امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے دن ہی یہ جنگ ختم ہو جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ تہران میں اسٹیبلشمنٹ اب بھی اپنی جگہ برقرار ہے۔
یہ صرف امریکا اور اسرائیل ہی نہیں بلکہ کئی ایسے تجزیہ کار اور سیاسی ماہرین بھی یہی سمجھ رہے تھے۔
ایران اور ایران کے موجودہ سیاسی نظام کو سمجھنا مشکل ہے، ایران کا نظامِ اقتدار بہت پیچیدہ ہے۔ اگرچہ رہبرِ اعلٰی کو ملک میں سب سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں لیکن اس ریاست کے اندر بھی ایک ریاست ہے، جسے پاسدارانِ انقلاب کہا جاتا ہے اور اس کی طاقت کسی بھی دوسری فوج کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
گذشتہ موسمِ گرما اور اس موجودہ تنازع میں اس کے متعدد سینیئر کمانڈر مارے جاچکے ہیں۔ لیکن پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جب بھی اس کا کوئی اہلکار شہید ہوگا، اس کی جگہ دوسرا شخص مقرر کر دیا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب کو بسیج کا بھی کنٹرول حاصل ہے۔ یہ ایک رضاکار فورس ہے جس کے اراکین کی تعداد تقریباً 10 لاکھ ہے اور اسے اکثر سڑکوں پر اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف طاقت کے استعمال کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے بسیج کے متعدد چیک پوائنٹس کو نشانہ بنایا ہے، لیکن رواں ہفتے تہران سے مجھے لوگوں نے بتایا ہے کہ اس فورس کے اہلکار اب بھی سڑکوں پر موجود ہیں، گاڑیوں کو روک رہے ہیں اور تلاشی لے رہے ہیں۔
جہاں تک احتجاجی مظاہروں کی بات ہے، ایرانی حکومت نے بیانات اور پیغامات کے ذریعے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ سڑکوں پر نہ نکلیں۔
ملک میں انٹرنیٹ کی بندش ہے، جس کے سبب احتجاجی مظاہروں کا انعقاد مشکل ہے۔ اس جنگ کی ابتدا کے بعد ہم نے ایران میں کوئی بڑے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے نہیں دیکھے، تاہم سرکاری میڈیا پر ضرور اسٹیبلشمنٹ کے حامیوں کی ریلیوں کی خبریں نشر ہوتی ہیں۔
ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای اپنی تقرری کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے ہیں۔ اب تک صرف سرکاری میڈیا پر ان کے تحریری پیغامات ہی دیکھے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی مذاکرات: ایران نے مجوزہ امریکی تجاویز مسترد کردیں، ایرانی حکام کے پانچ نکات کیا ہیں؟
اسرائیل نے انھیں بھی نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے۔ ایران کی موجود اسٹیبلشمنٹ نے شہید ہونے والے قائدین کے متبادل لا کر کھڑے کر دیے ہیں چیک پوائنٹس بڑھا دیے ہیں۔
ایران کے موجودہ رجیم کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس نے یہ ثابت نہیں کیا ہے کہ وہ ایک ایسی قوم پر مزید حکمرانی کر سکتی ہے جو اس کے اختیارات کو نہیں مانتی بلکہ طاقت کے استعمال کے سبب خاموش ہے۔
جو نتائج امریکا اور اسرائیل حاصل کرنا چاہتے تھے وہ بھی حاصل نہیں کرپائے بلکہ امریکا اور اسرائیل میں ’بلیم گیم‘ شروع ہوچکی ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ برملا کہہ رہے ہیں کہ اس جنگ میں ان کے داماد نے دھکیلا ہے۔
اس جنگ میں ایران بہت کچھ کھونے کے بعد بھی مضبوط پوزیشن پر ہے، اس بات کا ثبوت یہ بھی ہے کہ ایران نے امریکا کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے اپنی شرائط رکھ دی ہیں۔
ایران اپنی میزائل صلاحیت کا مبینہ طور پر 90 فیصد حصہ کھونے کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو مفلوج کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا، اس بے بسی نے ٹرمپ انتظامیہ کو مجبور کیا کہ وہ مارکیٹ مستحکم کرنے کے لیے ایرانی تیل پر عائد بعض پابندیاں عارضی طور پر ختم کر دے۔
ایران نے اپنے باقی ماندہ اسلحے سے درست نشانے لگانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایران کے ساؤتھ پارس فیلڈ پر اسرائیلی حملے کے جواب میں ایران نے قطر کی اہم گیس سائٹ کو نشانہ بنایا اور بعد ازاں اسرائیلی دفاعی نظام کو توڑتے ہوئے عراد اور دیمونا کے شہروں پر حملے کیے۔
مزید پڑھیں: ایرانی جارحیت کا تسلسل تہران کو بھاری سیاسی قیمت چکانے پر مجبور کرے گا، سعودی عرب
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران اب بھی اپنے دشمنوں کو بڑا نقصان پہنچا سکتا ہے۔
ایران اب ایسے مطالبات کر رہا ہے جو پہلے میز پر نہیں تھے، جن میں جنگی نقصانات کا ہرجانہ، دوبارہ حملہ نہ کرنے کی ٹھوس ضمانتیں اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا ریگولیٹری فریم ورک شامل ہیں۔
ماہرین کا یہ خیال ہے کہ ایران اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گا، سپریم لیڈر، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل علی لاریجانی کی شہادت کے بعد مجتبیٰ خا منہ ای اور محمد باقر ذوالقدر (سابق پاسدارانِ انقلاب کمانڈر) کی تقرری اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران اب سفارتی سمجھوتے کے بجائے "طویل مدتی تصادم" کی تیاری کر رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعلطل ہے مگر پاکستان، ترکیہ بطور ثالث کے آگے بڑھے ہیں اور جنگ رکوانے کی کوشش کررہے ہیں، مذاکرات کی میز سجنے کو تیار ہے، مطالبات بھی سامنے آچکے ہیں۔ اب اس کے نتائج کیا سامنے آتے ہیں؟ جنگ بندی ہوتی ہے یا نہیں یہ مذاکرات کے بعد پتہ چلے گا۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







