یہ وہ تاریخ ہے جب ایرک ایڈمز پر رشوت اور فراڈ کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
اس اقدام پر اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے سابق میئر کے حالیہ احکامات منسوخ کر کے یہود دشمنی کی بھڑکتی آگ میں مزید ایندھن ڈال دیا ہے۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میئر کے طور پر اپنے پہلے ہی دن ممدانی نے اپنا اصل چہرہ دکھا دیا۔ بیان کے مطابق انہوں نے یہود دشمنی کی IHRA تعریف کو منسوخ کیا اور اسرائیل کے بائیکاٹ پر عائد پابندیاں اٹھا لیں۔ وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ قیادت نہیں بلکہ یہود دشمنی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔
دوسری جانب کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور شہری آزادیوں کی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ IHRA تعریف آزادیٔ اظہار کو محدود کرتی تھی اور اسرائیلی حکومت پر تنقید کو غلط طور پر یہود دشمنی قرار دیا جاتا تھا۔
واضح رہے کہ ظہران ممدانی نے قرآن مجید پر نیویارک کے میئر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ انہیں حلف یہودی رہنما اور امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے دلوایا۔ حلف برداری کی تقریب میں متعدد یہودی رہنما بھی شریک تھے۔
بطور میئر پہلے ہی دن ممدانی کے فیصلوں نے انہیں ایک جرات مند اور اصلاح پسند رہنما کے طور پر پیش کیا ہے، تاہم اسرائیل نواز حلقوں اور بڑی یہودی تنظیموں میں ان اقدامات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ ظہران ممدانی کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر تنقید اور یہود دشمنی کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔






