چین کے اس ہائبرڈ ماڈل کو سمجھنے کے لیے، ہمیں اس کا موازنہ تاریخ کی تین بڑی سلطنتوں سے کرنا ہوگا۔

پہلی سلطنتِ روم۔ وہ روم جس نے پہلے تلوار کے زور پر فتوحات حاصل کیں اور پھر اپنا قانون اور ثقافت پھیلائی۔

 لیکن روم اپنی پھیلتی سرحدوں کو سنبھال نہ سکا اور اندرونی معاشی بحران کا شکار ہو گیا۔ اس کے برعکس، چین فوجی قبضے کے بجائے معاشی شراکت داری اور قرضوں کے ذریعے سیکیورٹی اوراستحکام کا جال بن رہا ہے۔

دوسرے نمبر پر برطانوی سلطنت۔  18ویں اور 19ویں صدی میں برطانیہ نے تجارتی راستوں پر کنٹرول کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی جیسے اداروں اور براہِ راست نوآبادیاتی نظام کا سہارا لیا۔

چین کا بی آر آئی (بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو) ماڈل بھی تجارتی راستوں پر کنٹرول کا کھیل ہے، لیکن چین براہِ راست سیاسی قبضہ کرنے کے بجائے ملکوں کو قرضوں اور معاشی انحصار میں جکڑتا ہے۔

جسے ماہرین کی جانب سے "نو-سامراجیت"  کا نام دیا جا رہا ہے۔

اس کے بعد امریکا ہے دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا نے اقوامِ متحدہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے بنا کر اپنے لبرل اصولوں کو عالمی قانون بنا دیا۔ آج چین اسی مغربی مرکزیت والے نظام کو چیلنج کر رہا ہے۔

 وہ شنگھائی تعاون تنظیم  جیسے متبادل بلاکس بنا رہا ہے اور بین الاقوامی قوانین کی اپنی مرضی سے تشریح کر رہا ہے، جس کی مثال  2016 میں ہم نے دیکھی کہ چین نے بحیرہ جنوبی چین کے عالمی عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا لیکن چین کی یہ برتری صرف بندرگاہوں اور سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ چین اب ایک نیا محاذ کھول چکا ہے اور وہ ہے تکنیکی بالادستی کا محاذ۔

ہواوے ، زیڈ ٹی ای  اور بی وائی ڈی  جیسی بڑی چینی کمپنیاں محض نجی کارپوریشنز نہیں ہیں، بلکہ یہ چینی ریاست کے اسٹریٹجک مفادات کا تسلسل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : چین بولے گا اور دنیا سنے گی (قسط 1)

 اپنے ڈیجیٹل سلک روڈ منصوبے کے تحت، چین دنیا بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچرفائیو جی نیٹ ورکس، اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے معیارات منتقل کر رہا ہے۔

اندرونِ ملک استعمال ہونے والا چین کا سوشل کریڈٹ سسٹم اور بگ ڈیٹا پرمبنی نگرانی کا ماڈل اب دنیا کے دیگر نیم جمہوری اور آمرانہ ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے۔ چین اب دنیا کو یہ سکھا رہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو کنٹرول کیسے کیا جاتا ہے؟۔

زمین سے لے کر خلا تک، چین کی نظریں اب ہر جگہ ہیں۔ 2020 کی دہائی میں چاند پر چانگ ای (Chang e) مشنز، مریخ پر روورزاور زمین کے مدار میں قائم ان کا اپنا "تیانگونگ خلائی اسٹیشن" اس بات کا ثبوت ہیں کہ چین خلائی کان کنی (Space Mining) اور سیٹلائٹ نیویگیشن میں مغرب کی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ 

لیکن کیا چین کے لیے یہ سب کرنا اتنا ہی آسان ہے؟ نہیں ہرگزنہیں اس عظیم تہذیبی منصوبے کے سامنے کئی بڑے خطرات موجود ہیں۔

یہ نہیں کہ چین میں ’سب اچھا ہے‘۔  پال کینیڈی کہتے ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اندرونی بحران کسی بھی سلطنت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

 چین اس وقت اپنی کم ہوتی آبادی کی وجہ سے شدید مسائل کا شکار ہے، جہاں  بوڑھی ہوتی آبادی اور نوجوانوں کی کمی معیشت کے لیے ایک زہر قاتل بن چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’مڈل انکم ٹریپ‘۔ ماحولیاتی بحران، اور ڈیجیٹل آمریت کے نتیجے میں پیدا ہونے والا شدید سماجی دباؤ بیجنگ کے اس ہائبرڈ ماڈل کے لیے سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔

نتیجتاً، چین کا عالمی تسلط کا تصور ایک ایسا ہائبرڈ ماڈل ہے جہاں تاریخ کی ہزار سالہ یادداشت اور جدید دور کا اسٹریٹجک حساب کتاب ایک دوسرے میں ضم ہو چکے ہیں۔ چین دنیا کو بدلنے کے لیے روایتی جنگوں کا سہارا نہیں لے رہا، بلکہ وہ اصولوں، الگورتھم، معاشی انحصاراورانفراسٹرکچرکے ذریعے ایک نئے عالمی نظم و نسق کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

تاریخ کا پہیہ گھوم چکا ہے۔ سلطنتِ وسطیٰ اپنے مرکز کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا دنیا چین کے اس نئے تہذیبی ماڈل کو قبول کرتی ہے، یا یہ عروج بھی تاریخ کی دوسری عظیم سلطنتوں کی طرح کسی نئے زوال کی داستان کا آغاز ہے۔