اگرچہ مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دہشت گردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن یہ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ صرف عسکری اور سیکیورٹی اقدامات انتہاپسندی کے مسئلے کا مستقل حل فراہم نہیں کر سکتے۔ پائیدار امن کے لیے ایک ایسے جامع نقطۂ نظر کی ضرورت ہے جو معاشرے کی فکری، سماجی، تعلیمی اور معاشی بنیادوں کو مضبوط بنائے۔

 اسلامی تعلیمات، میثاقِ مدینہ، خلفائے راشدین کی حکمرانی، آئینِ پاکستان اور معاصر علماء کی علمی کاوشیں اس سلسلے میں مضبوط فکری بنیاد فراہم کرتی ہیں۔انتہاپسندی کے فکری سدباب کے لیے مذہبی بیانیے کا درست فہم بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ شدت پسند گروہ اکثر مذہبی تصورات کو مسخ کرکے تشدد کو جواز فراہم کرتے ہیں۔ تاہم قرآنِ مجید اس سوچ کی واضح نفی کرتا ہے۔ قرآن کا بنیادی اصول انسانی جان کا احترام ہے۔ 

سورۃ المائدہ میں ارشاد ہے کہ جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا، اور جس نے ایک جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔

 یہ اصول انتہاپسند نظریات کی مکمل تردید کرتا ہے۔اسی طرح قرآن مجید فساد فی الارض کی سخت مذمت کرتا ہے، جسے اسلامی فقہ میں ایسے تمام اعمال سے تعبیر کیا گیا ہے جو معاشرے میں خوف، بدامنی اور انتشار پیدا کریں۔ اسلام امن، عدل، انصاف اور سماجی استحکام کا دین ہے۔ قرآن بار بار انصاف پر قائم رہنے کی تاکید کرتا ہے، چاہے اس کے لیے ذاتی یا گروہی مفادات ہی کیوں نہ قربان کرنا پڑیں۔ یہی اصول ایک منصفانہ معاشرے کی تشکیل کرتا ہے جو انتہاپسند بیانیے کی بنیادیں کمزور کر دیتا ہے۔اسلامی تعلیمات کا ایک اہم پہلو دعوت، مکالمہ اور حکمت ہے۔ قرآن مسلمانوں کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ لوگوں تک حکمت اور اچھے اندازِ گفتگو کے ذریعے پہنچیں۔ یہی اصول انسدادِ انتہاپسندی کے لیے بھی ایک مؤثر حکمتِ عملی فراہم کرتا ہے، کیونکہ فکری طور پر متاثر افراد کو مکالمے، تعلیم اور رہنمائی کے ذریعے واپس لانا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

اس فکری ماڈل کی عملی مثال میثاقِ مدینہ میں ملتی ہے، جسے نبی اکرم ﷺ نے 622ء میں مدینہ منورہ میں قائم فرمایا۔ یہ تاریخ کی ابتدائی آئینی دستاویزات میں سے ایک ہے، جس نے ایک کثیر الثقافتی معاشرے کو اجتماعی سلامتی، قانون کی حکمرانی، باہمی ذمہ داری اور مذہبی آزادی کی بنیاد پر متحد کیا۔آج کے پاکستان کے لیے یہ ماڈل غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ انتہاپسندی وہاں بڑھتی ہے جہاں سماجی تقسیم گہری ہو اور ریاستی اداروں پر اعتماد کمزور ہو۔ میثاقِ مدینہ یہ سبق دیتا ہے کہ مضبوط معاشرے شراکت، تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں پر قائم ہوتے ہیں۔ جب شہری ریاستی نظام پر اعتماد کرتے ہیں تو انتہاپسند بیانیہ اپنی کشش کھو دیتا ہے۔خلفائے راشدین کے ادوار بھی اس حوالے سے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ریاستی وحدت کو برقرار رکھا، حضرت عمر فاروقؓ نے عدالتی نظام اور احتساب کو مضبوط کیا، حضرت عثمان غنیؓ نے قرآن مجید کی تدوین کے ذریعے دینی تحریف کا راستہ بند کیا، جبکہ حضرت علیؓ نے خوارج جیسے انتہاپسند گروہ کے خلاف جنگ میں مکالمے اور علمی استدلال کو ترجیح دی۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ہزاروں افراد محض فکری مکالمے کے ذریعے اپنے نظریات سے دستبردار ہو گئے۔عصرِ حاضر میں انتہاپسندی کے خلاف ایک اہم علمی پیش رفت ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا

2010ء کا تفصیلی فتویٰ ہے، جس میں قرآن و سنت اور اسلامی فقہ کی روشنی میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کو قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہ فتویٰ انتہاپسند گروہوں کے نظریاتی جواز کو مکمل طور پر رد کرتا ہے۔

پاکستان میں انتہاپسندی کے اسباب تاریخی بھی ہیں اور سماجی بھی۔ 1980ء کی دہائی کی افغان جنگ نے خطے میں اسلحہ، عسکری نیٹ ورکس اور نظریاتی شدت پسندی کو فروغ دیا۔ بعد ازاں علاقائی تنازعات نے اس عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ اگرچہ ریاستی کارروائیوں سے دہشت گرد تنظیمیں کمزور ہوئیں، لیکن غربت، بے روزگاری، تعلیم کی کمی، کمزور حکمرانی اور سماجی محرومی جیسے عوامل اب بھی موجود ہیں۔پاکستان کا آئین اس حوالے سے ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو شہریوں کو بنیادی حقوق، مساوات، مذہبی آزادی اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ یہ اصول میثاقِ مدینہ کے فکری تسلسل سے ہم آہنگ ہیں اور ایک منصفانہ معاشرے کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

انسدادِ انتہاپسندی کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی ضروری ہے جس میں روک تھام، بحالی، احتساب، فکری رہنمائی اور معاشی مواقع شامل ہوں۔ مساجد، مدارس، تعلیمی ادارے، خاندان اور مقامی کمیونٹیز اس میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ علماء اور اساتذہ نوجوانوں کی درست رہنمائی کر سکتے ہیں، جبکہ والدین ابتدائی علامات کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بحالی کے پروگراموں میں مذہبی تعلیم، نفسیاتی مشاورت، فنی تربیت اور سماجی معاونت کو شامل کرنا ضروری ہے تاکہ متاثرہ افراد دوبارہ معاشرے کا حصہ بن سکیں۔ ساتھ ہی ریاستی اداروں اور عدلیہ پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنانا بھی ناگزیر ہے، کیونکہ انصاف ہی انتہاپسندی کا سب سے مؤثر توڑ ہے۔

معاشی استحکام بھی اس حکمتِ عملی کا اہم ستون ہے۔ اگرچہ غربت براہ راست انتہاپسندی کی وجہ نہیں، لیکن معاشی محرومی نوجوانوں کو آسان ہدف بناتی ہے۔ روزگار، فنی تربیت اور کاروباری مواقع اس رجحان کو کم کر سکتے ہیں۔اس عمل میں خواتین کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ اکثر انتہاپسندی کے ابتدائی آثار سب سے پہلے محسوس کرتی ہیں اور معاشرتی سطح پر مثبت تبدیلی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے اس مسئلے میں مزید اہم بناتی ہے۔ یہ ملک جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کے درمیان ایک اسٹریٹیجک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) اور افغانستان سے قربت اسے علاقائی سلامتی کا اہم مرکز بناتے ہیں۔مستقبل میں مؤثر انسدادِ انتہاپسندی کے لیے ضروری ہے کہ اعتدال پسند بیانیے کو فروغ دیا جائے، نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار فراہم کیا جائے، ڈیجیٹل پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا جائے، اور تمام سماجی طبقات کو اس عمل میں شامل کیا جائے۔آخر میں، پاکستان کی جدوجہد اگرچہ پیچیدہ ہے، لیکن اس کے پاس مضبوط فکری اور مذہبی بنیادیں موجود ہیں۔ قرآن و سنت، میثاقِ مدینہ، خلفائے راشدین کا طرزِ حکمرانی، آئینِ پاکستان اور جدید علمی رہنمائی مل کر ایک ایسا راستہ دکھاتے ہیں جس کے ذریعے پائیدار امن، مکالمہ اور قومی یکجہتی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک پرامن، مستحکم اور مضبوط ریاست میں تبدیل کر سکتا ہے۔

تحریر : پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، ماہر معاشیات ،بین الاقوامی امور 

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر