چین اورامریکہ سمیت دنیابھرمیں اس دورے کوکیسے دیکھاجارہاہے اس پر بات کرنے سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان معاشی، عسکری،تجارتی اورٹیکنالوجیکل ڈور کوسمجھناضروری ہے۔ 

تجارتی طاقت میں کون آگے ہے؟

سن 2001 میں  امریکہ دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ تھا۔جب امریکی برآمدات کا حجم 729 ارب ڈالرجب کہ چینی برآمدات 266 ارب ڈالرتھیں۔اس وقت صرف 30 معیشتیں ایسی تھیں جو چین کے مقابلے میں امریکہ سے زیادہ تجارت کرتی تھیں۔آج 2026میں چین دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹر بن چکا ہے۔چینی برآمدات 3.59 ٹریلین ڈالرجب کہ امریکی برآمدات 1.9 ٹریلین ڈالرہیں۔ اس وقت 145 ممالک چین کے ساتھ امریکہ سے زیادہ تجارت کرتے ہیں۔ 

امریکہ اور چین ایک دوسرے سے کیا خریدتے ہیں؟

دونوں ممالک 2025 میں500 ارب ڈالر سے زیادہ کی تجارت کر چکے ہیں۔امریکہ چین سےالیکٹرانکس،مشینری ،صنعتی مصنوعات خریدتا ہے۔جبکہ چین امریکہ سےزرعی اجناس ،طیارے اورٹیکنالوجی مصنوعات خریدتا ہے۔لیکن دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر بھاری ٹیرف بھی عائد کررکھے ہیں۔اس سے عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔ 

فوجی طاقت میں کون آگے ہے؟

امریکہ اب بھی دنیا کا سب سے بڑا فوجی اخراجات کرنے والا ملک ہے۔2025 کے اعدادوشمارکے مطابق امریکی فوجی اخراجات 954 ارب ڈالرجب کہ چینی فوجی اخراجات 336 ارب ڈالررہے۔امریکہ اپنے  GDP کا 3.1 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔ جب کہ چین اپنے GDP کا 1.7 فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے۔دونوں ممالک مجموعی طورپردنیا کے فوجی اخراجات کا نصف سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔

گرین انرجی

ماحولیاتی تبدیلی اور گرین انرجی کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ چین نے قابلِ تجدید توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں بہت بڑی سرمایہ کاری کی ہے اور وہ گرین ٹیکنالوجی میں امریکہ سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری جانب امریکہ اب بھی عالمی مالیاتی نظام، ڈالر کی حیثیت، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور فوجی اتحادوں کی وجہ سے مضبوط پوزیشن رکھتا ہے۔

ٹیکنالوجی کی جنگ

امریکہ اور چین کے درمیان سب سے اہم مقابلہ اب ٹیکنالوجی کے میدان میں ہو رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم کمپیوٹنگ اور 5G جیسی ٹیکنالوجیز مستقبل کی عالمی طاقت کا تعین کریں گی۔ امریکہ چین کی جدید چِپ ٹیکنالوجی تک رسائی محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ چین خودمختار ٹیکنالوجی نظام قائم کرنے پر کام کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ جنگ اب عالمی سیاست کا مرکزی موضوع بن چکی ہے۔

صدرٹرمپ کاحالیہ دورہ اورامریکہ چین تعلقات کا مستقبل؟

بیجنگ میں دو روزہ مذاکرات کے دوران  صدر ٹرمپ اور صدرشی جن پنگ کے درمیان باہمی احترام اورخوش گوار ملاقات کی جھلک ضرورنظرآئی، تاہم مختلف بیانات سے ظاہر ہوا کہ تجارتی جنگ میں عارضی جنگ بندی بڑھانے یا تائیوان، ایران اور مصنوعی ذہانت جیسے حساس معاملات پر اختلافات کم کرنے میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کی گفتگو نے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں دونوں ملکوں کےمتضاد نقطہ ہائے نظر کو بھی نمایاں کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس دورے کو کامیاب قرار دیا۔ شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک “معاشی اور تجارتی تعلقات کو مستحکم رکھنے، مختلف شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کے خدشات کو مناسب انداز میں حل کرنے” پر متفق ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے شی جن پنگ کو اپنا دوست قرار دیا، چین کی ترقی کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک نے “شاندار تجارتی معاہدے” کیے ہیں۔ انہوں نے شی جن پنگ کو ستمبر میں امریکہ کے دورے کی دعوت بھی دی۔تاہم ٹرمپ کی روانگی کے کئی گھنٹے بعد بھی یہ واضح نہ ہو سکا کہ دونوں ممالک نے تجارتی جنگ میں ایک سالہ جنگ بندی کو بڑھانے کا بنیادی ہدف حاصل کیا یا نہیں۔ گزشتہ سال عالمی معیشت شدید متاثر ہوئی تھی جب امریکہ نے چین کی بعض مصنوعات پر 145 فیصد تک ٹیرف عائد کیے تھے، جس کے جواب میں چین نے بھی امریکی اشیا پر جوابی ٹیرف اور نایاب معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

امریکی وزیر خزانہ Scott Bessent نے بتایا کہ دونوں ممالک ایک “بورڈ آف ٹریڈ” بنانے پر بات کر رہے ہیں تاکہ کم حساس چینی مصنوعات پر ٹیرف کم کیے جا سکیں، جبکہ ایک “بورڈ آف انویسٹمنٹ” کے ذریعے چین کی  سرمایہ کاری کو امریکہ میں آسان بنایا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کے طاقتور ماڈلز کو غیر ریاستی عناصر تک پہنچنے سے روکنے کے لیے ایک نیا پروٹوکول تیار کیا جا رہا ہے۔ تاہم اجلاس کے دوران یا فوراً بعد کسی باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ خود ٹرمپ نے بعد میں صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے شی جن پنگ کے ساتھ ٹیرف کے معاملے پر بات ہی نہیں کی۔

امریکی حکام کے مطابق ایک اہم معاہدہ یہ تھا کہ چین 200 Boeing طیارے خریدے گا۔ اگرچہ 500 طیاروں کے بڑے معاہدے کی توقع تھی، لیکن 200 طیاروں کا سودا بھی 2017 کے بعد چین میں بوئنگ کا سب سے بڑا معاہدہ ہوتا۔ اسی طرح امریکہ کو امید تھی کہ چین 10 ارب ڈالر سے زائد زرعی مصنوعات، بشمول گائے کا گوشت اور سویابین، خریدنے پر آمادہ ہو جائے گا۔ یہ امریکی کسانوں کے لیے اہم تھا کیونکہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں یہ ریپبلکن پارٹی کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا تھا۔ تاہم چین نے ان معاہدوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ 

امریکی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ٹرمپ نے شی جن پنگ سے مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے لیے نئے وعدے حاصل کیے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ دونوں رہنما ایران کے معاملے پر “ایک جیسا سوچتے ہیں” اور چین نے ایران کو جنگ کے دوران ہتھیار نہ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم چینی بیان میں ایسے کسی وعدے کا ذکر نہیں تھا۔ چین نے صرف اتنا کہا کہ “اس جنگ کو جاری رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ جنگ شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔” 

چینی بیان میں خاص طور پر تائیوان کے مسئلے پر زور دیا گیا۔ شی جن پنگ نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے سےغلط اندازسے نمٹاگیا تو امریکہ اور چین کے درمیان تصادم ہو سکتا ہے۔ چین چاہتا تھا کہ امریکہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کم کرے اور کھل کر تائیوان کی آزادی کی مخالفت کرے۔ ٹرمپ نے بھی دورے سے پہلے کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ کے ساتھ تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملے پر بات کریں گے، جس سے تائیوان اور اس کے حامیوں میں تشویش پیدا ہوئی۔

شی جن پنگ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ دنیا ایک “ایسی تبدیلی سے گزر رہی ہے جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئی”، جو دراصل امریکی قیادت والے عالمی نظام کے کمزور ہونے کی طرف اشارہ تھا۔ انہوں نے “Thucydides Trap” کا حوالہ بھی دیا، جس کے مطابق ایک ابھرتی ہوئی طاقت اور ایک قائم شدہ طاقت کے درمیان تصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر لکھا کہ شی جن پنگ نے “بڑے خوبصورت انداز میں امریکہ کو ایک زوال پذیر طاقت” قرار دیا، لیکن انہوں نے کہا کہ شی دراصل جو بائیڈن کے دور کے امریکہ کی بات کر رہے تھے۔

مجموعی طور پر، بیجنگ میں ہونے والی اس ملاقات میں بظاہر گرمجوشی، سفارتی آداب اور خوشگوار ماحول دکھائی دیا، لیکن حقیقت میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تائیوان، ایران، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقت کے توازن جیسے معاملات پر اختلافات بدستور موجود رہے۔ اس لیے اگرچہ یہ سربراہی اجلاس ظاہری طور پر کامیاب دکھائی دیا، لیکن امریکہ اور چین اب بھی عالمی سیاست کے دو مختلف راستوں پر چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

مجموعی طور پر امریکہ اور چین کے درمیان یہ مقابلہ صرف دو ممالک کی کشمکش نہیں بلکہ مستقبل کے عالمی نظام، معیشت، ٹیکنالوجی اور طاقت کے توازن کا مقابلہ ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے حریف بھی ہیں اور ایک دوسرے پر معاشی طور پر انحصار بھی کرتے ہیں۔ اسی لیے امریکی صدر کا چین کا دورہ پوری دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے اثرات آنے والے برسوں میں عالمی سیاست اور معیشت پر نمایاں طور پر محسوس کیے جائیں گے۔

تحریر: محمد عامر

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر