امریکا کی طرف سے جلائی گئی چنگاری اس کے سہولت کار ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑہ ہویا کوئی فوجی اڈہ ایرانی میزائل وہاں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔
اب لگژری ہوٹل اور شاپنگ مالز، بلند و بالا رہائشی عمارتیں، جدید ترین ایئرپورٹ وقفے وقفے سے نشانہ بن رہے ہیں، قطر کا ایک ارب ڈالر سے بنایا گیا پٹریاٹ دفاعی نظام ایک بھی میزائل نہیں روک سکا۔ عرب خلیجی ریاستوں کے فضائی دفاع میں ناکامی نے شہریوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
یہ مقامات کبھی اس سوچ کے ساتھ تعمیر نہیں کیے گئے تھے کہ ایک دن وہ ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کے حملے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کے لیے، جو موروثی بادشاہتیں ہیں اور جن کے لیے ایران کا انقلابی جوش وجذبہ ناقابلِ برداشت ہے، یہاں ایک سرخ لکیر عبور ہو گئی ہے۔
یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت کے بعد کبھی معمول کے تعلقات قائم کر سکیں گے۔
نئے ایرانی سپریم لیڈر کا انتخاب کیسے ہوگا؟
یران اس سے پہلے بھی خلیجی ریاستوں پر براہِ راست اور بالواسطہ حملے کر چکا ہے۔ 2019 میں عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا نے سعودی آرامکو کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر ڈرونز کا ایک سلسلہ وار حملہ کیا تھا، جس سے عارضی طور پر اس کی نصف برآمدات رک گئیں۔
گذشتہ سال ایران نے قطر میں العدید ایئربیس پر بیلسٹک میزائل داغے، لیکن پہلے سے اطلاع دے دی تھی۔ اور بحرین طویل عرصے سے ایران پر اپنے ملک میں باغیوں کو مالی امداد، تربیت اور اسلحہ فراہم کرنے کا الزام لگاتا رہا ہے۔
تاہم یہ سب کچھ اس صورتحال کے مقابلے میں معمولی ہے جس کا سامنا اب عرب خلیجی ریاستیں کر رہی ہیں۔
ایرانی رہبر اعلیٰ کو مار کر جو غلطی امریکا اور اسرائیل نے کی لگتا ایسے ہے کہ اس خمیازہ آس پاس کے مسلمان ممالک کو بھگتنا پڑے گا۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







