ہر صبح اٹھتے ہیں، ایک لاکھ پھونک دیتے ہیں۔ اگلے دن پھر۔ اور اگلے دن بھی۔

اب سوال یہ ہے کہ ایک کھرب روپے ختم کرنے میں آپ کو کتنا وقت لگے گا؟

ستائیس ہزار سال۔

اور پنجاب نے اس سال 59 کھرب روپے کا بجٹ پیش کیا ہے۔

پچھلے سال، یعنی 2025-26 میں، بجٹ تھا 5335 ارب روپے۔

اگر آپ اس بجٹ کو سو روپے کا ایک نوٹ سمجھیں، تو اس میں سے 51 روپے سیدھے چلے جاتے تھے …. تنخواہوں میں، پنشن میں۔ سرکاری مشینری کو چلاتے رہو، بس۔

اور نئے کام؟ سڑکیں، اسپتال، اسکول؟

صرف 23 روپے۔

یہ  بقا  کا بجٹ تھا۔ جیسے کوئی گھر چلائے، بس اس لیے کہ چلتا رہے۔

اس سال 568 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ کل بجٹ پہنچا 5903 ارب تک۔

لیکن اصل خبر یہ نہیں کہ پیسہ بڑھا…… اصل خبر یہ ہے کہ پیسہ کہاں گیا۔

ترقیاتی کاموں کا حصہ، جو پچھلے سال 1240 ارب تھا، اس سال بڑھ کر 1962 ارب ہو گیا۔ یعنی اب ہر سو روپے میں سے 33 روپے ترقی پر لگیں گے۔

یہ اچھی خبر ہے۔ واقعی۔

تعلیم کو 750 ارب روپے، صحت کو 500 ارب روپے۔ نمبر بڑے ہیں، یہ امید جگاتے ہیں۔ مگر جہاں یہ فنڈز خرچ کیے جائیں گے مگر ان کے نام دیکھیں  

نواز شریف کینسر اسپتال

کلثوم نواز کینسر اسپتال

نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ

مریم نواز ہیلتھ کلینکس

مریم نواز اسپورٹس سٹی

مریم نواز آٹزم اسکولز

تنقید کرنے والے یہ نہیں کہتے کہ یہ منصوبے بُرے ہیں۔ شاید یہ عوام کے لیے فائدہ مند بھی ہوں۔

سوال صرف یہ ہے …. ہر منصوبے کا نام ایک ہی خاندان کے گرد کیوں گھوم رہا ہے؟

یہ اس سال بجٹ میں ایک نئی مد ہے… جو پہلے کبھی نہ تھی۔

پنجاب نے وفاق کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے 546 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔

یعنی جو بوجھ کبھی صرف اسلام آباد کا تھا، اب لاہور بھی اس میں شریک ہو گیا ہے۔

تو کہانی یہ ہے ….

بجٹ بڑا ہوا….. ترقی کا حصہ بڑھا…. پیسہ صحت اور تعلیم پر لگا۔ 

لیکن...

وہ پیسہ اُسی جگہ پہنچے گا جہاں پہنچنا چاہیے؟

 یا صرف نام کی تختیاں لگیں گی؟

یہ سوال اس سال کی سب سے بڑی بحث بنا ہوا ہے۔

تحریر: اظہر تھراج 


نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر