چین میں اس ہفتے نافذ ہونے والے اس قانون کے تحت حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ملک سے باہر موجود ایسے افراد یا گروہوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کر سکے جن پر "نسلی اتحاد کو نقصان پہنچانے یا علیحدگی پسندی پر اکسانے" کا الزام ہو۔

یورپی یونین کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ چین کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیارات اور اقوام متحدہ کے تحت کیے گئے اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے نسلی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ یورپی یونین کسی بھی ملک کی جانب سے اپنے قوانین کا بین الاقوامی سرحدوں سے باہر اطلاق کرنے کی مخالفت کرتی ہے اور ایسے اقدامات کو بین الاقوامی قانون کے خلاف سمجھتی ہے۔

چین نے یہ قانون مارچ میں منظور کیا تھا جس کا مقصد ملک کے 55 نسلی اقلیتی گروہوں، جن میں تبتی اور اویغور بھی شامل ہیں، کے درمیان ایک مشترکہ قومی شناخت کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔

دوسری جانب چین کے ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے گزشتہ ہفتے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو بیرون ملک موجود ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا حق حاصل ہے جو چینی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور یہ اقدام بین الاقوامی قانونی روایات کے مطابق ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سے قبل بھی الزام عائد کر چکی ہیں کہ چین سیاسی مخالفین کے خلاف انٹرپول کے ریڈ نوٹسز اور دیگر بین الاقوامی ذرائع استعمال کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے 2020 الیکشن کی خفیہ فائلیں کھولنے کی اجازت دے دی

ادھر تائیوان نے بھی نئے قانون پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ اسے تائیوان کے حامیوں اور مبینہ علیحدگی پسندوں کے خلاف ایک نئے قانونی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ تائیوان کی مین لینڈ افیئرز کونسل نے اعلان کیا کہ وہ چین کی مبینہ دھمکیوں اور بین الاقوامی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم خیال ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان کی حکومت ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ چینی قوانین کا اس کی سرزمین پر کوئی قانونی اختیار نہیں۔