پھر 2017ء آیا۔ فوجی قیادت نے وہی خواب دوبارہ اٹھایا۔ اس بار عزم مضبوط تھا، بجٹ مختص ہوا تقریباً 532 ملین ڈالر اور مزدور، انجینئرز اور فوجی دستے میدان میں اتر آئے۔
سال گزرتے گئے، اور باڑ آہستہ آہستہ اپنی حتمی شکل اختیار کرتی گئی۔ جنوری 2022ء تک 94 فیصد کام مکمل ہو چکا تھا، وزیرِ داخلہ نے اعلان کیا کہ صرف 20 کلومیٹر باقی ہے۔ اپریل 2023ء تک یہ ہندسہ 98 فیصد تک جا پہنچا، ساتھ ہی 85 فیصد قلعہ بندی بھی مکمل ہوئی۔ باڑ پاکستانی جانب 11 فٹ، افغان جانب 13 فٹ بلند کھڑی کی گئی، درمیان میں خاردار تار کا فاصلہ۔ تقریباً ایک ہزار چیک پوسٹیں، 1,200 سے زائد بارڈر پوسٹس، 800 سے زائد نگرانی کرنے والے ڈرونز۔۔ ایک پوری فصیل، جدید ٹیکنالوجی کے پہرے میں تیار ہوگئی۔
مگر جہاں اسلام آباد نے اس تکمیل کو کامیابی کا نشان قرار دیا، وہیں کابل میں بیٹھی افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس منصوبے کو سرے سے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، ان کے بقول یہ کام نہ ان کی حکومت کے دور میں شروع ہوا، نہ اب جاری ہے۔ باڑ کھڑی تھی، مگر اعتراف مشترک نہیں تھا۔ اور یہی وہ دراڑ تھی جو آگے چل کر بہت کچھ نگل جانے والی تھی۔
2026ء کا سال آتے آتے کہانی نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ فروری میں پاکستانی فضائیہ نے ننگرہار، پکتیکا اور خوست میں مبینہ عسکریت پسند ٹھکانوں پر حملے کیے۔ (مبینہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ دوسری جانب سے ان کو عام شہری کہا جارہا ہے) جواب آیا، شعلے بھڑکے، اور پاکستان نے "آپریشن غضبِ الحق" کا آغاز کر دیا۔ جون میں مزید انٹیلی جنس بیسڈ اور فضائی کارروائیاں ہوئیں۔ طورخم اور چمن کی گزرگاہیں بار بار بند ہونے لگیں، اور جو تجارت کبھی دونوں ملکوں کو جوڑتی تھی، وہ اب رکاوٹوں کی نذر ہونے لگی۔
یوں ثابت ہوا کہ باڑ صرف مٹی اور لوہے کی دیوار تھی، وہ اعتماد کی خلیج نہیں بھر سکی جو دونوں ممالک کے درمیان مہینوں سے گہری ہوتی جا رہی تھی۔ باڑ 98 فیصد مکمل ضرور تھی، مگر اصل مسئلہ اب باڑ سے آگے کا تھا: سرحد پار سے دراندازی، عسکریت پسندی کی پناہ گاہیں، اور دو ریاستوں کے درمیان بڑھتی بے اعتمادی۔
کاش کہ معاملہ یہیں رک جاتا۔ ملک کے دوسرے کونے یعنی بلوچستان سے بھی ایک اور کہانی ابھر رہی تھی۔ کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ اگر وہاں کسی بڑے فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا جائے تو حالات مزید بگڑ سکتے ہیں، جب تک کہ اس سے پہلے سیاسی راستہ نہ اپنایا جائے، عام معافی کا اعلان، ہتھیار ڈالنے والوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا، اور علاقے کی پسماندگی کو تعلیم، صحت اور سیاحت کے منصوبوں سے دور کرنا۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ صرف طاقت کا استعمال، سیاسی راستے کے بغیر، ماضی میں بھی مستقل امن نہیں لا سکا۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے اس بیان پر کہ "ہر مسئلے کا حل سیاسی نہیں ہوتا"، ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ہر مسئلے کا حل محض آپریشن ہو سکتا ہے؟ ان کے نزدیک ریاست کی مضبوطی طاقت کے مظاہرے سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور شمولیتی سیاسی عمل سے آتی ہے۔ یہ ایک زاویہ ہے، جسے بہرحال دوسرے حلقے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں، جن کے خیال میں کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت کارروائی وقت کی ضرورت ہے اور نرمی مزید کمزوری کا پیغام دے سکتی ہے۔
باڑ افغانستان کی سرحد پر کھڑی ہے، اور ایک اور، غیر مرئی باڑ بلوچستان کے پہاڑوں میں ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان کھنچی نظر آتی ہے۔ دونوں کہانیاں ایک ہی سوال کی طرف اشارہ کرتی ہیں: کیا سرحدیں صرف لوہے اور خاردار تار سے محفوظ ہوتی ہیں، یا اعتماد، مکالمے اور شمولیت سے؟
پاک افغان باڑ کی تعمیر، تکنیکی اعتبار سے تو ایک سنگ میل ہے، ایک کامیاب کہانی ہے۔ 2,611 کلومیٹر کا 98 فیصد حصہ مکمل ہوا مگر جیسا کہ 2026ء کے واقعات نے دکھایا، دیواریں دشمنی کو روک سکتی ہیں، مگر نفرت اور بے اعتمادی کے سفر کو نہیں۔ یہی وہ سبق ہے جو اس پوری کہانی سے نکلتا ہے، چاہے وہ ڈیورنڈ لائن ہو یا بلوچستان کے پہاڑ۔







