جی ڈی پی کے لحاظ سے ٹیکس آمدن کا سفر بھی عجیب ہے۔ کبھی یہ نیچے گرتی ہے کبھی اوپر جاتی ہے اور کبھی ریاضیاتی گراف پر وہی پرانی یو (U) شکل اختیار کر لیتی ہے اس میں پیٹرولیم لیوی بھی شامل ہے، جو 2022-23 میں سیلز ٹیکس کے خاتمے کے بعد اچانک منظر پر آئی۔
2025-26 میں مجموعی ٹیکس شرح جی ڈی پی کے 12.6 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس سے پہلے 2024-25 میں یہ 12.2 فیصد تھی یعنی ترقی ہو رہی ہے، مگر قدم ایسے ہیں جیسے کوئی احتیاط سے سیڑھیاں اتر رہا ہو۔ 2003-04 کی بات کروں تو شرح صرف 7.1 فیصد تھی یعنی اس وقت کم از کم حساب کتاب میں سادگی ضرور تھی۔
وفاق اور صوبوں کا تعلق یہاں بھی دلچسپ ہے۔ وفاق تقریباً 92 فیصد ٹیکس اکٹھا کرتا ہے جبکہ صوبوں کے حصے میں صرف 8 فیصد آتا ہے۔ حالانکہ خدمات پر سیلز ٹیکس جیسے شعبے ان کے پاس ہیں لیکن آمدن وہی ہے جو کبھی کبھار راستہ بھول جاتی ہے۔ بھارت جیسے وفاقی ملک میں یہ حصہ تقریباً 30 فیصد ہے یعنی وہاں تقسیم نسبتاً کم یک طرفہ ہے۔
براہ راست ٹیکسوں کا حصہ بھی ایک مثبت کہانی سناتا ہے۔ 1990 کی دہائی میں یہ صرف 20 فیصد تھا اب تقریباً 45 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ یعنی نظام نے کچھ نہ کچھ سمت ضرور بدلی ہے۔ لیکن ساتھ ہی ودہولڈنگ ٹیکس کا کردار ایسا ہے جیسے ہر چیز پہلے ہی راستے میں کاٹ لی جاوے کیونکہ انکم ٹیکس کی تقریباً 60 فیصد وصولی اسی سے آتی ہے۔
بالواسطہ ٹیکسوں میں اصل ہیرو سیلز ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی ہیں جو مل کر 71 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں۔ کسٹمز اور ایکسائز ڈیوٹی اب وہ کردار بن چکے ہیں جنہیں اسکرپٹ میں کم بولنے دیا جاتا ہے کیونکہ ان کا حصہ جی ڈی پی کے صرف 1.7 فیصد کے برابر رہ گیا ہے۔
اگر علاقائی موازنہ کریں تو پاکستان کا ٹیکس بہ نسبت جی ڈی پی 12.2 فیصد کے آس پاس ہے۔ بنگلہ دیش اور سری لنکا سے بہتر، لیکن بھارت، ملائیشیا اور تھائی لینڈ سے پیچھے، جہاں یہ 14 سے 18 فیصد کے درمیان ہے۔ یعنی ہم نہ بہت آگے ہیں اور نہ بہت پیچھے ہیں بس درمیان میں مستقل موجود۔
ٹیکس کی شرحوں کا معاملہ بھی کم دلچسپ نہیں۔ سیلز ٹیکس 18 فیصد ہے جو اپنی جگہ مضبوط ہے۔ امپورٹ ٹیرف تقریباً 9.9 فیصد ہے یعنی وہی درمیانی راستہ۔ کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد ہے جو خطے کے حساب سے ایک نارمل زون میں آتا ہے۔ لیکن ذاتی آمدن پر زیادہ سے زیادہ شرح 35 فیصد تک پہنچ جاتی ہے جو بنگلہ دیش (25 فیصد) اور بھارت (30 فیصد) سے زیادہ ہے۔
اصل مسئلہ صرف شرحوں کا نہیں بلکہ گنجائش کا ہے۔ مختلف طریقوں سے اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی ممکنہ ٹیکس آمدن سے تقریباً 3 فیصد جی ڈی پی پیچھے ہے۔ یعنی اگر نظام اپنی پوری صلاحیت دکھائے تو شرح 15 فیصد تک جا سکتی ہے۔
اب اصل دلچسپ حصہ ٹیکس گیپ کا ہے یعنی وہ رقم جو ہونی چاہیے تھی مگر نہیں ہے۔ ذاتی انکم ٹیکس دوگنا سے زیادہ ہو سکتا ہے، سیلز ٹیکس تقریباً 25 فیصد بڑھ سکتا ہے۔ اور صوبائی سطح پر تو خلا اتنا بڑا ہے کہ اسے خلا کہنا بھی شاید کم پڑ جائے۔
زرعی آمدن پر ٹیکس کی مثال لیں تو 2023-24 میں ممکنہ گیپ 880 ارب روپے تھا جبکہ وصولی صرف 10 ارب روپے۔ یعنی ہدف اور حقیقت کے درمیان فاصلہ صرف بڑا نہیں، بلکہ تقریباً پورا نظام ہے۔ خدمات پر سیلز ٹیکس میں بھی تقریباً 650 ارب روپے کا خلا ہے۔
جائیداد کے ٹیکس بھی کم دلچسپ نہیں ہیں۔ پانچ مختلف ٹیکس موجود ہیں مگر مجموعی آمدن جی ڈی پی کے 0.3 فیصد سے بھی کم ہے جبکہ ممکنہ سطح 0.8 فیصد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ یعنی یہاں بھی صلاحیت اور حقیقت کے درمیان فاصلہ مستقل موجود ہے۔
ٹیکس کا بوجھ بھی ہر جگہ برابر نہیں۔ مجموعی طور پر نظام کو ہلکا سا رجعتی کہا جا سکتا ہے۔ یعنی بظاہر اصلاح بھی ہے اور ساتھ میں پرانی ساخت بھی برقرار ہے۔ براہ راست ٹیکسوں نے اسے کچھ ترقی پسند بنایا ہے لیکن پیٹرولیم لیوی نے پھر توازن یاد دلا دیا ہے۔
شعبہ جاتی سطح پر بھی یہی کہانی ہے۔ کچھ شعبے زیادہ بوجھ اٹھاتے ہیں کچھ نسبتا کم اور کچھ شاید ابھی تک نقشے پر مکمل طور پر دریافت نہیں ہوئے۔
دنیا کے تجربات دیکھیں تو کہیں ٹیکس ہالیڈے ہیں کہیں برآمدات کے لیے رعایتیں، کہیں توانائی کے اخراجات کو حساب میں مختلف انداز سے شامل کیا جاتا ہے۔ یعنی ہر ملک نے اپنی سہولت کے مطابق نظام کو تھوڑا موڑا ہے۔
اگر ساری بحث کو ایک لائن میں سمیٹوں تو تصویر یہ بنتی ہے کہ پاکستان کے پاس ٹیکس بڑھانے کی صلاحیت بھی ہے خلا بھی ہے اور سمت بھی ہے بس ایک چیز مسلسل لاپتا ہے اور وہ ہے نظام کا توازن۔







