جس کے باعث امریکی مقتدر حلقوں میں اب تشویش بڑھتی جارہی ہے امریکا کو اب احساس ہونے لگا ہے کہ صیہونی اب امریکا کی سلامتی کے لئے خطرہ بن رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکا اب اندرو نی سیاست میں موجود صیہونی حکام جو اسرائیل کے لئے کام کررہے ہیں ان سے جان چھڑا نا چاہتا ہے یہ بات اب ذہین دماغوں سے ڈھکی چھپی نہیں رہی ہے۔

دوسری جانب صیہونی ریاست کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ اب امریکا میں اس کو زیادہ وقت برداشت نہیں کیا جائے گا اس لئے امریکا اور اسرائیل دونوں کے فیصلہ سازوں نے اپنے اپنے بچاو کے لئے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہونے کے لیے اپنے اپنے جال بچھانا شروع کردیئے ہیں ۔

ان تفصیلات کو پڑھ کر مجھے یقین ہے زیادہ تر لوگ اس کو دیوانے کا خواب کہیں گے یا خام خیال یا پھر اس کو اسرائیل فوبیا کا نام دیں گے لیکن یہاں میں کسی طرح کے تجزیے اور رائے کا اظہار نہیں کروں گا بلکہ جیسا میں ہمیشہ اپنے مضامین میں کرتا رہوں وہی کروں گا یعنی حقائق سامنے رکھوں گا اور فیصلہ قارئین پر چھوڑ دوں گا ۔

میں یہاں توجہ دلانا چاہوں گا کہ خدا نے ظالموں کو مہلت تو دی ہے لیکن بے لگام نہیں چھوڑا ہے وہ ظلم کرتے ہیں لیکن ایک حد تک پھر ان کی بساط خود انھیں پر الٹا دی جاتی ہے ، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگر آپ دنیا کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسانی تہذیب کی کہانی صرف عروج کی نہیں بلکہ زوال کی بھی کہانی ہے۔ آج ہم ان بستیوں ، شہروں اور کھنڈروں سے واقف ہیں جو کبھی تہذیبی مراکز تھے مگر وقت کے ساتھ ان کا نام و نشان مٹ گیا۔ وہ تہذیبیں اب ماضی کا حصہ بن گئی بلکہ ان تہذیبوں کے حوالے سے ہمیں کچھ بہت زیادہ معلومات بھی نہیں ہے جن میں سے اکثریت وہ ہے جنہوں نے ظلم کیا چالاکیاں کی اور چالیں چلیں ۔

قرآنِ مجید کی سورۂ الانفال میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ : “وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ” 

ترجمہ: وہ اپنی چالیں چلتے ہیں اور اللہ اپنی تدبیر کرتا ہے اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی محدود عقل اور فہم کے مطابق منصوبے بناتا ہے۔ بعض اوقات وہ سازشیں کرتا ہے، حق کو دبانے کی کوشش کرتا ہے یا اپنے مفاد کے لیے چالیں چلتا ہے۔ اسے گمان ہوتا ہے کہ اس کی حکمتِ عملی ہی سب پر غالب آئے گی۔ لیکن قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات کا اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ 

آج کل ایپسٹین فائلز نے عالمی سیاست میں بھونچال مچادیا ہے اس سے اب ہم تقریباً سب ہی واقف ہیں تو اس کی تفصیلات میں جائے بغیر میں اس حصے پر بات کرنے کی کوشش کروں گا جو غالبا منظر عام سے غائب ہے یعنی یہ جو عالمی سیاست کو بری طرح جھنجھوڑنے والا اسکینڈل ہے، اِسے منظر عام پر کون لایا اور اِس کے پیچھے کیا محرکات تھے، یہ سوال صرف ایک واقعے کی تہہ تک جانے کی کوشش نہیں، بلکہ اُس کے پیچھے پوری عالمی سیاست کے وہ کردار ہیں جن سے اب تک ہم لا علم تھے۔ دنیا میں موجود تمام ممالک ہر قدم پہ فائدے اور نقصان کا حساب لگاتے ہیں ملکی پالیسی مذہب یا پسند نا پسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائی جاتی ہیں ۔ ریاستوں میں موجود پالیسی میکرز کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بتاتے ہیں کہ ان کی بنائی ہوئی پالیسی کا ملک پر کیا اثر ہوگا اور اس کا عوامی ردعمل کیا ہوگا، بین الاقوامی سطح پر سیاسی تصویر کیا بنے گی، اور میں دنیا کے سامنے کیا پوزیشن ہوگی ، ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو امریکہ اس وقت سپر پاورہے جس کو فوجی اعتبار سے بہرحال دنیا پربرتری حاصل ہے اور اس کی خفیہ ایجنسیاں دنیا بھر میں اپنے آپریشنز کامیابی سے انجام دے رہی ہے ۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر یہ قابل غور ہے کہ ایپسٹین فائلز اسکینڈل منظر عام پر کیسے آگیا اس اسکینڈل نے امریکا کی ان شخصیات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا جو دنیا میں طاقتور ترین سمجھے جاتے تھے۔

ایپسٹین فائلز اسکینڈل کوئی معمولی واقع ہر گز نہیں ہے کیونکہ اس میں لاکھوں دستاویزات، ہزاروں ویڈیوز، ان گنت تصاویر شامل ہیں جو اب تک جاری کئے جاچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ہر روز اس میں کچھ مزید حیران کردینا والا ظاہر ہورہا ہے یہ سلسہ جاری ہے رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ نہ معلوم یہ کب رکے گا، اور کیسے رکے گا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ فائلز باہر کیسے آئیں ؟ یعنی اس میں جن لوگوں کے نام اور کرتوت درج ہیں وہ کوئی یونین کونسلر ، چیئرمین یا کوئی معمولی افراد نہیں ہیں بلکہ وہ ہیں جو ممالک کی قسمتوں کا فیصلہ کرتے ہیں تو ایسے میں یہ بات بہت اہم ہے کہ امریکا کو کیا ضرورت پڑ گئی کہ اُس نے ان فائلز کو منظر عام پر لانے کا اپنے لیے اِتنا بڑا خطرہ مول لیا؟۔

 یہاں ایک بات بہت ہی اہم ہے جس کو سمجھے بغیر ایپسٹین فائلز کی حقیقت کو سمجھنا شائد ناممکن ہو ۔ آپ کو یہ جاننا پڑے گا کہ امریکا سے مراد کون لوگ ہیں ؟ کیا امریکا کوئی اکائی ہے یا وہ مختلف قوتوں کا مجموعہ ہے۔

اگر امریکا کو موضوعی طورپر دیکھا جائے تو امریکا کی سیاست کو صرف دو متصادم قوتوں میں تقسیم کر دینا حقیقت کو بہت سادہ بنا دینا ہے۔ وہاں طاقت کا ڈھانچہ نہایت پیچیدہ ہے جس میں سیاسی جماعتیں، کارپوریٹ مفادات، دفاعی صنعت، مذہبی گروہ، تھنک ٹینکس، میڈیا ادارے اور مختلف نسلی و مذہبی کمیونٹیاں سب اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں تاہم آج کے امریکا میں بنیادی طور پر دو قوتیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں۔ ایک قوت ہے امریکا فرسٹرز کی، جو کہتے ہیں کہ امریکا سب سے پہلے۔ دوسری قوت ہے اسرائیلی نواز صیہونی لابی جس نے اب امریکی سیاست اور نظام پر بہت زیادہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

وال اسٹریٹ جنرل کی ایک رپور ٹ کےمطابق اس وقت امریکا میں چھوٹی بڑی سیاسی و غیر سیاسی یہودی تنظیموں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے لیکن جہاں تک سوال ہے کہ کون سے صیہونی یا اسرائیلی نواز پریشر گروپس امریکی سیاست میں اثر رکھتے ہیں، تو اس  سب سے زیادہ معروف تنظیم AIPAC (American Israel Public Affairs Committee) ہے، جو امریکی قانون سازوں کے ساتھ رابطہ رکھتی ہے اور امریکا اسرائیل تعلقات کے حق میں لابنگ کرتی ہے۔ اسی طرح Anti Defamation League (ADL) ایک تنظیم ہے جو بظاہر  یہود مخالف تعصب اور نفرت انگیزی کے خلاف کام کرتی ہے۔ J Street نامی گروپ خود کو اسرائیلی نواز، پرو امن کہتا ہے اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے علاوہ Conference of Presidents of Major American Jewish Organizations مختلف یہودی تنظیموں کا ایک پلیٹ فارم ہے جو اجتماعی طور پر نمائندگی کرتا ہے۔آپ کو یہ جان کر ممکن ہے کہ حیرت ہو کہ یہ صیہونی تنظیمیں امریکا میں اتنی طاقتور ہیں کہ ان کی آمادگی کے بغیر امریکی ایوان نمائندگان میں قانون ساز تقریر بھی نہیں کرسکتے ہیں۔

میں یہاں تفصیلات کے بجائے مختصر انداز میں بتانا چاہوں گا کہ امریکا میں سنہ 2000 سے اب تک اسرائیل نواز صیہونی پریشر گروپس اور تنظیموں نے کس طرح امریکا کے مختلف صدور کو اپنے مطالبات منوانے کے لئے مجبور کردیا تھا ۔ سنہ 2000 میں امریکی صدارتی انتظامیہ میں نئے قدامت پسندوں یعنی  نیو کنزرویٹیوز  کا اثر و رسوخ غیر معمولی طورپر بڑھ چکا تھا۔

نئے قدامت پسندوں نے نائن الیون سے چار برس قبل  پروجیکٹ فار نیو امریکن سینچری  نامی تھنک ٹینک میں شمولیت اختیار کی۔ اس تھنک ٹینک کے بانیوں میں ولیم کرسٹل اور روبرٹ کیگن جیسے نظریہ ساز شامل تھے جنہوں نے پہلے ہی سے امریکا پر زور دینا شروع کردیا تھا کہ وہ جب تک ممکن ہو، دنیا میں اپنی اجارہ داری قائم رکھے۔

واضح رہے کہ ارونگ کرسٹل پال وولفووٹز رابرٹ کیگن اور رچرڈ پرل امریکی سیاست میں انتہائی طاقتور شخصیات میں شمار ہوتے ہیں اور یہ تمام افراد کٹر صیہونی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

نائن الیون کے خودساختہ دہشت گرد حملوں کے بعد امریکا نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا ، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی کی گرد ابھی بیٹھی بھی نہ تھی کہ نئے قدامت پسندوں نے اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کے ساتھ ایسا کیا جادو کیا کہ وہ ایک افغانستان ،عراق ، شام ، لیبیا کے ساتھ جنگ میں کود گئے جس نے امریکا کو اربوں ڈالرز کا نقصان دیا اور ہزاروں فوجی مارے گے ۔

امریکی تجزیہ کاروں نے بھی اس وقت اس بات پر اتفاق کیا کہ بش کی انتظامیہ نے اس پر ضرورت سے زیادہ ردعمل ظاہر کیا اس وقت تو اس کا مقصد سمجھ نہیں آیا لیکن اب سمجھ آرہا ہے۔

اگر میں سنہ 2000 سے اب تک کی تفصیلات بتاوں تو یہ بہت طویل ہو جائے گا اور اپیسٹین اسکینڈل کو وقت نہیں ملے گا تو اس کو مختصر کرکے براہ راست ٹرمپ کے دور حکومت پر آتے ہیں 

اگر ہم واقعات کی ایک چھوٹی سی ٹائم لائن آپ کے سامنے رکھیں تو ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے ساتھ ایک نئی داستان شروع ہوتی ہے۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ امریکا کو دوبارہ عظیم بنانا چاہتے ہیں اور اس کام کے لئے ان کو بیرونی جنگوں سے امریکا کا پیسہ نکالنا ہوگا۔ وہ خود کو پیس میکر کہتے ہیں وہ اقتدار میں آئے ہی اس نعرے پر تھے کہ امریکا بیرون ممالک جنگیں ختم کرے گا۔

ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد آپ نے دیکھا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جب اسرائیل نے ایرانی جوہری اور فوجی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ یہ حملے تہران سمیت کئی بڑے شہروں میں کیے گئے اور جنگ کے آغاز میں ہی ایرانی اعلیٰ فوجی کمانڈرز و سائنسدان ہلاک ہوئے۔ صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا کہ امریکا اس جنگ میں شامل ہو ۔ ٹرمپ نے بھی ایرا ن کے حوالے سے بہت جارحانہ بیان دیئے کہ نقشے سے مٹادیا جائے گا۔

 دوسری طرف امریکا کے وائس پریزیڈنٹ جے ڈی ونس جو کہتے تھے کہ ایران سے بات چیت ہونی چاہیے اور اس دوران اسرائیل ایران پر حملوں کے لئے امریکا کو  مجبور کیا، صورتحال ایسی ہوگئی کہ اب امریکا نے ایران پر حملہ کیا اور تب کیا، اس دوران ٹرمپ مسلسل ایران کو دھمکاتے رہے کہ ایران کو تباہ برباد کردیا جائے گا لیکن اس کے باوجود ایران پر حملہ نہیں کیا گیا 

اسرائیل کے مسلسل مطالبے پر ٹرمپ نے امریکا کا بحری بیڑا جو وہ پہلے جنوب مشرقی ایشیا کے سمندر South China Sea میں تھا اس خلیج فارس میں بھیج دیا ٹرمپ کے اس اقدام پر امریکی فوج میں احتجاج ہوا جس کو امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا۔ اور یوں 21 جون 2025 کو امریکی فضائیہ نے ایران پر بی ٹو بمبار جہازوں سے حملہ کیا ۔ اس حملے کو خود امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ حملے میں ایران کا کوئی جوہری پلانٹ نشانہ نہیں بنا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حملہ محض اسرائیل کے دباو میں کیا گیا تھا اس سے ایران کو کوئی نقصان نہیں ہوا ۔

اسرائیل کو بھی یہ بات سمجھ آگئی تھی جس کے نتیجےمیں صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو جو امریکا کے دورے پر تھے انھوں نے ایک بیان میں یکطرفہ طور پر کہا کہ وہ ایران کے خلاف raising lion 2 operation کرنے والے ہیں، امریکا ان کا ساتھ دے یا نا دے ۔

اس بیان کے بعد ایک غیر معمولی صورتحال عالمی میڈیا نے دیکھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان جاری کیا جس میں انھوں نے دائیں جانب مارکو روبیو کو بٹھایا اور بائیں جانب جے ڈی وینس کو بٹھایا اور کہا کہ ہم ایران پر حملہ کریں گے اگر ضرورت پڑی لیکن فوج بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے یہ بیان نیتن یاہو کو واضح پیغام تھا جس میں دیکھا جارہا تھا کہ ٹرمپ نیتن یاہو کے مطالبے کو ماننے کو تیار ہیں لیکن انکار کرنے کی جرات بھی نہیں ہے۔

یہ بیان اور اس کی ٹائمنگ کے ساتھ ساتھ اس تقریب کو اس لئے اہمیت دی جارہی ہے کیونکہ اس تقریب میں ٹکر کارلسن مدعو تھے۔ ٹکر کارلسن اس موقع پر کیوں اہم ہیں اس لئے کہ وہ اسرائیل کے مقابلے میں امریکی مفاد کو ہر موقع پر کھلے عام اولیت دینے کی بات کرتے ہیں، وہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی مداخلت کے مخالف ہیں، مریکا کی بیرونی جنگوں اور اسرائیل کو دی جانے والی مالی امداد پر سوال اٹھاتے ہیں ا نھیں غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں میں امریکی شمولیت پر اعتراض کیا اور وہ اسرائیل کے امریکی سیاست میں مداخلت کے سخت مخالف ہیں اس لئے ان کا اس موقع پر موجود ہونا خود ایک پیغام ہے۔

ابھی یہ صورتحال ختم نہیں ہوئی تھی کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 14ستمبر کو صیہونی ریاست اسرائیل کا دورہ کرتے ہیں جہاں انھوں نے صیہونی وزیراعظم سے ملاقات کی اور کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ ) کا دورہ بھی کیا اس دوران نیتن یاہو پارلیمنٹ میں کہتے ہیں کہ ہم بین المقدس کو یہودیانے کے لئے تیار ہیں۔ نیتن یاہو کہ اس بیان کا مقصد صاف تھا کہ امریکی وزیرخارجہ موجود ہے اس کی موجود گی میں یہ بیان دینے کا مطلب یہ ہے کہ امریکا اس بیان کو تسلیم کرتا ہے اور وہ اس کی حمایت کرتا ہے ۔ نیتن یاہو کے بیان پر جب مارکو روبیو سے سوال کیا گیا تو اس نے دوٹوک الفاظ میں اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فضول بات ہے ایسا کوئی منصوبہ امریکا کا نہیں ہے۔

اسرائیل مخالف ڈھکے چھپے جذبات کا اظہار تو عالمی میڈیا کم و بیش 10 سالوں سے دیکھ رہی ہے لیکن اب اس میں ایک غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اس کی ایک مثال سابق امریکی صدر بل کلنٹن کی ہے جنہوں نے جون 2025 میں ایک ٹی وی شو (The Daily Show) میں صیہونی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے بارے میں ایک بہت سخت بیان دیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جنگ کو ایک طریقہ بنایا ہے تاکہ وہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہ سکے انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے اور عام شہریوں کے قتل کو روکنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غیر ضروری ردعمل دے رہا ہے۔

یہاں میں بتانا چاہوں گا کہ اداروں کے درمیان ممالک کے درمیان اختلافات ہوتے ہیں لیکن وہ میڈیا کے سامنے نہیں آتے ہیں جبکہ امریکا اور اسرائیل کےدرمیان اختلاف بہت سارے شعبوں میں ہونے کے باوجود منظر عام پر نہیں آتے تھے لیکن اب صورتحال بہت بدل چکی ہے جس کے نیتجےمیں اب اختلافات  کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ صیہونی ریاست کی انٹیلیجنس ایجنسی موساد اور امریکی ایجنسی سی آئی اے میں موجود امریکی فرسٹرز کے درمیان سرد جنگ اب غیر معمولی طورپر بڑھ گئی ہے اور اس میں گہری دراڑ پڑ گئی ہے اور یہ درڑ اب ایجنسیوں سے نکل کر نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان پہنچ گئی ہے جس کے باعث ٹرمپ پر دباو ڈالا جارہا ہے کہ جب کہ ٹرمپ پر دباو میں کوئی خاص فائدہ نہیں ملا تو 

آپ کو 25 نومبر کو واشنگٹن میں فائرنگ کا واقع یاد ہوگا جس میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والا مشتبہ شخص ایک افغان شہری نکلا، جو ماضی میں افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ خدمات انجام دے چکا ہے اس واقع نے صدر ٹرمپ پر غیر معمولی دباو ڈالا تھا۔ امریکہ میں میڈیا اور عوام نے واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ اہلکاروں پر حملے کو بڑی خبر کے طور پر پیش کیا۔امریکی شہریوں نے صدر سے فوری اور سخت ردعمل کی توقع کی، خاص طور پر سکیورٹی اور امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے۔ٹرمپ کے تنقیدی حریف اور ناقدین نے کہا کہ ان کی امریکی سرحدوں اور پناہ گزینوں کی جانچ پالیسی ناکافی ہے۔کانگریس میں کئی سینیٹرز اور نمائندگان نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ افغان پناہ گزینوں اور تارکین وطن کی سکیورٹی چیک مزید سخت کریں۔بعض قانون سازوں نے کہا کہ یہ واقعہ امریکا میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کی جانچ میں خامیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ پارلیمانی اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں ٹرمپ نے امریکی امیگریشن اور پناہ گزین پالیسیوں پر نظر ثانی کا اعلان کیا۔ 

اسرائیل کی جانب سے ٹرمپ پر غیرمعمولی دباو ہے یہ اسی دباو کا نتیجہ ہے کہ ٹرمپ ایران کے خلاف سنگین تنائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن بات چیت بھی کررہے ہیں یعنی وہ اسرائیل کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتے لیکن اسرائیل کی بات ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں،۔

ایسے واقعے تو بہت سارے ہیں لیکن میں یہاں ایک اور واقع پیش کرنا چاہوں گا جب غزہ  فلسطینیوں کی نسل کشی کا اسرائیلی سلسلہ جاری تھا جس کے نیتجےمیں بحر احمر میں یمن کے حوثیوں نے سمندر کو اسرائیلی اور امریکی جہازوں کے لئے بند کردیا تھا تو مئی 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے نیتن یاہو کو بتائے بغیر حوثیوں کے ساتھ ایک جنگ بندی معاہدہ کر لیا تھا جس پر اسرائیل میں بڑی چہ مہ گوئیاں ہوئی تھی۔ امریکی سفیر نے بعد میں ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا کو ایسی ڈیلز کے لیے اسرائیل کی اجازت یا مشورہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

ایسا ہی ایک واقع غزہ میں امریکی شہری ادن الیگزینڈر کی رہائی کا ہوا جس کی رہائی کے لئے امریکا نے حماس سے براہ راست مذاکرات کئے اور حماس نے اس کو رہا کردیا یہاں بھی اسرائیل کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا جس پر اسرائیلی حکام نے تشویش اور حیرت کا اظہار کیا تھا ۔

یہاں میں کہوں گا کہ موساد اور سی آئی اے، ایک دوسرے کے خلاف اور نیتن یاہو اور ٹرمپ ایک دوسرے کے خلاف کام کررہےہیں لیکن یہاں سی آئی نے صیہونی خفیہ ایجنسی کے سب سے بڑے آپریشن کو بے نقاب کر دیا ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایپسٹین آئی لینڈ کی فائلوں کو عام کر دیا گیا جس کے باعث اسرائیلی اربوں ڈالرز کی بساط الٹ کر رکھ دی گئی ۔ اسرائیل کی جانب سے امریکا سمیت دنیا کے اہم ترین افراد جن پر اس نے کروڑوں ڈالرز کی سرمایا کاری کی تھی ان کی انتہائی حساس خفیہ معلومات اپنے پاس رکھی تھی اس کا کوئی نا کوئی مقصد تو ضرور تھا جس کو امریکا نے عام کر دیا اور اس طرح اسرائیل کی اربوں ڈالرز کی سرمایا کاری اور وہ سارا ڈیٹا جو انھوں نے بلیک میلنگ کے لئے استعمال کرنا تھا سارا کچھ کمپرومائز ہو گیا۔

تحریر: حسیب اصغر
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر