یہ کوئی اتفاق نہیں تھا بلکہ ایک مجبوری تھی۔ جب نظام حد سے زیادہ دباؤ میں آیا تو اسے بچانے کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ بنے۔
ستر کی دہائی سے لے کر آج تک پاکستان کئی مرتبہ ایسے مقام پر پہنچا جہاں لگتا تھا سب کچھ ٹوٹ جائے گا۔ ہر بار حالات اتنے بگڑ گئے کہ مکمل تباہی قریب محسوس ہونے لگی، لیکن ہر بار واپسی کسی نہ کسی شکل میں مکالمے سے ممکن ہوئی۔
کبھی سیاسی جماعتیں آمنے سامنے بیٹھیں، کبھی اداروں نے لچک دکھائی اور کبھی مفاہمت کے راستے نکالے گئے۔ اگرچہ زخموں کے ساتھ ہی سہی مگر یوں ملک دوبارہ چل پڑا۔
2007 سے 2009 کی وکلاء تحریک کو ہی دیکھ لیجیے۔ یہ صرف سڑکوں پر احتجاج کی کہانی نہیں تھی، یہ ایک ایسا عمل تھا جس میں وکلاء، شہری طبقہ، عدالتیں اور سیاسی قیادت سب شامل تھے۔ دباؤ بڑھا، آواز بلند ہوئی اور آخرکار بات چیت کا راستہ نکلا۔ اسی مکالمے نے عدلیہ کے لیے جگہ بنائی اور سیاسی نظام کو دوبارہ سانس لینے کا موقع دیا۔
اسی طرح 2008 کی سیاسی تبدیلی بھی کسی ایک فریق کی مکمل جیت نہیں تھی۔ جنرل مشرف کے دور کے خاتمے کے بعد جو عمل شروع ہوا، وہ دراصل ایک سمجھوتا تھا۔
تمام فریقوں نے یہ مان لیا کہ کوئی بھی اکیلا سب کچھ نہیں جیت سکتا۔ سب نے اپنی اپنی حدیں تسلیم کیں اور آئینی سیاست کی طرف واپسی کا راستہ اپنایا۔ یہ عمل کامل نہیں تھا، اس میں خامیاں اور کمزوریاں تھیں، لیکن اس نے ملک کو مکمل انتشار سے بچا لیا۔
موجودہ سیاسی بحران کو سمجھنے کے لیے ہمیں ذرا پیچھے ہٹ کر پورے نظام کو دیکھنا ہوگا۔ یہ صرف دو یا تین سیاسی جماعتوں کی لڑائی نہیں اور نہ ہی صرف چند چہروں کا مسئلہ ہے بلکہ اصل مسئلہ پاکستان کے سیاسی نظام کی کمزور بنیادیں ہیں۔
جب ایک بڑی سیاسی قوت (جسے عوام نے واضح حمایت دی ہو) کو نظام سے باہر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے تو نقصان صرف اسی جماعت کا نہیں ہوتا۔ اس سے پورے جمہوری عمل پر سوال اٹھ جاتا ہے اور لوگوں کا نظام پر اعتماد ہلنے لگتا ہے۔
2024 کے انتخابات پر چاہے جتنا بھی اختلاف ہو، ایک بات بہرحال سامنے آتی ہے۔ عمران خان اور ان سے جڑی سیاسی طاقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کسی کی پسند یا ناپسند کا معاملہ نہیں بلکہ زمینی حقیقت ہے۔
جمہوریت میں عوامی حمایت کو ماننا اور اسے نظام کے اندر جگہ دینا ضروری ہوتا ہے۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔سیاسی عدم استحکام کا سب سے گہرا اثر معیشت پر پڑتا ہے اور اسے سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں۔
عالمی مالیاتی ادارے جیسے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی رپورٹس میں یہ بات بار بار کہی گئی ہے کہ پاکستان کی سیاسی بے یقینی معاشی مسائل کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے۔
2022 کے بعد سے سیاسی بحران نے فیصلہ سازی کو تقریباً مفلوج کر دیا۔ بیرونی سرمایہ کاری کم ہوئی، روپے کی قدر گری اور ریاست پر مالی دباؤ بڑھتا چلا گیا۔ معیشت کی اپنی کمزوریاں اپنی جگہ لیکن سیاسی خطرے نے ان سب پر اضافی بوجھ ڈال دیا۔ جب سرمایہ کاروں کو یہ اندازہ نہ ہو کہ کل کیا ہوگا تو وہ اپنا پیسہ نکال لیتے ہیں اور یہی فطری عمل ہے۔
اس بحران کا سب سے زیادہ بوجھ عام لوگوں نے اٹھایا ہے۔ مہنگائی بڑھی، نوکریاں کم ہوئیں اور غربت کے مسائل سنگین ہوتے گئے۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں لیکن سیاسی عدم استحکام ان سب کو اور زیادہ خراب کر دیتا ہے۔
یہ کوئی کتابی بحث نہیں بلکہ لاکھوں گھرانوں کی روزمرہ زندگی کی حقیقت ہے، جہاں ہر دن پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔حالیہ سیاسی واقعات نے ایک خطرناک مثال قائم کی ہے۔ سخت کریک ڈاؤن، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور ٹکراؤ پر مبنی سیاست نے معاشرے کو گہرے طور پر تقسیم کر دیا ہے۔
یہ تقسیم صرف سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ گھروں، محلوں اور روزمرہ گفتگو تک پہنچ چکی ہے۔ لوگ ایک ہی ملک میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھنے لگے ہیں اور یہی سب سے بڑا نقصان ہے۔
سیاسی تاریخ اور دنیا کے تجربات ہمیں بتاتے ہیں کہ جب سیاست جیت اور ہار کے بجائے ختم کرنے کی جنگ بن جائے تو نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ جب ہر فریق یہ سمجھے کہ یا تو میں رہوں گا یا دوسرا ختم ہو جائے گا تو پھر ادارے اپنا توازن کھو دیتے ہیں۔
پارلیمانی جمہوریت کی اصل روح یعنی اختلاف کے ساتھ آگے بڑھنا ختم ہو جاتا ہے۔ اس کی جگہ ایک ایسی لڑائی لے لیتی ہے جس میں سب کچھ داؤ پر لگا دیا جاتا ہے اور یہی کسی بھی جمہوری نظام کے لیے سب سے خطرناک راستہ ہوتا ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مکالمہ کیا ہوتا ہے۔ یہ کوئی معصوم سی خواہش نہیں کہ سب لوگ ایک کمرے میں بیٹھ جائیں اور مسئلہ خود بخود حل ہو جائے۔ مکالمہ ایک باقاعدہ اور سنجیدہ عمل ہے، جس کے لیے اصول، فورمز اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔
سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ایسے غیر جانبدار پلیٹ فارم بنائے جائیں، جہاں تمام فریق اپنی بات کہہ سکیں۔ یہ پارلیمنٹ کی کمیٹیاں ہو سکتی ہیں، شہری تنظیموں کی موجودگی میں نشستیں ہو سکتی ہیں یا اداروں کے درمیان باضابطہ گفتگو کے طریقے ہوسکتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہر فریق کو یہ یقین ہو کہ اس کی بات سنی جا رہی ہے۔
دوسرا قدم یہ ہے کہ تمام تنازعات کا حل قانون اور آئین کے اندر رہتے ہوئے نکالا جائے۔ مکالمہ اور احتساب ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہوتے۔ عدالتیں اپنا کام کریں، تحقیقاتی ادارے اپنا کردار ادا کریں لیکن سب کچھ آئینی حدود میں ہو۔ احتساب اور سیاسی انتقام کے درمیان فرق کو واضح رکھنا بہت ضروری ہے ورنہ انصاف خود مشکوک ہو جاتا ہے۔
تیسرا اور آخری قدم سیاسی زندگی کو معمول پر لانا ہے۔ سیاسی سرگرمی کی آزادی، پرامن احتجاج کا حق اور آزاد میڈیا کسی اضافی سہولت کا نام نہیں بلکہ جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ انہیں وقتی فوائد کے لیے محدود کیا جا سکتا ہے لیکن اس کی قیمت مستقبل میں پورا نظام ادا کرتا ہے۔ تاریخ بار بار بتاتی ہے کہ دباؤ سے خاموشی تو آ سکتی ہے مگر استحکام نہیں۔
یہاں یہ سمجھنا بھی بہت ضروری ہے کہ اس بحران کا بوجھ صرف سیاسی جماعتیں اکیلی نہیں اٹھا سکتیں۔ ریاست کے دوسرے اداروں کو بھی اپنا کردار واضح کرنا ہوگا، خاص طور پر سیکیورٹی اداروں کے لیے یہ ماننا لازم ہے کہ دیرپا استحکام کسی ایک سیاسی نتیجے کو زبردستی نافذ کرنے سے نہیں آتا۔
اصل استحکام تب پیدا ہوتا ہے جب آئینی عمل قابلِ بھروسا ہو، احتساب شفاف ہو اور سب کے لیے ایک جیسا میدان موجود ہو۔ وقتی سیاسی بندوبست بظاہر فائدہ دے سکتا ہے مگر اس کی قیمت بعد میں ادارے اور پورا نظام ادا کرتے ہیں۔
عدلیہ کے سامنے بھی ایک نازک امتحان ہے۔ اسے اپنی آزادی برقرار رکھنی ہے، مگر ساتھ ہی سیاست کی حدود میں قدم رکھنے سے بھی بچنا ہے۔ انصاف اور صبر کے درمیان توازن ضروری ہے۔ عدالتیں نہ تو سیاسی خلا کو پُر کر سکتی ہیں اور نہ ہی انہیں ایسا کرنا چاہیے۔ جب عدلیہ سیاست کی جگہ لینے لگے تو انصاف بھی دباؤ میں آ جاتا ہے۔
ذرائع ابلاغ اور شہری معاشرے کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ان کا کام سوال اٹھانا اور طاقت کا احتساب کرنا ہے، نہ کہ معاشرے کو مزید تقسیم کرنا۔ خبر اور مہم میں فرق ہوتا ہے۔ غیر جانبدار رپورٹنگ معاشرے کو جوڑتی ہے، جب کہ جانبداری تقسیم کو گہرا کر دیتی ہے۔
یہ بحران صرف پاکستان کے اندر تک محدود نہیں ہے۔ علاقائی سیاست، عالمی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات سب اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ چوبیس کروڑ سے زائد آبادی والا ایک ایٹمی ملک اگر سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو تو دنیا اسے نظرانداز نہیں کرتی۔ سرمایہ کار، امدادی ادارے اور عالمی شراکت دار سب یہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان کس سمت جا رہا ہے۔
جمہوری استحکام اور مضبوط ادارے ان کے فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں بیرونی دباؤ کے آگے جھک جانا چاہیے لیکن یہ حقیقت ضرور ماننی چاہیے کہ ہمارے اندرونی فیصلوں کے عالمی اثرات ہوتے ہیں۔







