سوال یہ نہیں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اب کیوں کہہ رہے ہیں؟ وہ کون سا موڑ ہے جہاں ایک کہنہ مشق سیاستدان کا لہجہ بدلتا اور وہ کون سی کہانی ہے جو لفظوں کے پیچھے چھپی رہتی ہے؟ اس کالم میں ہم صرف بیانات نہیں، بلکہ ان بیانات کے پس منظر، ان کے تضادات اور اس خاموش سچ کو کھولنے جا رہے ہیں جسے سیاست اکثر پردوں میں چھپا دیتی ہے۔

پاکستان کی سیاست میں بعض شخصیات محض افراد نہیں رہتیں بلکہ ایک عہد، ایک طرزِ فکر اور ایک مخصوص سیاسی ہنر کی علامت بن جاتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی سیاست کو محض مخالف یا موافق کے خانوں میں تقسیم کر دینا شاید آسان ہو مگر اس کے اندر موجود تہہ در تہہ پیچیدگیوں کو سمجھنا قدرے مشکل کام ہے۔۔۔ وہ بیک وقت مذہبی قیادت کا دعویٰ بھی رکھتے ہیں اور اقتدار کی راہداریوں کے ایسے شناسا بھی ہیں جنہیں یہ بخوبی علم ہے کہ کس دروازے پر کب دستک دینی ہے اور کب خاموشی ہی سب سے بلند آواز بن جاتی ہے۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان میں فوج، قومی سلامتی اور شہداء کے حوالے سے گفتگو ہمیشہ حساس رہی ہے۔ یہاں الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے جذبات، قربانیاں اور قومی بیانیہ جڑا ہوتا ہے۔۔۔ ایسے میں جب کوئی تجربہ کار سیاستدان ان موضوعات پر لب کشائی کرتا ہے تو اس کے ہر جملے کو نہ صرف سنا جاتا ہے بلکہ پرکھا بھی جاتا ہے،مولانا فضل الرحمان چونکہ ایک طویل عرصے سے سیاست کے میدان میں سرگرم ہیں، اس لیے ان کے بیانات کو محض وقتی جذبات کا اظہار سمجھنا سادہ لوحی ہوگی۔۔۔ ان کے الفاظ اکثر ناپ تول کر ادا کیے جاتے ہیں اور اگر کہیں شدت نظر آئے تو اس کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی سیاسی حکمت عملی ضرور کارفرما ہوتی ہے۔

 مولانا کی سیاست کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے کہ وہ ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں اقتدار کے قریب رہے ہیں۔۔۔ یہ قربت کبھی براہِ راست اقتدار کی صورت میں ظاہر ہوئی اور کبھی پس پردہ اثر و رسوخ کی شکل میں ۔۔۔ ان کی یہی صلاحیت انہیں دیگر سیاستدانوں سے ممتاز بھی کرتی ہے اور تنقید کا نشانہ بھی بناتی ہے،بظاہر وہ اختلاف کی سیاست کرتے ہیں مگر ان کے قدم اکثر ایسے دائرے میں رہتے ہیں جہاں واپسی کے راستے ہمیشہ کھلے رہیں۔

 مولانا کی سیاست پر سوال اٹھتے ہیں کہ آیا یہ اصولوں کی سیاست ہے یا مواقع کی؟اگرماضی کے اوراق کھولے جائیں تو متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کا دور ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آتا ہے۔۔۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بننے والا یہ اتحاد بظاہر مذہبی جماعتوں کا سیاسی اتحاد تھا مگر اس کے خدوخال اور نتائج نے کئی سوالات کو جنم دیا۔۔۔ خیبر پختونخوا میں حکومت کا قیام، قومی اسمبلی میں نمایاں نمائندگی اور پھر اپوزیشن لیڈر کا منصب،یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں لگتا۔ 

یہاں مولانا کی سیاسی بصیرت بھی نظر آتی ہے اور اس نظام کے ساتھ ان کی ہم آہنگی بھی جسے وہ آج تنقید کا نشانہ بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ہونے والی آئینی مفاہمت، خصوصاً وردی کے معاملے پر دیے گئے بیانات اور بعد ازاں ان کی عملی صورت حال، آج بھی سیاسی مباحث میں حوالہ بنتے ہیں۔ اُس وقت قوم کو ایک امید دلائی گئی کہ ایک مخصوص وقت کے بعد فوجی اور سیاسی کردار الگ ہو جائیں گے مگر ایسا نہ ہو سکا۔

 سوال یہ نہیں کہ وعدہ کیوں پورا نہ ہوا، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس وعدے کی ضمانت لینے والے آج کس مقام پر کھڑے ہیں اور اس ماضی کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں؟؟یہاں مولانا فضل الرحمان کی سیاست کا ایک اور پہلو نمایاں ہوتا ہے،وہ ہمیشہ ایسی پوزیشن اختیار کرتے ہیں جہاں نقصان کم سے کم اور فائدہ زیادہ سے زیادہ ہو۔ ۔۔یہ ایک سیاسی مہارت ضرور ہے مگر یہی مہارت جب بار بار دہرائی جائے تو اسے مفاداتی سیاست کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ ان کے ناقدین یہی کہتے ہیں کہ مولانا اصولوں کے بجائے حالات کے ساتھ خود کو ڈھالنے میں زیادہ مہارت رکھتے ہیں جبکہ ان کے حامی اسے سیاسی بصیرت قرار دیتے ہیں۔ موجودہ بیانیے میں جب وہ نسبتاً سخت موقف اختیار کرتے دکھائی دیتے ہیں تو یہ تبدیلی بھی غور طلب ہے۔۔۔ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ پر تنقید ایک مخصوص دائرے میں رہتی تھی مگر اب الفاظ کی شدت میں اضافہ محسوس کیا جا رہا ہے۔

 سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی اصولی بنیادوں پر ہے یا بدلتے ہوئے سیاسی حالات کا تقاضا؟ کیونکہ یہی بیانیہ ماضی میں دیگر سیاسی جماعتوں اور شخصیات کی طرف سے بھی سامنے آتا رہا ہے اور اس وقت اس پر ردعمل بھی مختلف نوعیت کا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں بیانیے اکثر مستقل نہیں ہوتے بلکہ حالات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔۔۔ جو کل تک ایک موقف کے حامی تھے، آج اس کے مخالف نظر آتے ہیں اور جو کل تنقید کا نشانہ تھے، آج دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔ کل تک جو ”ووٹ کو عزت دو“ کا راگ الاپتے تھے آج وہ اُسی ووٹ“ کو اپنے پاوں کی جوتی تلے روندتے دکھائی دیتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان بھی اس عمومی سیاسی رویے سے مستثنیٰ نہیں۔۔۔ ان کے ماضی کے بیانات، ان کے سیاسی فیصلے اور ان کے موجودہ موقف کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک ایسا نقشہ بنتا ہے جس میں تسلسل سے زیادہ تغیر نظر آتا ہے۔۔۔یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی مولانا کو وہ حالات درپیش آئے جن کا ذکر آج کل کی سیاست میں کیا جاتا ہے؟ کیا ان پر وہ دباو ڈالا گیا جو دیگر سیاسی رہنماوں نے محسوس کیا؟ اگر نہیں، تو پھر ان کے موجودہ بیانیے کی بنیاد کیا ہے؟ یہ سوال محض تنقید کے لیے نہیں بلکہ سیاسی دیانت کے تناظر میں اہم ہے۔۔۔کیونکہ جب ایک رہنما اپنی بات کو اصولی موقف کے طور پر پیش کرتا ہے تو اس کے ماضی کو بھی اسی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔۔۔مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں ایک اور نمایاں تضاد مذہب اور سیاست کے امتزاج کا ہے۔۔۔ وہ ایک دینی پس منظر رکھتے ہیں اور عوام کی ایک بڑی تعداد انہیں اسی حیثیت سے دیکھتی ہے مگر جب ان کی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو اس میں ”مذہبی اصولوں“ کے بجائے ”سیاسی مفادات“ زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان پر سب سے زیادہ تنقید ہوتی ہے کہ انہوں نے مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کیا یا سیاست کو مذہب کے تابع رکھا۔
یہ سوال آج بھی تشنہ جواب ہے،یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کا کردار وقت کے ساتھ محدود ہوتا گیا ہے ۔ اس کی وجوہات میں کئی عوامل شامل ہیں مگر ان میں قیادت کا کردار بھی اہم ہے، جب قیادت واضح موقف اختیار نہ کرے، یا بار بار اپنے بیانیے کو تبدیل کرے، تو عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان پر بھی یہی تنقید کی جاتی ہے کہ ان کی سیاست نے مذہبی جماعتوں کے وقار کو نقصان پہنچایا۔۔۔ان کی شخصیت میں ایک کشش ضرور ہے، ایک خطیبانہ انداز بھی ہے اور ایک سیاسی چالاکی بھی مگر یہی عناصر جب ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں تو ”کھلا تضاد“ پیدا ہوتا ہے۔
 وہ بیک وقت مزاحمت کی بات بھی کرتے ہیں اور مفاہمت کے دروازے بھی کھلے رکھتے ہیں، وہ اصولوں کی بات بھی کرتے ہیں اور عملی سیاست میں لچک بھی دکھاتے ہیں، یہ سب کچھ سیاست کا حصہ ہو سکتا ہے مگر جب اس کی کثرت ہو جائے تو سوالات جنم لیتے ہیں۔۔۔آج جب وہ آئین، قانون اور جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو ان کے ماضی کے فیصلے بھی زیرِ بحث آتے ہیں کیونکہ سیاست میں حافظہ کمزور ضرور ہوتا ہے مگر مکمل طور پر مٹتا نہیں ۔
ہر بیان، ہر فیصلہ اور ہر موقف کہیں نہ کہیں محفوظ رہتا ہے اور وقت آنے پر سامنے آ جاتا ہے۔۔۔بالآخر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مولانا فضل الرحمان ایک ایسے سیاستدان ہیں جن کی سیاست کو سمجھنے کے لیے محض حال کو دیکھنا کافی نہیں بلکہ ماضی کے آئینے میں جھانکنا بھی ضروری ہے۔۔۔ ان کی کامیابی یہی ہے کہ وہ ہر دور میں خود کو relevant رکھتے ہیں اور ان پر تنقید کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ ہر دور میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتے ہیں۔
سیاست میں بقا یقیناً ایک ہنر ہے مگر اصولوں پر قائم رہنا ایک کردار مولانا فضل الرحمان نے بقا کا ہنر تو بخوبی سیکھ لیا مگر کردار کی بحث آج بھی جاری ہے اور شاید یہی ان کی سیاست کا سب سے بڑا سوالیہ نشان بھی ہے اور سب سے بڑی پہچان بھی۔۔
تحریر:خالد شہزاد فاروقی
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر