کہنے والے کہتے ہیں کہ پریس کانفرنس تو افغانستان کی طرف سے ہونے والی دراندازی پر تھی، ملک میں جاری پراکسی وار پر تھی مگر ایک سیاسی جماعت کو اس میں لپیٹ دیا گیا، ناقدین یہ بھی الزام لگاتے ہیں کہ صحافی مقامی نہیں تھے بلکہ ’فوجی ٹرک‘ میں ہی اسلام آباد سے لائے گئے تھے۔ ہمیں کیا کہاں سے لائے گئے۔ صحافی تو صحافی ہوتا ہے ڈی جی خان کا ہویا ڈی جی کا۔
اب کھوج لگاتے ہیں کہ آخر الزامات میں کتنی سچائی ہے، پی ٹی آئی کس حد تک ٹی ٹی پی کی سہولتکاری کررہی ہے؟ صحافی امجد بخاری اپنی فیس بک وال پر لکھتے ہیں کہ فوجی ترجمان کی پریس کانفرنس کے بعد اڈیالہ سے ٹوئٹ کیا گیا کہ ’یہ فیصلہ ہمارا نہیں تھا۔‘
اس حوالے سے گوگل، خبروں اور ویڈیوز کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور قیادت نے مختلف اوقات میں ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کی پالیسی اختیار کی، جس سے ملک میں دہشتگردوں کے دوبارہ فعال ہونے کا خطرہ پیدا ہوا۔
فوج نے ہر دور میں قومی سلامتی اورعوام کی حفاظت کو اولین ترجیح دی، جبکہ پی ٹی آئی کی پالیسیاں بعض اوقات دہشتگردوں کے ساتھ مفاہمت کی حمایت پر مرکوز رہیں، جس سے داخلی سلامتی کے محاذ پر خطرات پیدا ہوئے۔
1. 26 ستمبر 2013: عمران خان نے تجویز پیش کی کہ حکومت ٹی ٹی پی کو ملک میں سیاسی دفتر کھولنے کی اجازت دے تاکہ امن مذاکرات کا آغاز ہو سکے۔
2. 1 اکتوبر 2021: عمران خان نے کہا کہ حکومت ٹی ٹی پی کے کچھ دھڑوں کے ساتھ مفاہمت کے عمل پر بات کر رہی ہے۔
3. 10 دسمبر 2021: عمران خان نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے بعض دھڑوں سے بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ امن قائم کیا جا سکے۔
4. 15 اکتوبر 2021: عمران خان نے کہا کہ پشتونوں کی اکثریت افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے ساتھ ہے، نہ کہ ان کے مذہبی نظریات کی وجہ سے بلکہ پشتون قوم پرستی کی وجہ سے۔
5. 2 فروری 2023: عمران خان نے کہا کہ کابل کے سقوط کے بعد ٹی ٹی پی کے ہزاروں جنگ جوؤں کو پاکستان میں آباد کرنے کے منصوبے کا دفاع کیا۔
6. 5 اگست 2024: عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی کارروائی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ اس سے داخلی اختلافات پیدا ہوں گے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ طویل ہو سکتی ہے۔
7. 10 ستمبر 2025: عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں اور ٹی ٹی پی کے خلاف فوجی کارروائی کو "بیوقوفی" قرار دیا۔
مزید پڑھیں: تمام سیاسی جماعتیں پیاری ہیں، کوئی خود کو ریاست سے اوپر سمجھتا ہے تو قبول نہیں، فوجی ترجمان
اب ایک عام آدمی بھی اچھے سے فیصلہ کرسکتا ہے کہ عمران خان کا ’رومانس‘ کس قدر گہرا تھا، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے بھی متعدد بار’سرحد پار‘ بات کرنے کی کوشش کی ۔
اس میں کوئی حرج نہیں کہ بات چیت ہونی چاہیے، مذاکرات سے ہی مسائل کا حل نکلتا ہے، اسرائیل اور حماس میں سیزفائر ہوسکتا ہے تو پاکستان اور افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی سے کیوں نہیں۔
اب تو افغان حکومت آہستہ آہستہ انڈیا کی طرف بڑھ چکی ہے، انڈیا میں افغان وزیرخارجہ کو خصوصی پروٹوکول مل رہا ہے، انڈیا میں بیٹھ کر وہ پاکستان پر الزامات عائد کررہے ہیں۔ اور یہاں سے وزیردفاع بھی کہتے ہیں کہ تعلقات مزید بگاڑ کی طرف جارہے ہیں۔ افغان حکومت کا رویہ بھی فطری ہے، جب پاکستان امریکا کی طرف بڑھے گا، تعلقات میں گرمجوشی دکھائے گا تو وہ بھی اپنے مفاد کے لیے کسی کو بھی گلے لگا سکتے ہیں۔
دیکھا جائے تو انڈیا بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے اور افغان حکومت کو بھی دنیا میں ابھی تک قبولیت نہیں ملی۔ دیہات میں ایک لطیفہ بہت وائرل ہے کہ جب بے جوڑ دوکنواروں کا رشتہ ہوجائے تو کہا جاتا ہے کہ تجھے کوئی لیتا نہیں تھا اور مجھے کوئی دیتا نہیں تھا۔
میرے خیال میں فاٹا کے لوگوں کی آہوں، چیخوں کو نہ دبایا جاتا تو آج آبدیدہ نہ ہونا پڑتا۔ چیخیں پیچھا کرتے کرتے آنسوؤں کی شکل میں آچکی ہیں۔ کل بھی ہم نے کہا تھا تم غلط کررہے ہو، آج بھی کہتے ہیں غلط کررہے ہو۔ بارود کی بو سے امن کی خوشبو نہیں لائی جاسکتی۔ خون سے لکھی تقدیر میں محبت نہیں نفرت جنم لیتی ہے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر






