کامیابی کے شور میں اکثر وہ محنت چھپ جاتی ہے جو کامیابی تک پہنچنے کے لیئے کی گئی ہوتی ہے جبکہ جسے ناکامی بنا کر پیش کیا جا رہا ہوتا ہے در اصل ناکامی نہیں ہوتی۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے نظرانداز کرتے ہوئے پاکستان میں جاری حالیہ امریکہ-ایران مذاکرات پر بعض حلقوں کی جانب سےشدید تنقید کی جا رہی ہے کہ محض اکیس گھنٹوں میں کوئی حتمی معاہدہ کیوں سامنے نہیں آیا؟
دراصل جزباتی و جلدباز سوچ کے مالک ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ پانچ دہائیوں پر محیط امریکہ ایران دشمنی سے آگے نکلی ہوئی، اپنے مفادات پر گرفت کی جاری رسہ کشی روز اول سے اس نکتہ یکتا پر مرتکز ہے کہ "سب کچھ یا کچھ نہیں"بمعنی صلح میری شرائط پر ہو گی اور اس میں دونوں فریقین ہی اپنی اپنی جگہ مضبوط موقف و سخت گیر طرز عمل کے مالک دکھائی دیتے ہیں جو کہ دونوں فریقین کے ذاتی مفادات و نظریات کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئیے۔ عالمی تاریخ میں تاریخی معاہدات کا جائزہ لیا جائے تو کیمپ ڈیوڈ ایکارڈ بظاہر تیرہ دن کی مسلسل گفت و شنید کے بعد طے پایا مگر اس کے پیچھے بھی دہائیوں کی جنگ، سفارتی کوششیں اور عالمی دباؤ کارفرما تھا۔ اسی طرح اوسلو ایکارڈ، ڈیٹن ایگریمنٹ، اور پیرس پیس ایکارڈ نے کئی ماہ کی خفیہ بات چیت، برسوں کی سفارتکاری کے بعد تکیمیلی شکل اختیار کی۔
لہٰذا اسلام آباد میں جاری مذاکرات کو محض چند گھنٹوں یا ایک دن کے پیمانے پر جانچنا نہ صرف غیر سنجیدہ طرز عمل ہے بلکہ سفارتی عمل کی بنیادی نوعیت سے ناواقفیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ درحقیقت، جو کچھ عوام کے سامنے"پہلا دن "نظر آ رہا ہے، وہ دراصل ایک طویل بیک چینل اور پیشگی رابطوں کے سلسلے کا تسلسل ہے، جس میں مختلف سطحوں پر پیغامات، شرائط اور فریم ورک پہلے ہی زیر بحث آ چکے ہوتے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے تعلقات خود اس حقیقت کی ایک زندہ مثال ہیں۔ گو کہ موجودہ نوعیت کے ہائ لیول اعلانیہ مزاکرات اپنی نوعیت کے پہلے باضابطہ مزاکرات ہیں لیکن دونوں ممالک کے درمیان کھلے اور خفیہ مذاکرات کی ایک طویل تاریخ اپنی جگہ موجود ہے۔ 2001 میں افغانستان کے معاملے پر بون کانفرنس کے دوران دونوں کے درمیان محدود تعاون دیکھنے میں آیا۔ بعد ازاں 2012- 2013 میں عمان کے دارالحکومت مسقط میں خفیہ بیک چینل مذاکرات ہوئے، جنہوں نے بالآخر Joint Comprehensive Plan of Action کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد 2015 میں ویانا میں طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے نتیجے میں یہی معاہدہ طے پایا، جو تقریباً 20 ماہ کی رسمی بات چیت اور ایک دہائی سے زائد کشیدگی کے بعد ممکن ہوا۔یہاں یہ تشریح بھی ضروری ہے کہ یہ بائ لیٹرل یعنی دو ممالک کے بجائے ملٹی لیٹرل یعنی کثیر ملکی ہے۔ لیکن دونوں اکٹھے بیٹھے۔
اسی طرح 2019 سے 2023 کے درمیان بھی مختلف سطحوں پر خفیہ اور نیم اعلانیہ رابطے جاری رہے، جن میں بعض خلیجی ممالک نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ 2023- 2024 میں قیدیوں کے تبادلے اور فنڈز کی جزوی بحالی جیسے محدود معاہدے بھی انہی خاموش سفارتی کوششوں کا نتیجہ تھے۔ ان تمام مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ-ایران جیسے پیچیدہ تعلقات میں کوئی بھی پیش رفت مرحلہ وار، تدریجی اور اکثر غیر مرئی طریقے سے سامنے آتی ہے۔
پاکستان کا موجودہ کردار اسی تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے جبکہ دوسری جانب اعلانیہ دوبدو ملاقات جسکے بارے میں امریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ملاقات کے اختتامی اوقات میں دونوں فریقین کے دوران دوستانہ و بے تکلفانہ گفتگو کا تبادلہ بھی ہوا ہے جو کہ جنگ کے ماحول میں نہ صرف ایک بہت بڑی کامیابی ہے بلکہ اسلام آباد کے نہ صرف ایک میزبان بلکہ ایک فعال ثالث اور سہولت کار کے طور پر ابھرکر سامنے آنا بھی ہے۔ اعلانیہ تعریف کے ساتھ ساتھ سفارتی ذرائع کے مطابق، دونوں فریقین، امریکہ اور ایران، نے پاکستان کے کردار کو انتہائ مثبت قرار دیا ہے اور اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ ایک قابلِ اعتماد، متوازن اور بااعتماد چینل کی فراہمی کسی بھی پیش رفت کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی، سیاسی اور سفارتی حیثیت اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ ایسے حساس مذاکرات کے لیے ایک مؤثر پل کا کردار ادا کرے۔
یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ابتدائی مذاکراتی مراحل میں عمومی طور پر فریقین اپنے مؤقف واضح کرتے ہیں، اعتماد سازی کے اقدامات زیر غور آتے ہیں، اور ایک ممکنہ فریم ورک ترتیب دیا جاتا ہے۔ کسی بھی "اکارڈ " کا اعلان آخری مرحلہ ہوتا ہے، نہ کہ آغاز۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ اور موجودہ آئیرلینڈ کے درمیان ہونے والے گڈ فرائیڈے ایگریمنٹ جیسے معاہدے بھی آخری چند دنوں میں طے پائے، حالانکہ ان کے پیچھے برسوں کی محنت شامل تھی۔
موجودہ حالات میں بھی اشارے یہی بتاتے ہیں کہ مذاکرات ایک سنجیدہ اور نتیجہ خیز سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اگر ابتدائی مرحلے میں فریقین بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ ہیں، رابطے برقرار ہیں، اور ثالث پر اعتماد موجود ہے، تو یہ خود ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ ایسے میں فوری نتائج کا مطالبہ کرنا نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ بعض اوقات خود امن کی کوششوں کے عمل کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ مذاکرات مزید واضح شکل اختیار کریں گے، ممکنہ طور پر تکنیکی اور سیاسی سطح پر علیحدہ علیحدہ ورکنگ گروپس تشکیل پائیں گے، اور مرحلہ وار پیش رفت سامنے آئے گی۔ چند دن میں مزید ملاقاتیں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب حالات، ارادہ اور سفارتی چینلز ہم آہنگ ہو جائیں تو بظاہر سست رفتار عمل بھی اچانک ایک بڑی پیش رفت میں تبدیل ہو سکتا ہے۔یہ بھی اپنے آپ میں ایک بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ جنگ اسوقت رکی ہوئی ہے اور دونوں فریقین کو اس بات کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے کہ دنیا امن چاہتی ہے اور اس امن کے حصول کے لیئے مخلص کوشش کرنے والے ممالک میں سب سے پہلا نام پاکستان کا ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور انکی تمام ٹیم کی کاوشوں اور انتظامات کی جسطرح عالمی سطح پر تعریف کی جا رہی ہے وہ ہر پاکستانی کے لیئے قابل فخر ہے۔
مختصراً، اسلام آباد میں جاری مذاکرات کو ایک دن یا چند گھنٹوں کے پیمانے پر نہیں بلکہ ایک طویل سفارتی عمل کے تسلسل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اگر ماضی کی مثالوں کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ "اکارڈ کیوں نہیں ہوا"، بلکہ یہ ہے کہ "کیا فریقین ایک قابلِ عمل راستے پر آ چکے ہیں؟" اور اس سوال کا جواب، موجودہ اشاروں کی روشنی میں، محتاط مگر واضح طور پر مثبت دکھائی دیتا ہے۔
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







