لیکن جیسے ہی ہم اس موضوع کو ’اپنے پیارے وطن‘ پاکستان میں لاتے ہیں تو صورتحال بالکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ جہاں تقریباً 45 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، اس کا مطلب ہے آدھا پاکستان ہمیشہ اس سوچ میں ہے کہ کیسے اپنی غربت ختم کی جائے۔

یہی وہ بنیادی فرق ہے جو معاشروں کے رویوں اور ترجیحات کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔

یہ یاد رکھیئے کہ پیسہ کمانا اور جاں فشانی سے کام کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ جب آدھے پاکستان کی سوئی اسی بات پہ اٹکی ہوگی کہ روزانہ نوکری پر جا کر دن ’ٹپانا‘ ہے اور مہینے کے آخر پر کچھ پیسے لینے ہیں، تو اس میں اپنے کام سے عشق کر کے اس میں نئے زاویے تلاش کرنا اور کچھ نیا کرنا بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔

درحقیقت انسان کی توجہ اکثر اسی سمت مرکوز رہتی ہے جہاں اس کی سب سے بڑی کمی یا ضرورت موجود ہو۔

لیکن ہمارے لوگوں کی بھی غلطی نہیں، کیوں کہ نفسیات کے مطابق انسان کے لیے سب سے پہلے فیزیکل ضروریات آتی ہیں جن میں کھانا پینا، سیکس، اور سیکیورٹی جیسی ضروریات شامل ہیں۔ اس کے بعد انسان کی معاشرتی ضروریات آتی ہیں، جن میں سوشل اپروول اور سیلف ایسٹیم شامل ہے۔

اسی اصول کو اگر پاکستانی معاشرے پر لاگو کر کے دیکھا جائے تو بہت سی چیزیں واضح ہو جاتی ہیں۔

اب جب ہمارے لوگوں کو بنیادی ضروریات ہی نہ ہونے کے برابر میسر ہوں تو کسی بھی میدان میں نئی سوچ لانے کی جدوجہد کوئی کیوں کرے گا۔

پاکستان میں مردوں کے لیے شادی کی اوسط عمر 24 سے 28 ہے جب کہ خواتین کے لیے یہ عمر 20 سے 24 ہے۔ یہ وہ عمر ہے جب انسان کی جنسی ضروریات سب سے زیادہ ہوتی ہیں، اور یہی وہ نوجوانی کی عمر ہوتی ہے جسے دنیا میں کچھ نیا کرنے کے لیے پرفیکٹ ایج مانا جاتا ہے۔

یہاں ایک اہم نفسیاتی پہلو بھی قابلِ غور ہے۔

اب جب پاکستانی نوجوانوں کی جنسی ضرورت ہی پوری نہیں ہوگی تو وہ یہ بات کیوں سوچیں گے کہ اٹھارویں صدی میں کوئی ذہین آدمی آیا تھا اور اس نے یہ بات کہی تھی۔

فیزیکل ضروریات جب تک دماغ پر طاری رہتی ہیں تب تک وہ انسان کو کچھ اور سوچنے کا راستہ ہی فراہم نہیں کرتی ہیں۔ یہ  پوری نہ ہونے کی صورت میں انسان کی ذہنی توانائی بقا اور ضروریات کے گرد گھومتی رہتی ہے، جس سے تخلیقی سوچ، جدت اور بلند مقاصد ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔

بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر