لیکن افسوس… ان معصوم آوازوں سے زیادہ اونچی انا کی آواز تھی۔ ایک معمولی گھریلو تنازع، جو کبھی بات چیت سے حل ہو سکتا تھا، آج عدالت تک پہنچ چکا تھا۔ دونوں فریق اپنے اپنے دلائل میں اتنے الجھ چکے تھے کہ بچوں کی آنکھوں میں چھپی فریاد انہیں سنائی ہی نہیں دے رہی تھی۔
یہ منظر کوئی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
راولپنڈی کی ضلع بھر کی 45 فیملی کورٹس میں صرف تین ماہ کے اندر 4101 کیسز کا درج ہونا ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ ان کیسز میں طلاق، خلع، علیحدگی اور بچوں کی کسٹڈی جیسے معاملات شامل ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ کیسز کیوں درج ہوئے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟
کیا واقعی ہمارا فیملی سسٹم کمزور ہو رہا ہے؟
یا یہ ایک مثبت تبدیلی ہے کہ خواتین اب اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں؟
حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔
ایک طرف ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ معاشرتی ڈھانچہ بدل رہا ہے۔ پہلے جو رشتے برداشت، صبر اور خاموشی سے چلتے تھے، اب وہاں شعور، خودداری اور فوری ردعمل نے جگہ لے لی ہے۔ خواتین تعلیم یافتہ ہو رہی ہیں، اپنے حقوق کو پہچان رہی ہیں، اور ظلم یا ناانصافی کو چپ چاپ سہنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کر رہی ہیں۔ یہ تبدیلی اپنی جگہ درست بھی ہے، کیونکہ کسی بھی معاشرے میں انصاف اور برابری بنیادی اصول ہونے چاہئیں۔
لیکن دوسری طرف، ایک خطرناک رجحان بھی ابھر رہا ہے، عدم برداشت۔
چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے ختم کرنا، انا کو ترجیح دینا، سوشل میڈیا سے متاثر ہو کر غیر حقیقی توقعات قائم کرنا، اور ہر مسئلے کا فوری حل “علیحدگی” سمجھ لینا۔ یہ سب ایسے عوامل ہیں جو خاندان کے مضبوط ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔
ہم نے مکالمہ کھو دیا ہے۔
ہم نے برداشت کھو دی ہے۔
ہم نے “ہم” کی جگہ “میں” کو اہم بنا دیا ہے۔
اور اس سب کا سب سے بڑا نقصان کون اٹھا رہا ہے؟
وہ بچے… جو نہ ماں کا ساتھ چھوڑنا چاہتے ہیں، نہ باپ کا۔
وہ بچے… جو عدالتوں کے چکر لگا کر بچپن کھو دیتے ہیں۔
وہ بچے… جو راتوں کو یہ سوچ کر سوتے ہیں کہ کل وہ کس کے ساتھ ہوں گے۔
نفسیاتی ماہرین کے مطابق، ایسے بچے شدید ذہنی دباؤ، عدم تحفظ، اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت پر ایسے زخم لگتے ہیں جو عمر بھر ساتھ رہتے ہیں۔ وہ یا تو حد سے زیادہ خاموش ہو جاتے ہیں، یا پھر باغی بن جاتے ہیں۔ ان کی تعلیم، ان کا اعتماد، اور ان کا مستقبل، سب متاثر ہوتا ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے: حل کیا ہے؟
سب سے پہلے، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر اختلاف طلاق پر ختم ہونا ضروری نہیں۔
ہر جھگڑا علیحدگی کا تقاضا نہیں کرتا۔
شادی ایک جذباتی نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ بندھن ہے، جس میں اختلافات فطری ہیں۔ لیکن ان اختلافات کو سنبھالنے کا طریقہ سیکھنا ہوگا۔
ہمیں اپنے معاشرے میں “پری میریٹل کونسلنگ” کو فروغ دینا ہوگا، یعنی شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کو یہ سکھایا جائے کہ رشتہ کیسے نبھایا جاتا ہے، اختلافات کو کیسے حل کیا جاتا ہے، اور ایک دوسرے کی توقعات کو کیسے سمجھا جاتا ہے۔
اسی طرح، شادی کے بعد “فیملی کونسلنگ” کو عام کرنا ہوگا، تاکہ جب بھی کوئی مسئلہ پیدا ہو، اسے عدالت کے بجائے بات چیت اور رہنمائی سے حل کیا جا سکے۔
بزرگوں کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ پہلے خاندانوں میں بڑے مسائل کو سلجھاتے تھے، آج ہم نے انہیں اس عمل سے الگ کر دیا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر، ہمیں اپنے بچوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔
ہر فیصلہ کرتے وقت یہ سوال خود سے پوچھنا ہوگا:
“کیا یہ میرے بچوں کے حق میں بہتر ہے؟”
اگر جواب “نہیں” ہو، تو ہمیں رک کر دوبارہ سوچنا چاہیے۔
یہ وقت ہے کہ ہم انا سے اوپر اٹھیں،
بات چیت کو فروغ دیں،
اور اپنے رشتوں کو بچانے کی کوشش کریں۔
کیونکہ ٹوٹا ہوا گھر صرف دو افراد کو نہیں توڑتا وہ ایک پوری نسل کو متاثر کرتا ہے۔
اور شاید… اگلی بار جب ہم کسی عدالت کے کمرے میں کھڑے ہوں، تو ہمیں اپنے بچوں کی آنکھوں میں وہ سوال نظر آئے۔
“کیا واقعی یہ سب ضروری تھا؟”
تحریر: عمر عبد الرحمن جنجوعہ
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر







