یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک دفاع، ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ یہ تعلقات مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد گذشتہ ایک دہائی میں نمایاں طور پر بڑھے ہیں۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ انڈیا کی خارجہ پالیسی کا امتحان بھی ہو گا کیونکہ نئی دہلی کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے مودی کے دورے کو ’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔

مودی نے بھی جواب میں کہا کہ انڈیا ’اسرائیل کے ساتھ دیرپا دوستی کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو اعتماد، جدت اور امن و ترقی کے مشترکہ عزم پر قائم ہے۔‘

انڈین میڈیا بھی اسے ’اہم قدم‘ قرار دے رہا ہے، انڈین تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی کے دورے کا اصل فوکس دوطرفہ تعلقات پرہو گا جبکہ خطے میں موجودہ کشیدگی پر بات چیت ممکنہ طور پر بند دروازوں کے پیچھے ہی ہو گی۔ یہ توقعات کے مطابق ہے کیونکہ نئی دہلی ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی دیگر ممالک کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔

ایران کا امریکا کو دو ٹوک جواب: ’ہمیں دھمکا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔‘ 

آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مشرقِ وسطیٰ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کبیر تنجا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا نے سنہ 1988 میں فلسطین کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے۔ سیاسی طور پر جو کچھ کیا جا سکتا تھا، وہ بڑی حد تک ہو چکا ہے۔ انڈیا کی دیرینہ پالیسی کے مطابق، علاقائی تنازعات کا حل خود خطے کو تلاش کرنا چاہیے۔‘

سوال یہ ہے کہ جب پاکستان امریکا اور دیگر ممالک کے ساتھ غزہ پیس بورڈ کا حصہ بن چکا ہے تو ایسے وقت میں انڈین وزیراعظم کا دورہ پاکستان کے لیے کیسا ثابت ہوگا؟ 

کبیر تیجا کہتے ہیں کہ انڈیا کی مقامی دفاعی ٹیکنالوجی کئی شعبوں میں اب بھی پیچھے ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب جنگیں زیادہ خودکاراورٹیکنالوجی پرمبنی ہو رہی ہیں۔ پاکستان اور چین کے ساتھ کشیدگی کے پیش نظر انڈیا کے پاس یہ رعایت موجود نہیں کہ وہ بہترین ٹیکنالوجی حاصل نہ کرے، اور اسرائیل اس ضرورت کو بخوبی پورا کر سکتا ہے۔‘

اس دورے کا مقصد انڈیا کا اسرائیل سے آئن بیم اور آئرن ڈوم جیسی ٹیکنالوجی کو مقامی سطح پر تیار کرنے کا معاملہ زیر بحث لانا ہے، اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک نئے علاقائی اتحاد کا تصور پیش کیا ہے جسے انہوں نے "ہیکساگون" کا نام دیا ہے۔ اس میں انڈیا کے علاوہ یونان، قبرص اور چند عرب و افریقی ممالک کو شامل کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس کا مقصد ایران جیسے نظریاتی ممالک کا مقابلہ کرنے کے لیے قوت کو جمع کرنا ہے، پاکستان کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے اتحاد خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑ سکتے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انڈیا اوراسرائیل کے درمیان انٹیلی جنس شیئرنگ پاکستان کے لیے ہمیشہ سے تشویش کا باعث رہی ہے۔ مودی کا یہ دورہ اسرائیل میں پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ (Narrative) کو مزید تقویت دے سکتا ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن متاثر ہو سکتی ہے۔

حالات، واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ دورہ محض ایک رسمی دورہ نہیں بلکہ خطے میں بنتے، بگڑتے اتحادوں کی طرف اشارہ ہے۔ انڈیا، اسرائیل سے جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل کر کے اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے، اس دورے کے بعد پاکستان سٹریٹجک تبدیلی، طاقت کے توازن کے لیے کوئی قدم اٹھاسکتا ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر