افغان طالبان کی حمایت ان کے ملک کے سفارتی وقار کو خراب کرے گی، اس بار کسی ایک مسلم ملک نے پاکستان کی جانب سے کی گئی ائیر سٹرائیک کی مذمت نہیں کی نہ کسی نے کوئی بیان جاری کیا۔ غیر مسلم ممالک میں انڈیا کے علاوہ کسی نے حمایت یا مذمت نہیں کی۔ آج روسی وزرات خارجہ نے باقاعدہ طور پر ایک رپورٹ جاری کر دی جس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں کتنے غیر ملکی دہشت گرد موجود ہیں اور کتنے افغانی لڑنے کیلئے تیار ہو رہے ہیں۔ افغان طالبان کی حکومت میں قندھاری گروپ کے علاوہ بھی کسی گروپ نے پاکستان کیخلاف مذمتی بیان نہیں دیا۔ 

روسی فیڈریشن کی وزارت خارجہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سرگرم سب سے بڑے دہشت گرد گروہ ہیں ISIS-K تقریباً 3,000 افراد کے ساتھ، تحریک طالبان پاکستان 5,000 سے 7,000 افراد کے ساتھ، القاعدہ 400 سے 1,500 افراد کے ساتھ، مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ 300 سے 1,200 افراد کے ساتھ۔ حزب اسلامیترکستان 150 سے 500 افراد کے ساتھ اور جماعت انصار اللہ 150 سے 250 افراد کے ساتھ موجود ہے۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کا حوالہ دیا گیا ہے کہ 2025 میں پوست کے زیر کاشت رقبہ 2024 کے مقابلے میں 20 فیصد کم ہو کر 12,800 ہیکٹر سے 10,200 ہیکٹر رہ گیا۔

افغان طالبان شہریوں کی ہلاکت کے متعلق بھی جھوٹ بول رہے ہیں کہ صرف ضلع بہسود میں کم از کم 18 شہری بشمول خواتین اور بچے مارے گئے تھے، افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں کے بعد عام شہریوں کی ہلاکتوں کی معتبر اطلاعات میں کم از کم 13 شہری ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں۔ اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم  نے ٹی ٹی پی کو سختی سے کہہ دیا ہے کہ ہم افغان سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ہم نے پاکستانی فریق سے بھی کہا ہے کہ وہ کسی کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک فوج کے جوانوں کی وائرل ویڈیو، حقیقت کیا ہے؟

پاکستان نے دو بار افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سٹرائیک کی اور خاموشی اختیار کی اس کے بعد سفارت کاری کے ذریعے سے تمام ممالک کو اعتماد میں لیا۔ قطر، ترکیہ، سعودی عرب، ایران اور تاجکستان میں افغان طالبان کو پیچھے ہٹنا پڑا اور پاکستان کے فراہم کئے گئے ثبوت کیخلاف کچھ جواب نہیں دے سکے۔  سعودی عرب میں انھوں وقت مانگا تھا مگر اس مانگے گئے وقت میں افغان سپریم لیڈر نے اپنے تمام وعدے وفا کرنے کی بجائے نئے  دہشت گردوں کا تیار کیا اپنی کابینہ میں بھی شکنجے سخت کرنے شروع کئے۔ حکومت میں چار گروپس کو برابر کی طاقت دینے کے بجائے قندھاری گروپ کو نواز اور ان کے آپس میں اختلاف طول پکڑ گئے۔ حقانی، تاجک اور ازبک گروپ میں سے کسی نے ان ٹریننگ سینٹر پر کی گئی ائیر سٹرائیک کیخلاف بیان نہیں دیا۔ وہ بھی چاہتے ہیں کہ افغان سپریم لیڈر کی عقل کو ٹھکانے لگایا جائے۔ کیونکہ وہ جو افغانستان کا چہرہ دکھانا چاہتے ہیں افغان سپریم لیڈر اس کیخلاف کام کر رہے ہیں۔ 

تحریر:فرحان ملک

نوٹ: یہ تحریر فیس بک وال سے لی گئی ہے، بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر