہ محض ایک نئی، مختلف نوعیت کی ذمہ داری کا آغاز ہوتی ہے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







