گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی جنگی کیفیت نے ایک بار پھر اس سوال کو زندہ کیا کہ ایسے حالات میں فنکار، شاعر اور ادیب کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا وہ صرف جذبات بھڑکائیں؟ کیا وہ خاموش رہیں؟ یا پھر وہ اپنی تخلیق کے ذریعے قوم کو حوصلہ بھی دیں اور امن کی راہ بھی دکھائیں؟

جب کسی ملک پر حملہ ہو جائے، اس کی خودمختاری خطرے میں پڑ جائے یا اس کے عوام خوف اور بے یقینی کا شکار ہوں تو ہر شہری کی طرح ادیب اور فنکار پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے وطن کے ساتھ کھڑا ہو۔ وطن سے محبت صرف بندوق اٹھانے کا نام نہیں بلکہ اپنی سوچ، اپنی زبان اور اپنی تخلیق کے ذریعے قوم کا مورال بلند کرنا بھی دفاع کا حصہ ہے۔ شاعر اپنی نظموں میں قربانی، جرات اور اتحاد کا پیغام دے سکتا ہے۔ گلوکار اپنی آواز سے امید جگا سکتا ہے۔ ادیب لوگوں کو یہ احساس دلا سکتا ہے کہ مشکل وقت میں قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ شعور اور اتحاد سے بھی زندہ رہتی ہیں۔

لیکن اس کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی ہے، اور وہ یہ کہ جنگ کبھی بھی انسانیت کیلئے اچھی نہیں ہوتی۔ جنگ میں صرف فوجی نہیں مرتے، خواب مرتے ہیں، گھر اجڑتے ہیں، بچے یتیم ہوتے ہیں، معیشت تباہ ہوتی ہے اور نسلوں تک نفرت باقی رہتی ہے۔ اسی لیے ایک ذمہ دار فنکار یا ادیب کا کردار صرف جنگی جذبات ابھارنا نہیں بلکہ انسانیت اور امن کی بات کرنا بھی ہے۔ اسے قوم کے دفاع اور جنگی جنون کے درمیان فرق سمجھنا ہوتا ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ برس پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران سوشل میڈیا پر شدید قوم پرستی، نفرت انگیز بیانات اور جذباتی ردعمل دیکھنے میں آئے۔ کئی فنکاروں اور لکھاریوں نے اپنے اپنے ملک کے حق میں آواز بلند کی، جو ایک فطری عمل تھا۔ مگر کچھ حلقوں میں نفرت کو اس انداز سے پیش کیا گیا کہ گویا جنگ ہی واحد حل ہو۔ ایسے ماحول میں دانشور طبقے کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔ انہیں یہ یاد دلانا چاہیے کہ اختلاف حکومتوں اور پالیسیوں سے ہو سکتا ہے، مگر عام انسان ہر جگہ امن، تحفظ اور عزت چاہتا ہے۔

ادب کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ جذبات کو توازن دیتا ہے۔ فیض احمد فیض نے جنگ اور آمریت کے ادوار میں بھی انسان دوستی کی بات کی۔ احمد فراز نے مزاحمت لکھی مگر نفرت نہیں پھیلائی۔ ہندوستان میں بھی کئی ادیبوں اور شاعروں نے جنگ کے بجائے مکالمے اور امن کی حمایت کی۔ یہی رویہ دراصل ایک مہذب معاشرے کی پہچان بنتا ہے۔

آج کے دور میں، جہاں ایک ٹوئٹ یا ویڈیو لاکھوں لوگوں تک پہنچتی ہے، فنکاروں اور ادیبوں کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ان کے الفاظ لوگوں کے ذہن بنا بھی سکتے ہیں اور بگاڑ بھی سکتے ہیں۔ اگر وہ صرف اشتعال انگیزی کریں گے تو نفرت بڑھے گی، لیکن اگر وہ حوصلہ، شعور اور امن کی بات کریں گے تو معاشرہ توازن میں رہے گا۔

وطن کا دفاع ہر شہری کا فرض ہے، اور جب حملہ ہو تو قوم کو متحد ہونا چاہیے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ امن کی خواہش بھی زندہ رہنی چاہیے، کیونکہ اصل کامیابی جنگ جیتنے میں نہیں بلکہ جنگ کو روکنے میں ہوتی ہے۔ ایک سچا شاعر، ادیب اور فنکار وہی ہے جو اپنے وطن سے محبت بھی کرے اور انسانیت سے دشمنی بھی نہ کرے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر