اس جنگ کی وجہ سے معاشی صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے، تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش اور ’ٹول ٹیکس‘ وصول کرنے کی کوششوں نے عالمی سطح پر ایندھن کی شدید قلت پیدا کر دی ہے۔
اسرائیل نے ایران کی ایٹمی تنصیبات اور بجلی گھروں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد تہران نے "شدید ترین" جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔
ایران کی طرف سے دنیا کی معاشی ناکہ بندی کے بعد عالمی سطح پر کچھ کردار عالمی سطح پر اہمیت اختیار کرگئے ہیں، پاکستان پہلے بھی دنیا کے لیے اہم تھا مگر اس تنازع کے بعد مرکز نگاہ بن چکا ہے۔
نیویارک ٹائمزکی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان، پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت امریکا کے لیے بہت اہمیت اختیار کرچکی ہے، ٹرمپ انتظامیہ سمجھتی ہے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جو امریکا کو ‘بحران‘ سے نکال سکتا ہے۔
اس قبل امریکا نے پاکستانی ذرائع کے ذریعے تہران کو ایک جامع تجویز ارسال کی ہے۔ یہ منصوبہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے ایک ممکنہ راستے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں ایران کے بیلسٹک میزائل، ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی جیسے حساس معاملات شامل ہیں۔
ابتدائی دعوؤں کے برعکس (کہ جنگ چند دنوں میں ختم ہو جائے گی)، ایرانی دفاع اب بھی قائم ہے۔ اگرچہ امریکا نے ایران کے میزائل ذخائر کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ایران اب بھی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے کر رہا ہے۔
امریکا میں عوام بڑھتے ہوئے جنگی اخراجات (جو اب تک 30 سے 40 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں) کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔
ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اگر کوئی ٹرمپ کی مدد کرسکتا ہے تو وہ پاکستان ہے۔ پاکستان اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر رہا ہے اور سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نکسن سے ٹرمپ تک: پاکستان عالمی طاقتوں کے درمیان پل كا كردار كیسے ادا كررہا ہے؟
نیویارک ٹائمزکی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے ‘پسندیدہ فلیڈ مارشل‘ ایران میں بھی گہرے روابط رکھتے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے حساس پیغامات کی منتقلی کے لیے ایک اہم ذریعہ بن گئے ہیں۔
اس صورتحال نے پاکستان کو جنگ بندی کی کوششوں میں ایک کلیدی کھلاڑی بنا دیا ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں باضابطہ مذاکرات کی میزبانی کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔
پاکستان 29 اور 30 مارچ کو سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کرنے جا رہا ہے، جہاں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات ہوں گے، خاص طور پر امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع پر توجہ دی جائے گی۔
غیر روایتی سفارت کاری، اقتصادی اقدامات نے پاکستان اور امریکا کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، نیویارک میں روزویلٹ ہوٹل سے متعلق ریئل اسٹیٹ پارٹنرشپ اور ٹرمپ خاندان سے منسلک ڈیجیٹل فنانس اسٹارٹ اپس میں شمولیت نے سونے پر سہاگے کا کام کیا ہے۔
امریکا میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو ایک ایسی تبدیلی کے طور پر بیان کیا جارہا ہے جہاں وہ محض ایک پس پردہ فوجی شخصیت کے بجائے عالمی اسٹریٹجک اور سفارتی امور میں ایک مرکزی آواز بن کر ابھرے ہیں۔
پاکستان کی موجودہ پوزیشن انتہائی حساس مگر بااثر ہے۔ اگر 29 اور 30 مارچ کے مذاکرات کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچتے ہیں، تو یہ نہ صرف عالمی معیشت کو سہارا دے گا بلکہ پاکستان کا قد عالمی سطح پر ایک "امن ساز" (Peacemaker) کے طور پر مستقل طور پر بلند ہو جائے گا۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







