تقریب کا مشترکہ اہتمام لاہور میں چین کے قونصل خانے، لاہور اوورسیز چائنیز ایسوسی ایشن کے صدر لوو جیان شوئے، پاکستان چائنیز بزنس کونسل کے صدر چن چیان جیانگ، شینڈونگ چیمبر آف کامرس اِن پاکستان کے صدر چینگ شیاو نونگ اور پانڈا انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے صدر چن یان نے کیا۔ اس موقع پر ہانگ کانگ سے تعلق رکھنے والے چینی باشندوں، سنکیانگ سے وابستہ اوورسیز چینی نمائندوں، چینی کاروباری برادری اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے اراکین نے بھی شرکت کی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی لاہور میں چین کے قونصل جنرل، عزت مآب سن یان تھے۔ ان کے ہمراہ قونصلر سیکشن کے ڈائریکٹر ژاؤ، قونصل اتاشی فین، قونصل اتاشی مس کاؤ شِن چی اور آفس ڈائریکٹر یے سمیت قونصل خانے کے دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ تقریب کے دوران "غیر متزلزل عزم کی 105 سالہ روشن داستان" اور " میں پندرھواں مشعل بردار ہوں" کے عنوان سے دو مختصر ڈاکیومنٹریز پیش کی گئیں، جن میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے 105 سالہ سفر، قومی ترقی، تاریخی کامیابیوں اور مستقبل کے ویژن کو اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر اوورسیز چینی برادری، ہانگ کانگ اور سنکیانگ کے نمائندوں اور کاروباری شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے چین کی معاشی ترقی میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے کردار کو سراہا۔ مقررین نے چین۔پاکستان دوستی، چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کامیابیوں اور دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی و تجارتی تعاون پر بھی روشنی ڈالی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاہور میں چین کے قونصل جنرل عزت مآب سن یان نے کہا کہ چینی قونصل خانہ لاہور، مقامی چینی برادری کے ساتھ مل کر کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے قیام کی 105ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے پاکستانی دوست ان سے اکثر چین کی غیرمعمولی ترقی کا راز پوچھتے ہیں۔ اس پر وہ ہمیشہ یہی جواب دیتے ہیں کہ "چین کی کامیابی کی بنیاد کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کی قیادت ہے۔

" سن یان نے کہا کہ کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ نے ہمیشہ عوام کو اپنی حکمرانی اور ترقیاتی پالیسیوں کا محور بنایا ہے، جبکہ عوام کی فلاح، پائیدار ترقی اور سماجی استحکام کو اولین ترجیح دی ہے۔ انہی اصولوں کی بدولت چین نے سماجی اور معاشی میدان میں غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کیں اور آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے نہ صرف اپنی ترقی پر توجہ دی بلکہ عالمی امن، ترقی اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ کے لیے بھی متعدد اہم اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو  اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو سمیت چار اہم عالمی اقدامات پیش کیے ہیں۔ انہوں نے عالمی نظم و نسق سے متعلق چین کے حالیہ وائٹ پیپر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ایک منصفانہ، مساوی اور سب کے لیے فائدہ مند عالمی نظام کی تشکیل ہے۔ قونصل جنرل نے چین کی عالمی تجاویز، خصوصاً گلوبل گورننس انیشی ایٹو کی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 2026 چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کا سال ہے، جو دونوں ممالک کی لازوال دوستی کا مظہر ہے۔

سن یان نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے دوسرے مرحلے کے آغاز سے چین کے ترقیاتی تجربات پاکستان کی معاشی ترقی اور صنعتی جدیدکاری میں مزید معاون ثابت ہوں گے۔ چینی قونصل جنرل نےکہا، "چین اور پاکستان کی مشترکہ کوششوں سے سی پیک کا دوسرا مرحلہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے مزید ثمرات لائے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ پاک چین ہمہ موسمی تزویراتی تعاون مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا اور دونوں ممالک کا مستقبل انتہائی روشن اور خوشحال ہے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے چین اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید مستحکم بنانے، عوامی روابط کے فروغ اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنہ کے 105 سالہ سفرِ قیادت، ترقی اور قومی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

تحریر: حسنین اولکھ

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر