صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس کہ ایران کی فوجی طاقت مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے، زمینی حقائق ایک مختلف کہانی سنا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں بیان دیا کہ امریکی حملوں نے ایران کی بحریہ اور فضائیہ کو 100 فیصد تباہ کر دیا ہے۔  ماہرین تو کچھ اور ہی کہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ایران نے اپنی روایتی طاقت کے بجائے غیر روایتی (Asymmetric) جنگی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ ساحلوں پر چھپائی گئی اینٹی شپ میزائلیں، ڈرونز کا بے پناہ استعمال اور سمندری بارودی سرنگوں کے خطرے نے بڑی بحری طاقتوں کو بھی الجھا کر رکھ دیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں عام بحری ٹریفک میں 97 فیصد کمی آئی ہے، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اب وہی جہاز وہاں سے گزر رہے ہیں جنہیں تہران کی جانب سے "براہِ راست اجازت" مل رہی ہے۔

جہاں امریکہ ایک عالمی فوجی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں انڈیا جیسے ممالک نے تہران سے براہِ راست مذاکرات کر کے اپنے ٹینکرز کے لیے محفوظ راستہ حاصل کر لیا ہے۔

فرانس، جرمنی اور آسٹریلیا جیسے ممالک نے امریکی اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کے صاف انکار کے بعد تو ٹرمپ نے اپنے پیغام میں بے بسی کا اظہار بھی کیا ہے۔

ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکا نے اتحادی ممالک سے مدد طلب کی تھی تاکہ خلیج میں تجارتی جہاز محفوظ رہ سکیں، خاص طور پر اُس وقت جب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز اور دیگر تجارتی جہاز شدید خطرات سے دوچار ہیں۔

انہوں نے شکوہ کیا کہ بیشتر نیٹو اتحادی ممالک ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے رہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر سال اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، لیکن ضرورت کے وقت وہی ممالک ہمارا ساتھ نہیں دیتے۔ یہ اتحاد اکثر یک طرفہ ثابت ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل، امریکا کے خلاف جنگ، ایران اتنا پر اعتماد کیوں ہے؟

امریکا نے اب تک ایران کی تیل کی تنصیبات (جیسے جزیرہ خارک) کو نشانہ بنانے سے گریز کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اگرایران کی تیل کی رصد مکمل طور پر بند ہوئی تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اس حد تک بڑھ جائیں گی کہ عالمی معیشت سنبھلنا مشکل ہو جائے گی۔ ایران اسی کمزوری کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ’ایران نے اپنی جغرافیائی اہمیت کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔ جب تک دنیا کو تیل کی ضرورت ہے، آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ایک ایسی حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔‘

28 فروری 2026 سے شروع ہونے والی اس جنگ نے ایران کی قیادت اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے مگر اب تہران "گیٹ کیپر" (Gatekeeper) کے طور پر کام کر رہا ہے۔ وہ یہ طے کر رہا ہے کہ کس ملک کا جہاز گزرے گا اور کس کا نہیں۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ جدید دور کی جنگ صرف بمباری سے نہیں جیتی جا سکتی، بلکہ جغرافیائی اہمیت اور عالمی سپلائی چین پر گرفت زیادہ بڑا ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر